45. قسامت کے متعلق

【1】

دور جاہلیت کی قسامت سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کا پہلا قسامہ یہ تھا کہ بنی ہاشم کا ایک شخص تھا، قریش یعنی اس کی شاخ میں سے کسی قبیلے کے ایک شخص نے اسے نوکری پر رکھا، وہ اس کے ساتھ اس کے اونٹوں میں گیا، اس کے پاس سے بنی ہاشم کے ایک شخص کا گزر ہوا جس کے توش دان کی رسی ٹوٹ گئی تھی، وہ بولا : میری مدد کرو ایک رسی سے جس سے میں اپنے توش دان کا منہ باندھ سکوں تاکہ (اس میں سے سامان گرنے سے) اونٹ نہ بدکے، چناچہ اس نے اسے توش دان کا منہ باندھنے کے لیے رسی دی، جب انہوں نے قیام کیا اور ایک اونٹ کے علاوہ سبھی اونٹ باندھ دیے گئے تو جس نے نوکر رکھا تھا، اس نے کہا : اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے، تمام اونٹوں میں اسے کیوں نہیں باندھا گیا ؟ اس نے کہا : اس کے لیے کوئی رسی نہیں ہے، اس نے کہا : اس کی رسی کہاں گئی ؟ وہ بولا : میرے پاس سے بنی ہاشم کا ایک شخص گزرا جس کے توش دان کا منہ باندھنے کی رسی ٹوٹ گئی تھی، اس نے مجھ سے مدد چاہی اور کہا : مجھے توش دان کا منہ باندھنے کے لیے ایک رسی دے دو تاکہ اونٹ نہ بدکے، میں نے اسے رسی دے دی، یہ سن کر اس نے ایک لاٹھی نوکر کو ماری، اسی میں اس کی موت تھی (یعنی یہی چیز بعد میں اس کے مرنے کا سبب بنی) اس کے پاس سے یمن والوں میں سے ایک شخص کا گزر ہوا، اس نے کہا : کیا تم حج کو جا رہے ہو ؟ اس نے کہا : جا نہیں رہا ہوں لیکن شاید جاؤں، اس نے کہا : کیا تم (اس موقع سے) کسی بھی وقت میرا یہ پیغام پہنچا دو گے ؟ اس نے کہا : ہاں، کہا : جب تم حج کو جاؤ تو پکار کر کہنا : اے قریش کے لوگو ! جب وہ آجائیں تو پکارنا ! اے ہاشم کے لوگو ! جب وہ آجائیں تو ابوطالب کے بارے میں پوچھنا پھر انہیں بتانا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک رسی کے سلسلے میں مار ڈالا ہے اور (یہ کہہ کر) نوکر مرگیا، پھر جب وہ شخص آیا جس نے نوکری پر اسے رکھا تھا تو اس کے پاس ابوطالب گئے اور بولے : ہمارے آدمی کا کیا ہوا ؟ وہ بولا : وہ بیمار ہوگیا، میں نے اس کی اچھی طرح خدمت کی پھر وہ مرگیا، میں راستے میں اترا اور اسے دفن کردیا۔ ابوطالب بولے : تمہاری طرف سے وہ اس چیز کا حقدار تھا، وہ کچھ عرصے تک رکے رہے پھر وہ یمنی آیا جسے اس نے وصیت کی تھی کہ جب موسم حج آیا تو وہ اس کا پیغام پہنچا دے۔ اس نے کہا : اے قریش کے لوگو ! لوگوں نے کہا : یہ قریش ہیں، اس نے کہا : اے بنی ہاشم کے لوگو ! لوگوں نے کہا : یہ بنی ہاشم ہیں، اس نے کہا : ابوطالب کہاں ہیں ؟ کسی نے کہا : ابوطالب یہ ہیں۔ وہ بولا : مجھ سے فلاں نے کہا ہے کہ میں آپ تک یہ پیغام پہنچا دوں کہ فلاں نے اسے ایک رسی کی وجہ سے مار ڈالا، چناچہ ابوطالب اس کے پاس آئے اور بولے : تم تین میں سے کوئی ایک کام کرو، اگر تم چاہو تو سو اونٹ دے دو ، اس لیے کہ تم نے ہمارے آدمی کو غلطی سے مار ڈالا ہے ١ ؎ اور اگر چاہو تو تمہاری قوم کے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ تم نے اسے نہیں مارا، اگر تم ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہو تو ہم تمہیں اس کے بدلے قتل کریں گے، وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : ہم قسم کھائیں گے، پھر بنی ہاشم کی ایک عورت ابوطالب کے پاس آئی جو اس قبیلے کے ایک شخص کی زوجیت میں تھی، اس شخص سے اس کا ایک لڑکا تھا، وہ بولی : ابوطالب ! میں چاہتی ہوں کہ آپ ان پچاس میں سے میرے اس بیٹے کو بخش دیں اور اس سے قسم نہ لیں، ابوطالب نے ایسا ہی کیا، پھر ان کے پاس ان میں کا ایک شخص آیا اور بولا : ابوطالب ! آپ سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم لینا چاہتے ہو ؟ ہر شخص کے حصے میں دو اونٹ پڑیں گے، تو لیجئیے دو اونٹ اور مجھ سے قسم مت لیجئیے جیسا کہ آپ اوروں سے قسم لیں گے، ابوطالب نے دونوں اونٹ قبول کرلیے، پھر اڑتالیس آدمی آئے اور انہوں نے قسم کھائی۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! ابھی سال بھی نہ گزرا تھا کہ ان اڑتالیس میں سے ایک بھی آنکھ جھپکنے والی نہیں رہی (یعنی سب مرگئے) ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٢٧ (المناقب ٨٧) (٣٨٤٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نامعلوم قتل کی صورت میں مشتبہ افراد یا بستی والوں سے قسم لینے کو قسامہ کہا جاتا ہے۔ ٢ ؎: ابن عباس (رض) نے ان سب کے مرجانے کی خبر قسم کھا کردی باوجود یہ کہ یہ اس وقت پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ اس سلسلہ میں تین باتیں کہی جاتی ہیں : یہ خبر ان تک تواتر کے ساتھ پہنچی ہوگی، کسی ثقہ شخص کے ذریعہ پہنچی ہوگی، یہ بھی احتمال ہے کہ اس واقعہ کی خبر انہیں نبی اکرم ﷺ نے دی ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4706

