25. طب کا بیان

【1】

علاج معالجہ کرنے والے آدمی کا بیان

اسامہ بن شریک (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح (بیٹھے) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا، اتنے میں ادھر ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم دوا کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : دوا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : * تخريج : سنن النسائی/الکبری الطب، ٤٣ (٧٥٥٣) ، سنن الترمذی/الطب ٢ (٢٠٣٨) ، سنن ابن ماجہ/الطب ١ (٣٤٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٧٨) (صحیح )

【2】

پرہیز کا بیان

ام منذر بنت قیس انصاریہ (رض) کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ کے ساتھ علی (رض) تھے، ان پر کمزوری طاری تھی ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر انہیں کھانے لگے، علی (رض) بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے علی (رض) سے فرمایا : ٹھہرو (تم نہ کھاؤ) کیونکہ تم ابھی کمزور ہو یہاں تک کہ علی (رض) رک گئے، میں نے جو اور چقندر پکایا تھا تو اسے لے کر میں آپ کے پاس آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : علی ! اس میں سے کھاؤ یہ تمہارے لیے مفید ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہارون کی روایت میں انصاریہ کے بجائے عدویہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/ الطب ١ (٣٠٣٧) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٣ (٣٤٤٢) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٦٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٦٣، ٣٦٤) (حسن )

【3】

پچھنے لگانے کا بیان

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جن دواؤں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر (بھلائی) ہے تو وہ سینگی (پچھنے) لگوانا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطب ١(٢٠٣٧) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٠ (٣٤٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٠١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٤٢، ٤٢٣) (صحیح )

【4】

پچھنے لگانے کا بیان

رسول اللہ ﷺ کی خادمہ سلمی (رض) سے روایت ہے کہ جو شخص بھی اپنے سر درد کی شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آتا آپ اسے فرماتے : سینگی لگواؤ اور جو شخص اپنے پیروں میں درد کی شکایت لے کر آتا آپ ﷺ اس سے فرماتے : ان میں خضاب (مہندی) لگاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطب ١٣ (٢٠٥٤) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٩ (٣٥٠٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٦٢) (حسن )

【5】

پچھنے کی جگہ کا بیان

ابوکبشہ انماری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے سر پر اور اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان سینگی (پچھنے) لگواتے اور فرماتے : جو ان جگہوں کا خون نکلوالے تو اسے کسی بیماری کی کوئی دوا نہ کرنے سے کوئی نقصان نہ ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ (٣٤٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٤٣) (ضعیف) (الضعیفة : ١٨٦٧، وتراجع الألباني : ١٩٤ )

【6】

پچھنے کی جگہ کا بیان

انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے گردن کے دونوں پٹھوں میں اور دونوں کندھوں کے بیچ میں تین پچھنے لگوائے۔ ایک بوڑھے کا بیان ہے : میں نے پچھنا لگوائے تو میری عقل جاتی رہی یہاں تک کہ میں نماز میں سورة فاتحہ لوگوں کے بتانے سے پڑھتا، بوڑھے نے پچھنا اپنے سر پر لگوایا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطب ١٢ (٢٠٥١) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ ( ٣٤٨٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٩، ١٩٢) (صحیح )

【7】

پچھنے لگوانا کب مستحب ہے

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگوائے تو اسے ہر بیماری سے شفاء ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٦٥٨) (حسن )

【8】

پچھنے لگوانا کب مستحب ہے

کبشہ بنت ابی بکرہ نے خبر دی ہے ١ ؎ کہ ان کے والد اپنے گھر والوں کو منگل کے دن پچھنا لگوانے سے منع کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے تھے : منگل کا دن خون کا دن ہے اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون بہنا بند نہیں ہوتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٧٠٧) (ضعیف) ( کبشہ یا کیسہ مجہول ہے ) وضاحت : ١ ؎ : اور موسیٰ کے علاوہ دوسرے لوگوں کی روایت میں کبشہ کے بجائے کیّسہ ہے۔

【9】

رگ کاٹنے اور پچھنے لگانے کی جگہ کا بیان

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنی سرین پر پچھنے لگوائے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٩٧٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ (٣٤٨٥) ، مسند احمد (٣٠٥٣، ٣٥٧، ٣٨٢) (صحیح )

【10】

رگ کاٹنے اور پچھنے لگانے کی جگہ کا بیان

جابر (رض) کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ابی (رض) کے پاس ایک طبیب بھیجا تو اس نے ان کی ایک رگ کاٹ دی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢٠٧) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٤ (٣٤٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٠٣، ٣٠٤، ٣١٥، ٣٧١) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی طبیب کو اختیار ہے کہ اپنے تجربہ سے جہاں بہتر سمجھے وہاں کی رگ کاٹے، تو اس طبیب نے ان کی بابت یہی بہتر سمجھا۔

【11】

داغ لگانے کا بیان

عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے داغنے سے منع فرمایا، اور ہم نے داغ لگایا تو نہ تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ ہوا، نہ وہ ہمارے کسی کام آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وہ فرشتوں کا سلام سنتے تھے جب داغ لگوانے لگے تو سننا بند ہوگیا، پھر جب اس سے رک گئے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ آئے (یعنی پھر ان کا سلام سننے لگے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٨٤٥) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الطب ١٠ (٢٠٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٣ (٣٤٩١) ، مسند احمد (٤/٤٤٤، ٤٤٦) (صحیح )