【2】

قسا مت سے متعلق احادیث

ایک انصاری صحابی رسول (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قسامہ کو اسی حالت پر باقی رکھا جس پر وہ جاہلیت میں تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/القسامة ١ (الحدود ١) (١٦٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٨٧، ١٨٧٤٧) ، مسند احمد (٤/٦٢، و ٥/٣٧٥، ٤٣٢، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٧١٢، ٤٧١٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4707

【3】

قسا مت سے متعلق احادیث

کچھ صحابہ سے روایت ہے کہ قسامہ جاہلیت میں جاری تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی حالت پر باقی رکھا جس پر وہ جاہلیت میں تھا، اور انصار کے کچھ لوگوں کے درمیان ایک مقتول کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ کیا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اس کا خون خیبر کے یہودیوں پر ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) معمر نے ان دونوں (یونس اور اوزاعی) کے برخلاف یہ حدیث (مرسلاً ) روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4708

【4】

قسا مت سے متعلق احادیث

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ قسامہ جاہلیت میں رائج تھا، پھر اسے رسول اللہ ﷺ نے اس انصاری کے سلسلے میں باقی رکھا جو یہودیوں کے کنویں میں مرا ہوا پایا گیا تو انصار نے کہا : ہمارے آدمیوں کا قتل یہودیوں نے کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧١١ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، لیکن پچھلی سند سے تقویت پاکر مرفوع متصل ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4709

【5】

قسامت میں پہلے مقتول کے ورثاء کو قسم دی جائے گی

سہل بن ابی حثمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ (رض) (رزق کی) تنگی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے تو محیصہ کے پاس کسی نے آ کر بتایا کہ عبداللہ بن سہل کا قتل ہوگیا ہے، اور انہیں ایک کنویں میں یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، یہ سن کر وہ (محیصہ) یہودیوں کے پاس گئے اور کہا : اللہ کی قسم ! تم ہی نے انہیں قتل کیا ہے۔ وہ بولے : اللہ کی قسم ! انہیں ہم نے قتل نہیں کیا۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، حویصہ (ان کے بڑے بھائی) اور عبدالرحمٰن بن سہل (رض) ساتھ آئے تو محیصہ (رض) نے گفتگو کرنا چاہی (وہی خیبر میں ان کے ساتھ تھے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بڑے کا لحاظ کرو، بڑے کا لحاظ کرو ، اور حویصہ (رض) نے گفتگو کی پھر محیصہ (رض) نے کی، رسول اللہ ﷺ نے (اس سلسلے میں) فرمایا : یا تو وہ تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں یا، پھر ان سے جنگ کے لیے کہہ دیا جائے ، اور یہ بات رسول اللہ ﷺ نے انہیں لکھ بھیجی، تو انہوں نے لکھا : اللہ کی قسم ! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا، رسول اللہ ﷺ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن (رضی اللہ عنہم) سے فرمایا : تمہیں قسم کھانا ہوگی ٢ ؎ اور پھر تمہیں اپنے آدمی کے خون کا حق ہوگا ، وہ بولے : نہیں، آپ نے فرمایا : تو پھر یہودی قسم کھائیں گے ، وہ بولے : وہ تو مسلمان نہیں ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس (یعنی بیت المال) سے ان کی دیت ادا کی اور ان کے پاس سو اونٹ بھیجے یہاں تک کہ وہ ان کے گھر میں داخل ہوگئے، سہل (رض) نے کہا : ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلح ٧ (٢٧٠٢) ، الجزیة ١٢ (٣١٧٣) ، الأدب ٨٩ (٦١٤٣) ، الدیات ٢٢ (٦٨٩٨) ، الأحکام ٣٨ (٧١٩٢) ، صحیح مسلم/القسامة ١ (الحدود ١) (١٦٦٩) ، سنن ابی داود/الدیات ٨ (٢٥٢٠، ٢٥٢١) ، ٩ (٢٥٢٣) ، سنن الترمذی/الدیات ٢٣ (١٤٤٢) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٨(٢٦٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٤٤) ، مسند احمد (٤/٢، ٣) ، سنن الدارمی/الدیات ٢ (٢٣٩٨) ، انظرالأرقام التالیة ٤٧١٥-٤٧٢٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : قسامہ میں پہلے مقتول کے ورثاء سے کہا جائے گا کہ تم لوگ قسم کھالو تو تم کو قتل کی دیت دے دی جائے گی، اور جب ورثاء قسم سے انکار کردیں گے تب مدعا علیہم سے قسم کھانے کو کہا جائے گا اب اگر وہ بھی قسم کھا لیں گے تو دیت بیت المال سے دلائی جائے گی جیسا کہ آپ ﷺ نے اس معاملہ میں کیا تھا۔ ٢ ؎: اسی جملہ کی باب سے مناسبت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4710

【6】

قسامت میں پہلے مقتول کے ورثاء کو قسم دی جائے گی

سہل بن ابی حثمہ (رض) کہتے ہیں کہ ان سے ان کے قبیلہ کے کچھ بڑوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ (رض) تنگ حالی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے، محیصہ (رض) کے پاس کسی نے آ کر بتایا کہ عبداللہ بن سہل (رض) مارے گئے، انہیں ایک کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ محیصہ یہودیوں کے پاس آئے اور کہا : اللہ کی قسم ! تم لوگوں نے اسے قتل کیا ہے، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا، پھر وہ اپنے قبیلے کے پاس آئے اور ان سے اس کا تذکرہ کیا۔ پھر وہ، ان کے بھائی حویصہ (حویصہ ان سے بڑے تھے) اور عبدالرحمٰن بن سہل چلے۔ (اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے) تو محیصہ نے بات کرنی چاہی (وہی خیبر میں گئے) تھے تو رسول اللہ ﷺ نے محیصہ سے فرمایا : بڑے کا لحاظ کرو، بڑے کا لحاظ کرو ۔ آپ کی مراد عمر میں بڑے ہونے سے تھی، چناچہ حویصہ نے گفتگو کی پھر محیصہ نے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یا تو وہ تمہارے آدمی کی دیت دیں یا پھر ان سے جنگ کے لیے کہہ دیا جائے ، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس بارے میں لکھ بھیجا تو ان لوگوں نے لکھا : اللہ کی قسم ! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن (رضی اللہ عنہم ) سے کہا : کیا تم قسم کھاؤ گے اور اپنے آدمی کے خون کے حقدار بنو گے ؟ وہ بولے : نہیں، آپ نے فرمایا : تو پھر یہودی قسم کھائیں گے ۔ وہ بولے : وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی اور سو اونٹنیاں ان کے پاس بھیجیں یہاں تک کہ وہ ان کے گھروں میں داخل ہوگئیں۔ سہل کہتے ہیں : ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات مار دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4711