【12】

داغ لگانے کا بیان

جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سعد بن معاذ (رض) کو تیر کے زخم کی وجہ سے جو انہیں لگا تھا داغا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٦٩٤) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢٠٨) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٤ (٣٤٩٤) ، مسند احمد (٣/٣٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس روایت سے علاج کے طور پر داغنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، رہی عمران بن حصین (رض) کی حدیث میں وارد ممانعت تو وہ یا تو عمران بن حصین کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ ممکن ہے انہیں کوئی ایسی بیماری لگی ہو جس میں داغنا مفید نہ ہو، یا بیماری سے بچنے کے لئے احتیاطاً وہ یہ کرنے جارہے ہوں تو آپ ﷺ نے منع کیا ہو کیونکہ بلا ضرورت محض بیماری کے اندیشہ سے ایسا کرنا مکروہ ہے۔

【13】

ناک میں دواڈالنے کا بیان

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ناک میں دوا ڈالی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٧٢٣) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/السلام ٢٦ (١٢٠٢) ، سنن الترمذی/الطب ٩ (٢٠٤٧) (صحیح )

【14】

نشرہ کی ممانعت

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے نشرہ ١ ؎ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : یہ شیطانی کام ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣١٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نشرہ ایک منتر ہے جس سے آسیب زدہ لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

【15】

زہر کی سمیت کو دور کرنے کا بیان

عبدالرحمٰن بن رافع تنوخی کہتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عمرو (رض) کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے : مجھے پرواہ نہیں جو بھی میرا حال ہو اگر میں تریاق پیوں یا تعویذ گنڈا لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص تھا، کچھ لوگوں نے تریاق پینے کی رخصت دی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف : ٨٨٧٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٧، ٢٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الرحمن تنوخی ضعیف ہیں )

【16】

مکروہ ادویہ کا سامان

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے نجس یا حرام دوا سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطب ٧ (٢٠٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الطب ١١ (٣٤٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٤٣٤٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٠٥، ٤٤٦، ٤٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جیسے پیشاب یا شراب وغیرہ، یعنی دوا کے طور پر بھی ان کا استعمال حرام ہے ، سنن ترمذی اور ابن ماجہ میں صراحت ہے کہ دوائے خبیث سے مراد سم یعنی زہر ہے ، لیکن لفظ عام ہے ، عام معنی مراد لینے میں کوئی مانع نہیں ہے ، سم (زہر) کا لفظ راوی کی طرف سے ادراج (تفسیر و اضافہ) بھی ہوسکتا ہے۔

【17】

مکروہ ادویہ کا سامان

عبدالرحمٰن بن عثمان (رض) کہتے ہیں کہ ایک طبیب نے نبی اکرم ﷺ سے دوا میں مینڈک کے استعمال کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے مینڈک قتل کرنے سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصید ٣٦ (٤٣٦٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٥٣، ٤٩٩) ، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٦ (٢٠٤١) ، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (٥٢٦٩) (صحیح )

【18】

مکروہ ادویہ کا سامان

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو زہر پیے گا تو قیامت کے دن وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور اسے جہنم میں پیا کرے گا اور ہمیشہ ہمیش اسی میں پڑا رہے گا کبھی باہر نہ آسکے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطب ٧ (١٠٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٢٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الطب ٥٦ (٥٧٧٨) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤٧ (١٧٥) ، سنن النسائی/الجنائز ٦٨ (١٩٦٧) ، سنن ابن ماجہ/الطب ١١ (٣٤٦٠) ، مسند احمد (٢/٢٥٤، ٤٧٨، ٤٨٨) ، سنن الدارمی/الدیات ١٠ (٢٤٠٧) (صحیح )

【19】

مکروہ ادویہ کا سامان

وائل بن حجر (رض) سے روایت ہے، طارق بن سوید یا سوید بن طارق نے ذکر کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں منع فرمایا، انہوں نے پھر پوچھا آپ ﷺ نے انہیں پھر منع فرمایا تو انہوں نے آپ سے کہا : اللہ کے نبی ! وہ تو دوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہیں بلکہ بیماری ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطب ٢٧ (٣٥٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٨٠) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الأشربة ٣ (١٩٨٤) ، سنن الترمذی/الطب ٨ (٢٠٤٦) ، مسند احمد (٤/٣١١، ٥/٢٩٣) ، سنن الدارمی/الأشربة ٦ (٢١٤٠) (صحیح )

【20】

مکروہ ادویہ کا سامان

ابوالدرداء (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے بیماری اور دوا (علاج) دونوں اتارا ہے اور ہر بیماری کی ایک دوا پیدا کی ہے لہٰذا تم دوا کرو لیکن حرام سے دوا نہ کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٠٠٧) (ضعیف) (اس کے راوی ثعلبہ مجہول الحال ہیں )

【21】

عجوہ کھجور کا بیان

سعد (رض) کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے آئے، آپ نے میری دونوں چھاتیوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی، آپ ﷺ نے فرمایا : تمہیں دل کی بیماری ہے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف کے ہیں، وہ دوا علاج کرتے ہیں، ان کو چاہیئے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سات کھجوریں لیں اور انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ ڈالیں پھر اس کا لدود بنا کر تمہارے منہ میں ڈالیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٩١٦) (ضعیف) (مجاہد کا سعد (رض) سے سماع نہیں ہے )

【22】

عجوہ کھجور کا بیان

سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو سات عجوہ کھجوریں نہار منہ کھائے گا تو اس دن اسے نہ کوئی زہر نقصان پہنچائے گا، نہ جادو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ٤٣ (٥٤٤٥) ، الطب ٥٢ (٥٧٩٩) ، صحیح مسلم/الأ شربة ٢٧ (٢٤٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٩٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٨١) (صحیح )

【23】

بچوں کے حلق کو دبانے کا بیان

ام قیس بنت محصن (رض) کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی، کوا بڑھ جانے کی وجہ سے میں نے اس کے حلق کو دبا دیا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا : تم اپنے بچوں کے حلق کس لیے دباتی ہو ؟ تم اس عود ہندی کو لازماً استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے جس میں ذات الجنب (نمونیہ) بھی ہے، کوا بڑھنے پر ناک سے دوا داخل کی جائے، اور ذات الجنب میں لدود ١ ؎ بنا کر پلایا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عود سے مراد قسط ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٢١ (٥٧١٣) ، صحیح مسلم/السلام ٢٨ (٢٢١٤) ، سنن ابن ماجہ/الطب ١٧ (٣٤٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٤٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : لدود اس دواء کو کہتے ہیں جو مریض کے منہ میں ڈالی جاتی ہے۔

【24】

سرمہ لگانے کا بیان

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم سفید رنگ کے کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر کپڑا ہے، اور اسی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو، اور تمہارے سرموں میں سب سے اچھا اثمد ہے، وہ روشنی بڑھاتا اور (پلک کے) بالوں کو اگاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجنائز ١٨ (٩٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٢ (١٤٧٢) ، الطب ٢٥ (٣٤٩٧) ، اللباس ٥ (٣٥٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣١، ٢٤٧، ٢٧٤، ٣٢٨، ٣٥٥، ٣٦٣) (صحیح )

【25】

نظر لگنے کا بیان

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نظر بد حق ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٣٦(٥٧٤٠) ، صحیح مسلم/السلام ١٦ (٢١٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٩٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطب ٣٢ (٣٥٠٦) ، مسند احمد (٢/٣١٩) (صحیح متواتر )

【26】

نظر لگنے کا بیان

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نظر بد لگانے والے کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے پھر جسے نظر لگی ہوتی اس پانی سے غسل کرتا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٩٦٥) (صحیح الإسناد )

【27】

مدت رضاعت میں جماعت کرنے کا بیان

اسماء بنت یزید بن سکن (رض) کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کرو کیونکہ رضاعت کے دنوں میں مجامعت شہسوار کو پاتی ہے تو اسے اس کے گھوڑے سے گرا دیتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/النکاح ٦١ (٢٠١٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ٦/٤٥٣، ٤٥٧، ٤٥٨) (حسن) (تراجع الألبانی ٣٩٧، و صحیح ابن ماجہ : ١٦٤٨ )

【28】

مدت رضاعت میں جماعت کرنے کا بیان

جدامہ اسدیہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : میں نے قصد کرلیا تھا کہ غیلہ سے منع کر دوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا ۔ مالک کہتے ہیں : غیلہ یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے حالت رضاعت میں جماع کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ٢٤ (١٤٤٢) ، سنن الترمذی/الطب ٢٧ (٢٠٧٦) ، سنن النسائی/النکاح ٥٤ (٣٣٢٨) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦ (٢٠١١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٨٦) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الرضاع ٣ (١٦) ، مسند احمد (٦/٣٦١، ٤٣٤) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٣ (٢٢٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : پہلی حدیث سے غیلہ یعنی عورت بچے کو دودھ پلا رہی ہو تو ان دنوں میں جماع کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے ، اور دوسری حدیث سے جواز نکلتا ہے ، مگر یہ اسی صورت میں ہے کہ اولاد کو نقصان پہنچنے کا ڈر نہ ہو ، اگر نقصان پہنچنے کا ڈر ہو تو ایسا کرنا ناجائز ہوگا۔