【7】

راویوں کے اس حدیث سے متعلق اختلاف

سہل بن ابی حثمہ (رض) اور رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود (رض) نکلے، جب خیبر پہنچے تو کسی مقام پر وہ الگ الگ ہوگئے، پھر اچانک محیصہ کو عبداللہ بن سہل مقتول ملے، انہوں نے عبداللہ کو دفن کیا، پھر وہ، حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، عبدالرحمٰن ان میں سب سے چھوٹے تھے، پھر اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے عبدالرحمٰن بولنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : عمر میں جو بڑا ہے اس کا لحاظ کرو تو وہ خاموش ہوگئے اور ان کے دونوں ساتھی گفتگو کرنے لگے، پھر عبدالرحمٰن نے بھی ان کے ساتھ گفتگو کی، چناچہ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا تذکرہ کیا، تو آپ نے ان سے فرمایا : کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے، پھر اپنے ساتھی کے خون کے حقدار بنو گے (یا کہا : اپنے قاتل کے) انہوں نے کہا : ہم کیوں کر قسم کھائیں گے جب کہ ہم وہاں موجود نہیں تھے، آپ نے فرمایا : تو پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارا شک دور کریں گے ، انہوں نے کہا : ان کی قسمیں ہم کیوں کر قبول کرسکتے ہیں وہ تو کافر لوگ ہیں، جب یہ چیز رسول اللہ ﷺ نے دیکھی تو آپ نے ان کی دیت خود سے انہیں دے دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4712

【8】

راویوں کے اس حدیث سے متعلق اختلاف

سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل (رض) اپنی کسی ضرورت کے پیش نظر خیبر آئے، پھر وہ باغ میں الگ الگ ہوگئے، عبداللہ بن سہل کا قتل ہوگیا، تو ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور چچا زاد بھائی حویصہ اور محیصہ (رضی اللہ عنہم) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، عبدالرحمٰن نے اپنے بھائی کے معاملے میں گفتگو کی حالانکہ وہ ان میں سب سے چھوٹے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بڑوں کا لحاظ کرو، سب سے بڑا پہلے بات شروع کرے ، چناچہ ان دونوں نے اپنے آدمی کے بارے میں بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، آپ نے ایک ایسی بات کہی جس کا مفہوم یوں تھا : تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں گے ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ایک ایسا معاملہ جہاں ہم موجود نہ تھے، اس کے بارے میں کیوں کر قسم کھائیں ؟ آپ نے فرمایا : تو پھر یہودی اپنے پچاس لوگوں کو قسم کھلا کر تمہارے شک کو دور کریں گے ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! وہ تو کافر لوگ ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے ان کی دیت ادا کی۔ سہل (رض) کہتے ہیں : جب میں ان کے مربد (باڑھ) میں داخل ہوا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4713

【9】

راویوں کے اس حدیث سے متعلق اختلاف

سہل بن ابی حثمہ (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل، محیصہ بن مسعود بن زید خیبر (رض) گئے، ان دنوں صلح چل رہی تھی، وہ اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہوگئے، پھر محیصہ (رض) عبداللہ بن سہل (رض) کے پاس آئے (دیکھا کہ) وہ مقتول ہو کر اپنے خون میں لوٹ رہے تھے، تو انہیں دفن کیا اور مدینے آئے، پھر عبدالرحمٰن بن سہل، حویصہ اور محیصہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو عبدالرحمٰن نے بات کی وہ عمر میں سب سے چھوٹے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بڑے کا لحاظ کرو ، چناچہ وہ خاموش ہوگئے، پھر ان دونوں نے بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم اپنے پچاس آدمیوں کو قسم کھلاؤ گے تاکہ اپنے آدمی (کے خون بہا) یا اپنے قاتل (خون) کے حقدار بنو ؟ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کیوں کر قسم کھائیں گے حالانکہ نہ ہم وہاں موجود تھے اور نہ ہی ہم نے دیکھا۔ آپ نے فرمایا : یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارا شک دور کریں گے ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! ہم کافروں کی قسم کا اعتبار کیوں کر کریں گے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4714

【10】

راویوں کے اس حدیث سے متعلق اختلاف

سہل بن ابی حثمہ (رض) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید (رض) خیبر کی طرف چلے، اس وقت صلح چل رہی تھی، محیصہ اپنے کام کے لیے جدا ہوگئے، پھر وہ عبداللہ بن سہل (رض) کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان کا قتل ہوگیا ہے اور وہ مقتول ہو کر اپنے خون میں لوٹ پوٹ رہے تھے، انہیں دفن کیا اور مدینے آئے، عبدالرحمٰن بن سہل اور مسعود کے بیٹے حویصہ اور محیصہ (رضی اللہ عنہم) رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، عبدالرحمٰن بن سہل (رض) بات کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : بڑوں کا لحاظ کرو ، وہ لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے، تو وہ چپ ہوگئے، پھر انہوں (حویصہ اور محیصہ) نے بات کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم اپنے پچاس آدمیوں کو قسم کھلاؤ گے تاکہ تم اپنے قاتل (کے خون) ، یا اپنے آدمی کے خون (بہا) کے حقدار بنو ، ان لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم قسم کیوں کر کھائیں گے، نہ تو ہم وہاں موجود تھے اور نہ ہم نے انہیں دیکھا، آپ نے فرمایا : تو کیا پچاس یہودیوں کی قسموں سے تمہارا شک دور ہوجائے گا ؟ وہ بولے : اللہ کے رسول ! ہم کافروں کی قسم کا اعتبار کیوں کر کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4715

【11】

راویوں کے اس حدیث سے متعلق اختلاف

سہل بن ابی حثمہ (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود (رض) خیبر کی طرف نکلے پھر اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہوگئے اور عبداللہ بن سہل انصاری (رض) کا قتل ہوگیا۔ چناچہ محیصہ، مقتول کے بھائی عبدالرحمٰن اور حویصہ بن مسعود رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو عبدالرحمٰن بات کرنے لگے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو ۔ پھر محیصہ اور حویصہ (رض) نے گفتگو کی اور عبداللہ بن سہل (رض) کا معاملہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہیں پچاس قسمیں کھانی ہوں گی، پھر تم اپنے قاتل کے (خون کے) حقدار بنو گے ، وہ بولے : ہم قسم کیوں کر کھائیں، نہ ہم موجود تھے اور نہ ہم نے دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تو پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارے شک کو دور کریں گے ۔ وہ بولے : ہم کافروں کی قسمیں کیسے قبول کریں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی دیت ادا کی۔ بشیر کہتے ہیں : مجھ سے سہل بن ابی حثمہ (رض) نے کہا : دیت میں دی گئی ان اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی نے ہمارے مربد (باڑھ) میں مجھے لات ماری۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4716

【12】

راویوں کے اس حدیث سے متعلق اختلاف

سہل بن ابی حثمہ (رض) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل (رض) مقتول پائے گئے، تو ان کے بھائی اور ان کے چچا حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، عبدالرحمٰن (رض) بات کرنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو ، ان دونوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے خیبر کے ایک کنویں میں عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا ہے، آپ نے فرمایا : تمہارا شک کس پر ہے ؟ انہوں نے کہا : ہمارا شک یہودیوں پر ہے، آپ نے فرمایا : کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے کہ یہودیوں نے ہی انہیں قتل کیا ہے ؟ ، انہوں نے کہا : جسے ہم نے دیکھا نہیں، اس پر قسم کیسے کھائیں ؟ آپ نے فرمایا : تو پھر یہودیوں کی پچاس قسمیں کہ انہوں نے عبداللہ بن سہل کو قتل نہیں کیا ہے، تمہارے شک کو دور کریں گی ؟ وہ بولے : ہم ان کی قسموں پر کیسے رضامند ہوں جبکہ وہ مشرک ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔ مالک بن انس نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے (یعنی سہل بن ابی حثمہ کا ذکر نہیں کیا ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4717

【13】

راویوں کے اس حدیث سے متعلق اختلاف

بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود (رض) خیبر کی طرف نکلے، پھر وہ اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہوگئے اور عبداللہ بن سہل (رض) کا قتل ہوگیا، محیصہ (رض) آئے تو وہ اور ان کے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، عبدالرحمٰن (رض) مقتول کے بھائی ہونے کی وجہ سے بات کرنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو ، چناچہ حویصہ اور محیصہ (رض) نے بات کی اور عبداللہ بن سہل کا واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے کہ اپنے آدمی یا اپنے قاتل کے خون کے حقدار بنو ؟ ۔ مالک کہتے ہیں : یحییٰ نے کہا : بشیر نے یہ بھی بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔ سعید بن طائی نے ان راویوں کے برعکس بیان کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧١٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سعید بن طائی کی روایت میں مقتول کے اولیاء سے قسم کھانے کے بجائے گواہ پیش کرنے، پھر مدعی علیہم سے قسم کھلانے کا ذکر ہے۔ امام بخاری نے اسی روایت کو ترجیح دی ہے، (دیات ٢٢ ) بقول امام ابن حجر : بعض رواۃ نے گواہی کا تذکرہ نہیں کیا ہے اور بعض نے کیا ہے، بس اتنی سی بات ہے، حقیقت میں نبی اکرم ﷺ نے پہلے گواہی طلب کی اور گواہی نہ ہونے پر قسم کی بات کہی، اور جب مدعی یہ بھی نہیں پیش کرسکے تو مدعا علیہم سے قسم کی بات کی، اس بات کی تائید عبداللہ بن عمرو (رض) کی اگلی روایت سے بھی ہو رہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4718

【14】

راویوں کے اس حدیث سے متعلق اختلاف

بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری شخص نے ان سے بیان کیا کہ ان کے قبیلہ کے کچھ لوگ خیبر کی طرف چلے، پھر وہ الگ الگ ہوگئے، تو انہیں اپنا ایک آدمی مرا ہوا ملا، انہوں نے ان لوگوں سے جن کے پاس مقتول کو پایا، کہا : ہمارے آدمی کو تم نے قتل کیا ہے، انہوں نے کہا : نہ تو ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہمیں قاتل کا پتا ہے، تو وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا : اللہ کے نبی ! ہم خیبر گئے تھے، وہاں ہم نے اپنا ایک آدمی مقتول پایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو ١ ؎، پھر آپ نے ان سے فرمایا : تمہیں قاتل کے خلاف گواہ پیش کرنا ہوگا ، وہ بولے : ہمارے پاس گواہ تو نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : تو وہ قسم کھائیں گے ، وہ بولے : ہمیں یہودیوں کی قسمیں منظور نہیں، پھر رسول اللہ ﷺ کو گراں گزرا کہ ان کا خون بیکار جائے، تو آپ نے انہیں صدقے کے سو اونٹ کی دیت ادا کی۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) عمرو بن شعیب نے ان (یعنی اوپر مذکور رواۃ) کی مخالفت کی ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧١٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہاں پر یہ ذکر نہیں ہے کہ عمر میں چھوٹے آدمی ( عبدالرحمٰن مقتول کے بھائی ) نے رسول اللہ ﷺ سے بات شروع کی تو آپ نے ادب سکھایا کہ بڑوں کو بات کرنی چاہیئے اور چھوٹوں کو خاموش رہنا چاہیئے۔ ملاحظہ ہو : سابقہ احادیث۔ ٢ ؎: عمرو بن شعیب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن سہل کے بجائے ابن محیصہ الاصغر کو مقتول کہا ہے، اور یہ کہا ہے کہ مدعیان سے شہادت طلب کرنے کے بعد اسے نہ پیش کر پانے کی صورت میں ان سے قسم کھانے کو کہا گیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4719

【15】

راویوں کے اس حدیث سے متعلق اختلاف

عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ محیصہ کے چھوٹے بیٹے کا خیبر کے دروازوں کے پاس قتل ہوگیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو گواہ لاؤ کہ کس نے قتل کیا ہے، میں اسے اس کی رسی سمیت تمہارے حوالے کروں گا ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! ہمیں گواہ کہاں سے ملیں گے ؟ وہ تو انہیں کے دروازے پر قتل ہوا ہے، آپ نے فرمایا : تو پھر تمہیں پچاس قسمیں کھانی ہوں گی ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! جسے میں نہیں جانتا اس پر قسم کیوں کر کھاؤں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تو تم ان سے پچاس قسمیں لے لو ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! ہم ان سے قسمیں کیسے لے سکتے ہیں وہ تو یہودی ہیں، تو آپ نے اس کی دیت یہودیوں پر تقسیم کی اور آدھی دیت دے کر ان کی مدد کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٧٥٩) (شاذ ) وضاحت : ١ ؎: امام نسائی نے اس روایت پر نقد یہ کہہ کر کیا کہ عمرو بن شعیب نے ان رواة کی مخالفت کی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اوپر گزری روایتوں سے اس روایت میں تین جگہ مخالفت ہے : اس میں مقتول کا نام عبداللہ بن سہل کے بجائے ابن محیصہ ہے، اور مدعی سے قسم سے پہلے گواہ پیش کرنے کی بات ہے، ، نیز اس میں یہ ہے کہ آدھی دیت یہودیوں پر مقرر کی، دوسری شق کی تائید کہیں نہ کہیں سے ہوجاتی ہے لیکن بقیہ دو باتیں بالکل شاذ ہیں۔ اس حدیث کے راوی عبید اللہ بن اخنس، بقول ابن حبان : روایت میں بہت غلطیاں کرتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : شاذ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4720