【29】

تعویذ گنڈے گلے میں لٹکانے کا بیان

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے : جھاڑ پھونک (منتر) ١ ؎ گنڈا (تعویذ) اور تولہ ٢ ؎ شرک ہیں عبداللہ بن مسعود (رض) کی بیوی زینب (رض) کہتی ہیں : میں نے کہا : آپ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟ قسم اللہ کی میری آنکھ درد کی شدت سے نکلی آتی تھی اور میں فلاں یہودی کے پاس دم کرانے آتی تھی تو جب وہ دم کردیتا تھا تو میرا درد بند ہوجاتا تھا، عبداللہ (رض) بولے : یہ کام تو شیطان ہی کا تھا وہ اپنے ہاتھ سے آنکھ چھوتا تھا تو جب وہ دم کردیتا تھا تو وہ اس سے رک جاتا تھا، تیرے لیے تو بس ویسا ہی کہنا کافی تھا جیسا رسول اللہ ﷺ کہتے تھے : ذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما لوگوں کے رب ! بیماری کو دور فرما، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، ایسی شفاء جو کسی بیماری کو نہ رہنے دے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطب ٣٩ (٣٥٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨١) (ضعیف) (الصحیحة : ٢٩٧٢، وتراجع الألباني : ١٤٢ ) وضاحت : ١ ؎ : جھاڑ پھونک اور منتر سے مراد وہ منتر ہے جو عربی میں نہ ہو، اور جس کا معنی و مفہوم بھی واضح نہ ہو، لیکن اگر اس کا مفہوم سمجھ میں آئے، اور وہ اللہ کے ذکر پر مشتمل ہو تو مستحب ہے، جو لوگ عربی زبان نہ جانتے ہوں ان کو دعاؤں کے سلسلے میں بڑی احتیاط کرنی چاہیے، اور اس سلسلے میں اسلامی آداب کا لحاظ ضروری ہے۔ ٢ ؎ : ایک قسم کا جادو ہے جسے دھاگہ یا کاغذ میں عورت مرد کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔

【30】

تعویذ گنڈے گلے میں لٹکانے کا بیان

عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جھاڑ پھونک، نظر بد یا زہریلے ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطب ١٥ (٢٠٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٣٦، ٤٣٨، ٤٤٦) ، صحیح البخاری/ الطب ١٧ (٥٧٠٥) ، موقوفًا (صحیح )

【31】

تعویزوغیرہ کا بیان

ثابت بن قیس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، وہ بیمار تھے تو آپ نے فرمایا : اكشف الباس رب الناس ‏‏ ‏.‏ عن ثابت بن قيس لوگوں کے رب ! اس بیماری کو ثابت بن قیس سے دور فرما دے پھر آپ نے وادی بطحان کی تھوڑی سی مٹی لی اور اسے ایک پیالہ میں رکھا پھر اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس پر دم کیا اور اسے ان پر ڈال دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن سرح کی روایت میں یوسف بن محمد ہے اور یہی صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/ الیوم واللیلة، (١٠١٧، ١٠٤٠) (تحفة الأشراف : ٢٠٦٦) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی محمد بن یوسف لین الحدیث ہیں )

【32】

تعویزوغیرہ کا بیان

عوف بن مالک (رض) کہتے ہیں ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنا منتر میرے اوپر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٢٢ (٢٢٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٠٣) (صحیح )

【33】

تعویزوغیرہ کا بیان

شفاء بنت عبداللہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، میں ام المؤمنین حفصہ (رض) کے پاس تھی، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : نملہ ١ ؎ کا منتر اس کو کیوں نہیں سکھا دیتی جیسے تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٩٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٧٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نملہ ایک بیماری ہے جس میں جسم کے دونوں پہلؤوں میں پھنسیوں کے مانند دانے نکلتے ہیں۔

【34】

تعویزوغیرہ کا بیان

سہل بن حنیف (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک ندی پر سے گزرے تو میں نے اس میں غسل کیا، اور بخار لے کر باہر نکلا، اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : ابوثابت کو شیطان سے پناہ مانگنے کے لیے کہو ۔ عثمان کی دادی کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : میرے آقا ! جھاڑ پھونک بھی تو مفید ہے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : جھاڑ پھونک تو صرف نظر بد کے لیے یا سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈنک مارنے کے لیے ہے (ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں ان میں دوا یا دعا کام آتی ہے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں :حمہ سانپ کے ڈسنے کو کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٤٦٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٨٦) (ضعیف الإسناد) (عثمان کی دادی رباب لین الحدیث ہیں )

【35】

تعویزوغیرہ کا بیان

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جھاڑ پھونک صرف نظر بد کے لیے یا زہریلے جانوروں کے کاٹنے کے لیے یا ایسے خون کے لیے ہے جو تھمتا نہ ہو ۔ عباس نے نظر بد کا ذکر نہیں کیا ہے یہ سلیمان بن داود کے الفاظ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٣٩) (ضعیف) (اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور ہیں، صحیح روایت شعبی عن عمران موقوفا بلفظ لارقیة إلا من عین أوحمة (دیکھئے نمبر ٣٨٨٤) ، اور مسلم (السلام ٢١) کی روایت جو انس (رض) سے ہے اس کے الفاظ ہیں رخص النبي ﷺ في الرقیة من الحمة و العین والنملة )

【36】

تعویز کیسے کیے جائیں

عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ انس (رض) نے ثابت سے کہا : کیا میں تم پر دم نہ کروں جو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ضرور کیجئے، تو انس (رض) نے کہا : اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت اشفه شفاء لا يغادر سقما اے اللہ ! لوگوں کے رب ! بیماری کو دور فرمانے والے شفاء دے تو ہی شفاء دینے والا ہے نہیں کوئی شفاء دینے والا سوائے تیرے تو اسے ایسی شفاء دے جو بیماری کو باقی نہ رہنے دے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٣٨ (٥٧٤٢) ، سنن الترمذی/الجنائز ٤ (٩٧٣) ، سنن النسائی/الیوم واللیلة (١٠٢٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٥١) (صحیح )