【16】

قصاص سے متعلق احادیث

عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی مسلمان کا خون بہانا جائز تین صورتوں کے علاوہ جائز نہیں ہے : جان کے بدلے جان ١ ؎، جس کا نکاح ہوچکا ہو وہ زنا کرے، جو دین چھوڑ دے اور اس سے پھر جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٢١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اسی لفظ سے قصاص کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ جان ناحق لی گئی ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4721

【17】

قصاص سے متعلق احادیث

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قتل کردیا گیا، قاتل کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، تو آپ نے اسے مقتول کے ولی کے حوالے کردیا ١ ؎، قاتل نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا ارادہ قتل کا نہ تھا، آپ نے مقتول کے ولی سے فرمایا : سنو ! اگر وہ سچ کہہ رہا ہے اور تم نے اسے قتل کردیا تو تم بھی جہنم میں جاؤ گے ، تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ شخص رسی سے بندھا ہوا تھا، وہ اپنی رسی گھسیٹتا ہوا نکلا تو اس کا نام ذوالنسعۃ (رسی والا) پڑگیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٣ (٤٤٩٨) ، سنن الترمذی/الدیات ١٣ (١٤٠٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣٤ (٢٦٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٠٧) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: اس لیے حوالہ کردیا کہ وہ اس کو قصاص میں قتل کردیں، اسی سے قصاص کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4722

【18】

قصاص سے متعلق احادیث

وائل حضرمی (رض) کہتے ہیں کہ اس قاتل کو جس نے قتل کیا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، اسے مقتول کا ولی پکڑ کر لایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم معاف کرو گے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : کیا قتل کرو گے ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : جاؤ (قتل کرو) ، جب وہ (قتل کرنے) چلا تو آپ نے اسے بلا کر کہا : کیا تم معاف کرو گے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : کیا دیت لو گے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : تو کیا قتل کرو گے ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : جاؤ (قتل کرو) ، جب وہ (قتل کرنے) چلا، تو آپ نے فرمایا : اگر تم اسے معاف کر دو تو تمہارا گناہ اور تمہارے (مقتول) آدمی کا گناہ اسی پر ہوگا ١ ؎، چناچہ اس نے اسے معاف کردیا اور اسے چھوڑ دیا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹتا جا رہا تھا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/القسامة ١٠ (الحدود ١٠) (١٦٨٠) ، سنن ابی داود/الدیات ٣ (٤٤٩٩، ٤٥٠٠، ٤٥٠١) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٦٩) ، سنن الدارمی/الدیات ٨ (٢٤٠٤) وأعادہ المؤلف في القضاء ٢٦ (برقم ٥٤١٧) ، وانظرالأرقام التالیة : ٤٧٢٨-٤٧٣٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ بلا کچھ لیے دئیے ولی کے معاف کردینے کی صورت میں ولی اور مقتول دونوں کے گناہ کا حامل قاتل ہوگا، لیکن اس میں اشکال ہے کہ ولی کے گناہ کا حامل کیونکر ہوگا، اس لیے حدیث کے اس ظاہری مفہوم کی توجیہ کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ ولی کے معاف کردینے کے سبب رب العالمین ولی اور مقتول دونوں کو مغفرت سے نوازے گا اور قاتل اس حال میں لوٹے گا کہ مغفرت کے سبب ان دونوں کے گناہ زائل ہوچکے ہوں گے۔ ٢ ؎: یہ وہی آدمی ہے جس کا تذکرہ پچھلی حدیث میں گزرا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4723

【19】

حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف

وائل (رض) کہتے ہیں کہ جب قاتل کو لایا گیا تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، مقتول کا ولی اسے رسی میں کھینچ کر لا رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے مقتول کے ولی سے فرمایا : کیا تم معاف کرو گے ؟ وہ بولا : نہیں، آپ نے فرمایا : کیا دیت لو گے ؟ وہ بولا : نہیں، آپ نے فرمایا : تو کیا تم قتل کرو گے ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : لے جاؤ اسے ، چناچہ جب وہ لے کر چلا اور رخ پھیرا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا : کیا تم معاف کرو گے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : کیا دیت لو گے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : تو قتل ہی کرو گے ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : لے جاؤ اسے ، اسی وقت رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا : سنو ! اگر اسے معاف کرتے ہو تو وہ اپنا گناہ اور تمہارے (مقتول) آدمی کا گناہ سمیٹ لے گا ١ ؎، چناچہ اس نے اسے معاف کردیا، اور اسے چھوڑ دیا، پھر میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مطلب یہ ہے کہ قتل سے پہلے جو گناہ اس کے سر تھا اور قتل کے بعد جس گناہ کا وہ مرتکب ہوا ہے ان دونوں کو وہ سمیٹ لے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4724

【20】

حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف

اس سند سے بھی وائل (رض) نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی روایت کرتے ہیں۔ یحییٰ ١ ؎ کہتے ہیں : یہ اس سے بہتر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٢٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یحییٰ یعنی القطان ( جو راوی بھی ہیں، اور امام جرح و تعدیل بھی، وہ ) فرماتے ہیں : اس حدیث کی یہ سند پچھلی سند سے بہتر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4725