【37】

تعویز کیسے کیے جائیں

عثمان (رض) کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، عثمان کہتے ہیں : اس وقت مجھے ایسا درد ہو رہا تھا کہ لگتا تھا کہ وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنا داہنا ہاتھ اس پر سات مرتبہ پھیرو اور کہو : أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس چیز کی برائی سے جو میں پاتا ہوں ۔ میں نے اسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے جو تکلیف تھی وہ دور فرما دی اس وقت سے میں برابر اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو اس کا حکم دیا کرتا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٢٤ (٢٢٠٢) ، سنن الترمذی/الطب ٢٩ (٨٠ ٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٧٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/العین ٤ (٩) ، مسند احمد (٤/٢١، ٢١٧) (صحیح )

【38】

تعویز کیسے کیے جائیں

ابو الدرداء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو بیمار ہو یا جس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے : ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمک أمرک في السماء والأرض کما رحمتک في السماء فاجعل رحمتک في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتک و شفاء من شفائك على هذا الوجع ‏‏‏‏ ہمارے رب ! جو آسمان کے اوپر ہے تیرا نام پاک ہے، تیرا ہی اختیار ہے آسمان اور زمین میں، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی رحمت زمین پر بھی نازل فرما، ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے، تو (رب پروردگار) ہے پاک اور اچھے لوگوں کا، اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاء میں سے ایک شفاء اس درد پر بھی نازل فرما تو وہ صحت یاب ہوجائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٩٥٧) (ضعیف) (اس کے راوی زیادہ بن محمد منکر الحدیث ہیں )

【39】

تعویز کیسے کیے جائیں

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انہیں (خواب میں) ڈرنے پر یہ کلمات کہنے کو سکھلاتے تھے :أعوذ بکلمات الله التامة من غضبه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلموں کی اس کے غصہ سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور ان کے میرے پاس آنے سے ۔ عبداللہ بن عمرو (رض) اپنے ان بیٹوں کو جو سمجھنے لگتے یہ دعا سکھاتے اور جو نہ سمجھتے تو ان کے گلے میں اسے لکھ کر لٹکا دیتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ٩٣ (٨٧٨١) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨١) (حسن) (عبداللہ بن عمرو کا اثر صحیح نہیں ہے )

【40】

تعویز کیسے کیے جائیں

یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ (رض) کی پنڈلی میں چوٹ کا ایک نشان دیکھا تو میں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : مجھے یہ چوٹ خیبر کے دن لگی تھی، لوگ کہنے لگے تھے : سلمہ (رض) کو ایسی چوٹ لگی ہے (اب بچ نہیں سکیں گے) تو مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے تین بار مجھ پر دم کیا اس کے بعد سے اب تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں محسوس ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٤٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٨) (صحیح )

【41】

تعویز کیسے کیے جائیں

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے جب کوئی اپنی بیماری کی شکایت کرتا تو آپ اپنا لعاب مبارک لیتے پھر اسے مٹی میں لگا کر فرماتے : تربة أرضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا بإذن ربنا یہ ہماری زمین کی خاک ہے ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا بیمار ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٣٨ (٥٧٤٥) ، صحیح مسلم/السلام ٢١ (٢١٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٩٣) (صحیح )

【42】

تعویز کیسے کیے جائیں

خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا، پھر لوٹ کر جب آپ کے پاس سے جانے لگے تو ایک قوم پر سے گزرے جن میں ایک شخص دیوانہ تھا زنجیر سے بندھا ہوا تھا تو اس کے گھر والے کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ کے یہ ساتھی (رسول اللہ ﷺ ) خیر و بھلائی لے کر آئے ہیں تو کیا آپ کے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس شخص کا علاج کریں ؟ میں نے سورة فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کردیا تو وہ اچھا ہوگیا، تو ان لوگوں نے مجھے سو بکریاں دیں، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے صرف یہی سورت پڑھی ہے ؟ ۔ (مسدد کی ایک دوسری روایت میں : هل إلا هذا کے بجائے : هل قلت غير هذا ہے یعنی کیا تو نے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں پڑھا ؟ ) میں نے عرض کیا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : انہیں لے لو، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو ناجائز جھاڑ پھونک کی روٹی کھاتے ہیں اور تم نے تو جائز جھاڑ پھونک پر کھایا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم :(٣٤٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٠١١) (صحیح )

【43】

تعویز کیسے کیے جائیں

خارجہ بن صلت سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (کچھ لوگوں پر سے) گزرے (ان میں ایک دیوانہ شخص تھا) جس پر وہ صبح و شام فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے، جب سورة فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا تھوک جمع کر کے اس پر تھو تھو کردیتے، پھر وہ اچھا ہوگیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٣٤٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٠١١) (صحیح )

【44】

تعویز کیسے کیے جائیں

ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے سنا : اس نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آج رات مجھے کسی چیز نے کاٹ لیا تو رات بھر نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہوگئی، آپ ﷺ نے فرمایا : کس چیز نے ؟ اس نے عرض کیا : بچھو نے، آپ ﷺ نے فرمایا : سنو اگر تم شام کو یہ دعا پڑھ لیتے : أعوذ بکلمات الله التامات من شر ما خلق میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے تو انشاء اللہ (اللہ چاہتا تو) وہ تم کو نقصان نہ پہنچاتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٤٨، ٥/٤٣٠) (صحیح )

【45】

تعویز کیسے کیے جائیں

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص لایا گیا جسے بچھو نے کاٹ لیا تھا تو آپ نے فرمایا : اگر وہ یہ دعا پڑھ لیتا : أعوذ بکلمات الله التامة من شر ما خلق میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے تو وہ نہ کاٹتا یا اسے نقصان نہ پہنچاتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٥١٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطب ٣٥ (٣٥١٨) ، مسند احمد (٢/٣٧٥) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی طارق لین الحدیث ہیں )

【46】

تعویز کیسے کیے جائیں

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور وہ عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ میں اتری، ان میں سے بعض نے آ کر کہا : ہمارے سردار کو بچھو یا سانپ نے کاٹ لیا ہے، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو انہیں فائدہ دے ؟ تو ہم میں سے ایک شخص نے کہا : ہاں قسم اللہ کی میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں لیکن ہم نے تم سے ضیافت کے لیے کہا تو تم نے ہماری ضیافت سے انکار کیا، اس لیے اب میں اس وقت تک جھاڑ پھونک نہیں کرسکتا جب تک تم مجھے اس کی اجرت نہیں دو گے، تو انہوں نے ان کے لیے بکریوں کا ایک ریوڑ اجرت ٹھہرائی، چناچہ وہ آئے اور سورة فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کرنے لگے یہاں تک کہ وہ اچھا ہوگیا گویا وہ رسی سے بندھا ہوا تھا چھوٹ گیا، پھر ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی پوری ادا کردی، لوگوں نے کہا : اسے آپس میں تقسیم کرلو، تو جس نے جھاڑ پھونک کیا تھا وہ بولا : اس وقت تک ایسا نہ کرو جب تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اجازت نہ لے لیں، چناچہ وہ سب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہیں کہاں سے معلوم ہوا کہ یہ منتر ہے ؟ تم نے بہت اچھا کیا، تم اسے آپس میں تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا بھی ایک حصہ لگانا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإجارة ١٦ (٢٢٧٦) ، الطب ٣٣ (٥٧٣٦) ، صحیح مسلم/السلام ٢٣ (٢٢٠١) ، سنن الترمذی/الطب ٢٠ (٢٠٦٣) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٧ (٢١٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٤٩، ٤٣٠٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٤) (صحیح )

【47】

تعویز کیسے کیے جائیں

خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے چلے اور عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے تو وہ لوگ کہنے لگے : ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اس شخص کے پاس سے آ رہے ہیں جو خیر و بھلائی لے کر آیا ہے تو کیا آپ کے پاس کوئی دوا یا منتر ہے ؟ کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ ہے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، ہم نے کہا : ہاں، تو وہ اس پاگل کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا لے کر آئے، میں اس پر تین دن تک سورة فاتحہ پڑھ کر دم کرتا رہا، وہ اچھا ہوگیا جیسے کوئی قید سے چھوٹ گیا ہو، پھر انہوں نے مجھے اس کی اجرت دی، میں نے کہا : میں نہیں لوں گا جب تک میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھ نہ لوں، چناچہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : کھاؤ، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو جھوٹا منتر کر کے کھاتے ہیں تم نے تو جائز منتر کر کے کھایا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم :(٣٤٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٠١١) (صحیح )

【48】

تعویز کیسے کیے جائیں

ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو آپ اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم فرماتے تھے، پھر جب آپ ﷺ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں اسے آپ پر پڑھ کر دم کرتی اور برکت کی امید سے آپ کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٤ (٥٠١٦) ، صحیح مسلم/السلام ٢٠ (٢١٩٢) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٨ (٣٥٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٨٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/العین ٤ (١٠) ، مسند احمد (٦/١٠٤، ١٨١، ٢٥٦، ٢٦٣) (صحیح )

【49】

موٹا کرنے کا بیان

ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میری والدہ نے چاہا کہ میں قدرے موٹی ہوجاؤں تاکہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے گھر بھیجا جاسکے۔ مگر مجھے ان کی حسب منشا کسی چیز سے فائدہ نہ ہوا حتیٰ کہ انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجور ملا کر کھلائی تو اس سے میں خوب موٹی ہوگئی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧١٨٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الاطعمة ٣٧ (٣٣٢٤) ، سنن النسائی/الکبری (٦٧٢٥) (صحيح )

【50】

کاہنوں کے پاس جانے کی ممانعت کا بیان

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی کاہن کے پاس آئے پھر جو وہ کہے اس کی تصدیق کرے، یا حائضہ عورت کے پاس آئے یا اپنی عورت کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ میں آئے تو وہ ان چیزوں سے بری ہوگیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئیں ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ١٠٢ (١٣٥) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٢ (٦٣٩) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥٣٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٨٦، ٢/٤٠٨، ٤٧٦، ٦/٣٠٥) ، سنن الدارمی/الطھارة ١١٣ (٢٥٩) (صحیح )

【51】

علم نجوم کا بیان

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٨ (٣٧٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٧، ٣١١) (حسن )