【21】

حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف

وائل (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا، اس کی گردن میں رسی پڑی تھی، اور بولا : اللہ کے رسول ! یہ اور میرا بھائی دونوں ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اتنے میں اس نے کدال اٹھائی اور اپنے ساتھی یعنی میرے بھائی کے سر پر ماری، جس سے وہ مرگیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا، اور کہا : اللہ کے نبی ! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، پھر اس نے کدال اٹھائی، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری، جس سے وہ مرگیا، آپ نے فرمایا : اسے معاف کر دو ، تو اس نے انکار کیا، پھر وہ کھڑا ہوا اور بولا : اللہ کے رسول ! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اس نے کدال اٹھائی، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری، جس سے وہ مرگیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا، آپ نے فرمایا : جاؤ، اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے ١ ؎، وہ اسے لے کر نکل گیا، جب دور نکل گیا تو ہم نے اسے پکارا، کیا تم نہیں سن رہے ہو رسول اللہ ﷺ کیا فرما رہے ہیں ؟ وہ واپس آیا تو آپ نے فرمایا : اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے ، اس نے کہا : ہاں، میں اسے معاف کرتا ہوں، چناچہ وہ نکلا، وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا تھا یہاں تک کہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : کسی جان کو مارنے میں تم اور وہ ایک ہی طرح ہو گے، تمہاری اس پر کوئی فضیلت باقی نہیں رہ جائے گی، اور اگر معاف کر دو گے تو فضل و احسان میں تم کو اس پر فضیلت حاصل ہوجائے گی، خاص طور پر جب اس نے یہ قتل جان بوجھ کر نہیں کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4726

【22】

حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف

وائل (رض) سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو ایک رسی میں گھسیٹتا ہوا آیا، اور کہا : اللہ کے رسول ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا : کیا تم نے اسے قتل کیا ہے ؟ ، اس نے (لانے والے نے) کہا : اللہ کے رسول ! اگر یہ اقبال جرم نہیں کرتا تو میں گواہ لاتا ہوں، اس (قاتل) نے کہا : ہاں، اسے میں نے قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا : اسے تم نے کیسے قتل کیا ؟ اس نے کہا : میں اور وہ ایک درخت سے ایندھن جمع کر رہے تھے، اتنے میں اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے سر پر کلہاڑی مار دی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے جس سے اپنی جان کے بدلے تم اس کی دیت دے سکو ، اس نے کہا : میرے پاس سوائے اس کلہاڑی اور کمبل کے کچھ نہیں، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارا قبیلہ تمہیں خرید لے گا (یعنی تمہاری دیت دیدے گا) وہ بولا : میری اہمیت میرے قبیلہ میں اس (مال) سے بھی کمتر ہے، پھر آپ نے رسی اس شخص (ولی) کے سامنے پھینک دی اور فرمایا : تمہارا آدمی تمہارے سامنے ہے ، جب وہ پلٹ کر چلا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر اس نے اسے قتل کردیا تو یہ بھی اسی جیسا ہوگا ، لوگوں نے اس شخص کو پکڑ کر کہا : تمہارا برا ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : اگر اس نے اسے قتل کردیا تو یہ بھی اسی جیسا ہوگا ، یہ سن کر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لوٹ آیا اور بولا : اللہ کے رسول ! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا : اگر اس نے اسے قتل کردیا تو یہ بھی اسی جیسا ہوگا ، میں نے تو آپ ہی کے حکم سے اسے پکڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ تمہارا گناہ اور تمہارے آدمی کا گناہ سمیٹ لے ؟ ، اس نے کہا : کیوں نہیں ؟ آپ نے فرمایا : تو یہی ہوگا ، اس نے کہا : تو ایسا ہی سہی (میں اسے چھوڑ دیتا ہوں) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٢٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4727

【23】

حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف

وائل (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو گھسیٹتا ہوا آیا، پھر (آگے حدیث) اسی طرح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٢٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4728

【24】

حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف

وائل (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا، اس نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، چناچہ آپ نے اسے قتل کرنے کے لیے مقتول کے ولی کے حوالے کردیا، پھر آپ نے اپنے ساتھ بیٹھنے والوں سے فرمایا : قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے ١ ؎، ایک شخص اس وارث کے پیچھے گیا اور اسے خبر دی، جب اسے یہ معلوم ہوا تو اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، جب اس نے قاتل کو چھوڑ دیا تاکہ وہ چلا جائے تو میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا ہے۔ میں نے اس کا ذکر حبیب سے کیا تو انہوں نے کہا : مجھ سے سعید بن اشوع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو معاف کرنے کا حکم دیا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٢٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ بات آپ نے خاص ان دونوں کے بارے میں نہیں کہی تھی، کیونکہ اس میں نہ تو مذکورہ مقتول کا کوئی قصور تھا، نہ ہی اس کے ولی کا جو اس کو بدلے میں قتل کرتا بلکہ آپ نے ولی کو معافی پر ابھارنے کے لیے یہ جملہ فرمایا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4729

【25】

حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف

انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے آدمی کے قاتل کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے فرمایا : اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا، تو آپ نے فرمایا : دیت لے لو ، اس نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا : جاؤ، اسے قتل کر دو ، تم بھی اسی جیسے ہوجاؤ گے (گناہ میں) ، جب وہ قتل کرنے چلا تو کوئی اس شخص سے ملا اور اس سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے، (اگر) اسے قتل کر دو ، تم بھی اسی طرح ہوجاؤ گے ، چناچہ اس نے اسے چھوڑ دیا، تو وہ شخص (یعنی قاتل جسے معاف کیا گیا) میرے پاس سے اپنی رسی گھسیٹتے ہوئے گزرا۔ تخریج دارالدعوہ : قش/الدیات ٣٤ (٢٦٩١) ، (تحفة الأشراف : ٤٥١) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4730

【26】

حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف

بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا کہ اس شخص نے میرے بھائی کو مار ڈالا، آپ نے فرمایا : جاؤ اسے بھی مار ڈالو جیسا کہ اس نے تمہارے بھائی کو مارا ہے ، اس شخص نے اس سے کہا : اللہ سے ڈرو اور مجھے معاف کر دو ، اس میں تمہیں زیادہ ثواب ملے گا اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے اور تمہارے بھائی کے لیے بہتر ہوگا، یہ سن کر اس نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر ہوئی، آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے جو کہا تھا، آپ سے بیان کیا، آپ نے اس سے زور سے فرمایا : سنو ! یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے جو وہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ معاملہ کرتا، وہ کہے گا (قیامت کے دن) اے میرے رب ! اس سے پوچھ اس نے مجھے کس جرم میں قتل کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٥١) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” بشیر “ لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یہ واقعہ مذکورہ واقعہ کے علاوہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4731

【27】

اس آیت کریمہ|"وان حکمت فاحکم بینھم بالقسط|" کی تفسیر اور اس حدیث میں عکرمہ پر اختلاف سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر یہودیوں کے دو قبیلے تھے، بنو نضیر بنو قریظہ سے بڑھ کر تھے، جب بنو قریظہ کا کوئی شخص بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو وہ اس کے بدلے قتل کردیا جاتا، اور جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرتا تو وہ سو وسق کھجور ادا کردیتا، لیکن جب نبی اکرم ﷺ نبی بنا کر بھیجے گئے تو بنو نضیر کے ایک شخص نے بنو قریظہ کے ایک شخص کو قتل کردیا تو ان لوگوں نے کہا : اسے (قاتل کو) ہمارے حوالے کرو ہم اسے قتل کریں گے، انہوں (بنو نضیر) نے کہا : ہمارے اور تمہارے درمیان ثالث نبی اکرم ﷺ ہوں گے، چناچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو یہ آیت : وإن حکمت فاحکم بينهم بالقسط‏ اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو (المائدہ : ٤٠) نازل ہوئی، قسط یعنی انصاف کا مطلب ہے جان کے بدلے جان لی جائے، پھر یہ آیت ‏أفحکم الجاهلية يبغون کیا یہ لوگ جاہلیت کا انصاف پسند کرتے ہیں (المائدہ : ٥٠) نازل ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١ (٤٤٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٦١٠٩) (صحیح) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے، مگر اگلی سند میں سماک کے متابع ” داود بن حسین “ ہیں، اس کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4732

【28】

اس آیت کریمہ|"وان حکمت فاحکم بینھم بالقسط|" کی تفسیر اور اس حدیث میں عکرمہ پر اختلاف سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مائدہ کی وہ آیات جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاحکم بينهم أو أعرض عنهم سے المقسطين، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے درمیان ایک دیت کے سلسلے میں نازل ہوئی تھیں، وجہ یہ تھی کہ بنو نضیر کے مقتولین کو برتری حاصل ہونے کی وجہ سے ان کی پوری دیت دے دی جاتی تھی اور بنو قریظہ کو آدھی دیت دی جاتی تھی، اس سلسلے میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم ان کے سلسلے میں نازل فرمایا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس سلسلہ میں حق کی ترغیب دلائی اور دیت برابر کردی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأقضیة ١٠ (٣٥٩١) ، (تحفة الأشراف : ٦٠٧٤) ، مسند احمد (١/٣٦٣) (حسن، صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4733

【29】

آزاد اور غلام میں قصاص سے متعلق

قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں اور اشتر علی (رض) کے پاس گئے تو ہم نے کہا : کیا نبی اکرم ﷺ نے آپ کو کوئی ایسی خاص بات بتائی جو عام لوگوں کو نہیں بتائی ؟ انہوں نے کہا : نہیں، سوائے اس کے کہ جو میری اس کتاب میں موجود ہے ١ ؎ پھر انہوں نے اپنی تلوار کی نیام سے ایک تحریر نکالی، اس میں لکھا تھا : سب مسلمانوں کا خون برابر ہے ٢ ؎، اور وہ غیروں کے مقابل (باہمی نصرت و معاونت میں) گویا ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں کا ایک ادنیٰ آدمی بھی ان سب کی طرف سے عہد و امان کی ذمہ داری لے سکتا ہے ٣ ؎ آگاہ رہو ! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمہ داری اسی کے اوپر ہوگی، اور جو نئی بات نکالے گا یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١١ (٤٥٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٥٧) ، مسند احمد (١/١٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اگر میرے لیے کوئی خاص بات ہوتی تو میری اس کتاب میں ضرور ہوتی، جب کہ اس کتاب میں جو کچھ ہے وہ میرے لیے خاص نہیں ہے بلکہ عام ہے، یہ اور بات ہے کہ اوروں کو چھوڑ کر مجھے اسے لکھنے کا حکم دیا گیا۔ ٢ ؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آزاد آدمی اور غلام کے درمیان بھی قصاص کا حکم جاری ہوگا۔ ٣ ؎: یعنی کوئی ادنیٰ مسلمان بھی کسی کافر کو پناہ دیدے تو کوئی مسلمان اسے توڑ نہیں سکتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4734

【30】

آزاد اور غلام میں قصاص سے متعلق

علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سارے مسلمانوں کا خون برابر ہے وہ غیروں کے مقابل (باہمی نصرت و معاونت میں) گویا ایک ہاتھ ہیں اور ان میں کا ایک ادنیٰ آدمی بھی سب کی طرف سے عہد و امان کی ذمہ داری لے سکتا ہے، کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی ذمی کو جب تک وہ ذمہ میں رہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٢٧٩) ، مسند احمد (١/٨١، ١١٩) ، ویأتي برقم : ٤٧٤٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4735

【31】

اگر کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس کے عوض قتل کیا جائے

سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے گا تو ہم اسے قتل کریں گے اور جو کوئی اس کا عضو کاٹے گا تو ہم اس کا عضو کاٹیں گے اور جو کوئی اپنے غلام کو خصی کرے گا، ہم اسے خصی کریں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٧ (٤٥١٥) ، سنن الترمذی/الدیات ١٨(١٤١٤) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٣ (٢٦٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٨٦) ، مسند احمد (٥/١٠، ١١، ١٢، ١٨، ١٩) ، سنن الدارمی/الدیات ٧ (٢٤٠٣) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٥١٦، ٤٥١٧، ٤٧٤١، ٤٧٤٢، ٤٧٥٧، ٤٧٥٨) (ضعیف) (اس کے رواة ” قتادہ “ اور ” حسن بصری “ دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز سمرہ رضی الله عنہ سے حسن بصری کے سماع میں اختلاف ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4736

【32】

اگر کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس کے عوض قتل کیا جائے

سمرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اپنے غلام کو قتل کر دے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کا عضو کاٹے گا ہم اس کا عضو کاٹیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4737

【33】

اگر کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس کے عوض قتل کیا جائے

سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے گا تو ہم اسے قتل کریں گے اور جو کوئی اس کا عضو کاٹے گا، ہم اس کا عضو کاٹیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٤٠ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4738