【52】

علم نجوم کا بیان

زید بن خالد جہنی (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں ہمیں نماز فجر بارش کے بعد پڑھائی جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ فارغ ہوگئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اس نے کہا : میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مومن ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایمان رکھنے والا ہوا اور ستاروں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں نچھتر کے سبب برسائے گئے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٥٦ (٨٤٦) ، الاستسقاء ٢٨ (١٠٣٨) ، المغازي ٣٥ (٤١٤٧) ، التوحید ٣٥ (٧٥٠٣) ، صحیح مسلم/الإیمان ٣٢ (١٢٥) ، سنن النسائی/الاستسقاء ١٦ (١٥٢٦) ، عمل الیوم واللیلة ٢٦٧ (٩٢٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٥٧) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الاستسقاء ٣ (٤) ، مسند احمد (٤/١١٥، ١١٦، ١١٧) (صحیح )

【53】

علم رمل اور پرندوں سے ڈانٹ کر فال لینے کا بیان

قبیصہ بن وقاص (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : رمل، بدشگونی اور پرند اڑانا کفر کی رسموں میں سے ہے پرندوں کو ڈانٹ کر اڑانا طرق ہے، اور عيافة وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں جسے رمل کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٠٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٧٧، ٥/٦٠) (ضعیف) (اس کے راوی حیان لین الحدیث ہیں )

【54】

علم رمل اور پرندوں سے ڈانٹ کر فال لینے کا بیان

عوف کہتے ہیں عيافة سے مراد پرندہ اڑانا ہے اور طرق سے مراد وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں (اور جسے رمل کہتے ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح )

【55】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

معاویہ بن حکم سلمی (رض) کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خط کھینچتے ہیں، آپ نے فرمایا : انبیاء میں ایک نبی تھے جو خط کھینچتے تھے تو جس کا خط ان کے خط کے موافق ہوا تو وہ ٹھیک ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٩٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٧٨) (صحیح)

【56】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا : بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/السیر ٤٧ (١٦١٤) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٤٣ (٣٥٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٠٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٩، ٤٣٨، ٤٤٠) (صحیح)

【57】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی چیز میں نحوست ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کسی مردے کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے تو ایک بدوی نے عرض کیا : پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے ؟ وہ ہرن کے مانند (بہت ہی تندرست) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارشتی اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارشتی کردیتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارشتی کیا ؟ ۔ معمر کہتے ہیں : زہری نے کہا : مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : کوئی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے ساتھ پانی پلانے کے لیے نہ لایا جائے پھر وہ شخص ابوہریرہ (رض) کے پاس گیا، اور ان سے کہا : کیا آپ نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، اور نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے تو ابوہریرہ (رض) نے انکار کیا، اور کہا : میں نے اسے آپ لوگوں سے نہیں بیان کیا ہے۔ زہری کا بیان ہے : ابوسلمہ کہتے ہیں : حالانکہ انہوں نے اسے بیان کیا تھا، اور میں نے ابوہریرہ (رض) کو کبھی کوئی حدیث بھولتے نہیں سنا سوائے اس حدیث کے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٢٥ (٥٧١٧) ، ٤٥ (٥٧٥٧) ، ٥٣ (٥٧٧٠) ، ٥٤ (٥٧٧٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٧٣، ١٥٥٠٢) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/السلام ٣٣ (٢٢٢٣) ، مسند احمد (٢/٢٦٧، ٣٢٧، ٣٩٧) (صحیح )

【58】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے، نہ نچھتر کوئی چیز ہے، اور نہ صفر کے مہینہ میں نحوست ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٠٦٨) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/ الطب ٣٣ (٢٢٢٠) ، مسند احمد (٢/٣٩٧) (صحیح )

【59】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بھوت پریت کو کسی کو نقصان پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٣٢٢، ١٢٨٢٩، ١٢٨٦٨) (حسن صحیح ) ابوداؤد کہتے ہیں حارث بن مسکین پر پڑھا گیا، اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے نبی اکرم ﷺ کے قول : لا صفر کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : جاہلیت میں لوگ صفر کو کسی سال حلال قرار دے لیتے تھے اور کسی سال اسے (محرم کا مہینہ قرار دے کر) حرام رکھتے تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صفر (اب ایسا) نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح )

【60】

None

حارث بن مسکین پر پڑھا گیا، اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «لا صفر» کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جاہلیت میں لوگ «صفر» کو کسی سال حلال قرار دے لیتے تھے اور کسی سال اسے ( محرم کا مہینہ قرار دے کر ) حرام رکھتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صفر» ( اب ایسا ) نہیں ہے ۔

【61】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٤٤ (٥٧٥٦) ، ٥٤ (٥٧٧٦) ، سنن الترمذی/السیر ٤٧ (١٦١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥٨) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٤) ، مسند احمد (٣/١١٨، ١٥٤، ١٧٨) (صحیح )

【62】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

بقیہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ کے قول هام کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے : جو آدمی مرتا ہے اور دفن کردیا جاتا ہے تو اس کی روح قبر سے ایک جانور کی شکل میں نکلتی ہے، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول لا صفر کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ صفر کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صفر میں نحوست نہیں ہے۔ محمد بن راشد کہتے ہیں : میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے : صفر پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے، لوگ کہتے تھے : وہ متعدی ہوتا ہے (یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے) تو آپ نے فرمایا : صفر کوئی چیز نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح )

【63】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بات سنی جو آپ کو بھلی لگی تو آپ نے فرمایا : ہم نے تیری فال تیرے منہ سے سن لی (یعنی انجام بخیر ہے ان شاء اللہ) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٨٨) (صحیح )

【64】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

عطاء سے روایت ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ صفر ایک قسم کا درد ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے تو میں نے پوچھا : ہامہ کیا ہے ؟ کہا : لوگ کہتے تھے : الو جو بولتا ہے وہ لوگوں کی روح ہے، حالانکہ وہ انسان کی روح نہیں بلکہ وہ ایک جانور ہے (اگلے لوگ جہالت سے اسے انسان کی روح سمجھتے تھے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح )

【65】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

عروہ بن عامر قرشی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس طیرہ (بدشگونی) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اس کی سب سے اچھی قسم نیک فال، اور اچھا (شگون) ہے، اور فال (شگون) کسی مسلمان کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھے پھر جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو وہ یہ دعا پڑھے : اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت ولا يدفع السيئات إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بك اے اللہ ! تیرے سوا کوئی بھلائی نہیں پہنچا سکتا اور سوائے تیرے کوئی برائیوں کو روک بھی نہیں سکتا اور برائی سے باز رہنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت و قوت صرف تیری توفیق ہی سے ملتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٨٩٩) (ضعیف) (اس کے راوی عروہ قرشی تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے )

【66】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کسی چیز سے فال بد (بدشگونی) نہیں لیتے تھے اور جب آپ کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر آپ ﷺ کو اس کا نام پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے اور خوشی آپ کے چہرے پر نظر آتی اور اگر وہ پسند نہ آتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی، اور جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے اگر وہ نام اچھا لگتا تو اس سے خوش ہوتے اور یہ خوشی آپ ﷺ کے چہرے پر دکھائی پڑتی اور اگر وہ ناپسند ہوتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٩٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٤٧) (صحیح )

【67】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

سعد بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : مردے کی روح جانور کی شکل میں نہیں نکلتی، اور نہ کسی کی بیماری کسی کو لگتی ہے، اور نہ کسی چیز میں نحوست ہے، اور اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٨٦١) ، وقد أخرجہ : حم (١/١٨٠، ١٨٦) (صحیح )

【68】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مرگئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مرگئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمر (رض) نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٤٧ (٢٨٥٨) ، النکاح ١٧ (٥٠٩٣) ، الطب ٤٣ (٥٧٥٣) ، ٥٤ (٥٧٧٢) ، صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٥) ، سنن الترمذی/الأدب ٥٨ (٢٨٢٤) ، سنن النسائی/الخیل ٤ (٣٥٩٩) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٥ (١٩٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٨٦٤، ١٨٢٧٦، ٦٦٩٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الاستئذان ٨ (٢٢) ، مسند احمد (٢/٨، ٣٦، ١١٥، ١٢٦) (صحیح) (اس حدیث میں الشؤم کا لفظ آیا ہے، اور بعض روایتوں میں إنما الشؤم ہے جبکہ صحیحین وغیرہ میں ابن عمر سے إن کان الشؤم ثابت ہے، جس کے شواہد سعد بن أبی وقاص (کما تقدم : ٣٩٢١) ، سہل بن سعد (صحیح البخاری/٥٠٩٥) ، و جابر (صحیح مسلم/٢٢٢٧) کی احادیث میں ہیں، اس لئے بعض اہل علم نے پہلے لفظ کو شاذ قرار دیا ہے، (ملاحظہ ہو : الصحیحة : ٧٩٩، ٧٨٩، ١٨٥٧) ۔ وضاحت : ١ ؎ : عبداللہ بن عمر (رض) کی یہی روایت صحیح مسلم میں کئی سندوں سے اس طرح ہے : اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی اور یہی مطلب اس عام روایت کا بھی ہے، اس کی وضاحت سعد بن مالک کی پچھلی روایت سے بھی ہو رہی ہے، اور وہ جو دیگر روایات میں ہے، جیسے حدیث نمبر ( ٣٩٢٤) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ ظاہر کو حقیقت سمجھ بیٹھیں اور ان کا عقیدہ خراب ہوجائے اسی لئے اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم دیا جیسے کوڑھی سے بھاگنے کا حکم دیا، حالانکہ آپ نے ﷺ خود فرمایا ہے کہ : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں ۔

【69】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

فروہ بن مسیک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے یہی ہمارا کھیت ہے جہاں سے ہمیں غلہ ملتا ہے لیکن یہ وبا والی زمین ہے یا کہا کہ اس کی وبا سخت ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم اس زمین کو اپنے سے علیحدہ کر دے کیونکہ اس کے ساتھ وبا لگی رہنے سے ہلاکت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٠٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٥١) (ضعیف الإسناد) (فروة کے شاگرد مبہم ہیں )

【70】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آگئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہوگئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ، مذموم حالت میں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩٣) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم آپ ﷺ نے اس لئے دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھر ہی کو مؤثر سمجھنے لگ جائیں اور شرک میں پڑجائیں۔

【71】

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالہ میں رکھ لیا اور فرمایا : اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کر کے کھاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأطعمة ١٩ (١٨١٧) ، سنن ابن ماجہ/ الطب ٤٤ (٣٥٤٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٠١٠) (ضعیف) (اس کے راوی مفضّل بن فضالة بصری ضعیف ہیں )