【34】

عورت کو عورت کے عوض قتل کرنا

عبداللہ بن عباس (رض) عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کی تلاش تھی، تو حمل بن مالک (رض) نے کھڑے ہو کر کہا : میں دو عورتوں کے کمروں کے درمیان میں رہتا تھا، ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا اور اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو مار ڈالا، تو نبی اکرم ﷺ نے بچے کے بدلے ایک غلام یا لونڈی دینے اور اس (عورت) کے بدلے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٢، ٤٥٧٣، ٤٥٧٤) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٤١) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٤٤) مسند احمد (١/٣٦٤) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٨٢٠ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4739

【35】

مرد کو عورت کے عوض قتل کرنے سے متعلق

انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے زیور کی خاطر ایک لڑکی کو قتل کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس (لڑکی) کے قصاص میں اسے مار ڈالنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ١٣ (٦٨٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٨) ، مسند احمد (٣/١٧٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4740

【36】

مرد کو عورت کے عوض قتل کرنے سے متعلق

انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا زیور لے لیا، اور پھر اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا، لوگوں نے اس عورت کو اس حال میں پایا کہ اس میں کچھ جان باقی تھی، وہ اسے لے کر لوگوں کے پاس پہنچے، یہ پوچھتے ہوئے : کیا اس نے مارا ہے، کیا اس نے مارا ہے، وہ بولی : ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا، پھر اس کا بھی سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٤٠) ، مسند احمد (٣/٢٦٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4741

【37】

مرد کو عورت کے عوض قتل کرنے سے متعلق

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک لڑکی نکلی وہ زیور ہار پہنے ہوئے تھی، ایک یہودی نے اسے پکڑا اور اس کا سر کچل دیا اور جو زیور وہ پہنے ہوئے تھی اسے لے لیا، پھر وہ پائی گئی، اس کی سانس چل رہی تھی، اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، تو آپ نے پوچھا : تمہیں کس نے قتل کیا ؟ کیا فلاں نے ؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام آیا، اس نے سر کے اشارے سے کہا : ہاں، تو اسے گرفتار کیا گیا، اس نے اقبال جرم کرلیا، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اور دو پتھروں کے درمیان اس کا سر کچل دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ٥ (٢٧٤٦) ، الدیات ٤ (٦٨٧٦) ، ١٢ (٦٨٨٤) ، صحیح مسلم/الحدود ٣ (١٦٧٢) ، سنن ابی داود/الدیات ١٠ (٤٥٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٤ (٢٦٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩١) ، مسند احمد (٣/١٨٣، ٢٠٣، ٢٦٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4742

【38】

کافر کے بدلہ مسلمان نہ قتل کیا جائے

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کا قتل جائز نہیں ہے مگر جب تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہو ١ ؎: شادی شدہ ہو کر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا، کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر (ناحق) قتل کرے، کوئی اسلام سے نکل جائے اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ جنگ بناتا پھرے، تو اسے قتل کیا جائے گا، یا سولی پر چڑھایا جائے گا، یا پھر جلا وطن کیا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٥٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اور ان تین صورتوں میں کافر کے بدلے مسلم کو قتل کرنے کی بات نہیں ہے اسی سے مؤلف کا باب پر استدلال ہے، جو بہرحال مبہم ہے، لیکن اگلی حدیث اس باب میں بالکل واضح ہے۔ کافر چاہے حربی ہو یا ذمی، یہی جمہور علماء امت کا قول ہے۔ البتہ ذمی کے قتل کا گناہ بہت ہی زیادہ ہے، دیکھئیے اگلی حدیث۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4743

【39】

کافر کے بدلہ مسلمان نہ قتل کیا جائے

【40】

کافر کے بدلہ مسلمان نہ قتل کیا جائے

ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی (رض) سے کچھ پوچھا، ہم نے کہا : کیا آپ کے پاس قرآن کے سوا رسول اللہ ﷺ کی کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، اس ذات کی قسم، جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ایک بندے کو جو قرآن کی سمجھ دیدے، یا جو اس صحیفہ میں ہے، میں نے کہا : اس صحیفہ میں کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اس میں دیت کے احکام ہیں، قیدیوں کو چھوڑنے کا بیان ہے، اور یہ حکم ہے کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١١) ، الجہاد ١٧١ (٣٠٤٧) ، الدیات ٢٤ (٦٩٠٣) ، ٣١ (٦٩١٥) ، سنن الترمذی/الدیات ١٦ (١٤١٢) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢١ (٢٦٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣١١) ، مسند احمد (١/٧٩) ، سنن الدارمی/الدیات ٥ ٢٤٠١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4744

【41】

کافر کے بدلہ مسلمان نہ قتل کیا جائے

اشتر کہتے ہیں کہ انہوں نے علی (رض) سے کہا : لوگوں میں مشہور ہو رہی ہیں جو وہ سن رہے ہیں، لہٰذا اگر رسول اللہ ﷺ نے آپ سے کوئی بات کہی ہو تو اسے بیان کر دیجئیے، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے کوئی بات ایسی نہیں بتائی جو لوگوں کو نہ بتائی ہو، سوائے اس کے جو ایک صحیفہ میری تلوار کی نیام میں ہے، اس میں لکھا ہے : مومنوں کا خون برابر ہے، ان کا معمولی آدمی بھی کسی کا ذمہ لے سکتا ہے، کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کوئی ذمی جب تک وہ عہد پر قائم رہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٢٥٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4746

【42】

ذمی کافر کے قتل سے متعلق

ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی ذمی کو بلا وجہ قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت حرام کردی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجہاد ١٦٥ (٢٧٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٩٤) ، مسند احمد (٥/٣٦، ٣٨) سنن الدارمی/السیر ٦١ (٢٥٤٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اسے دخول اولیں نصیب نہیں ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4747

【43】

ذمی کافر کے قتل سے متعلق

ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی ذمی کی جان لی جب کہ اس کا خون جائز نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کی خوشبو حرام کردی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4748

【44】

ذمی کافر کے قتل سے متعلق

ایک صحابی رسول (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اہل ذمہ میں سے کسی کا قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت کی دوری سے آتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥٦٥٩) ، مسند احمد (٤/٢٣٧، ٥/٣٦٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4749

【45】

ذمی کافر کے قتل سے متعلق

عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اہل ذمہ میں سے کسی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے آتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٦١٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجزیة ٥ (٣١٦٦) ، الدیات ٢٠ (٦٩١٤) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣٢ (٢٦٨٦) ، مسند احمد (٢/١٨٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4750

【46】

غلاموں میں قصاص نہ ہونا جب کہ خون سے کم جرم کا ارتکاب کریں

عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ غریب لوگوں کے ایک غلام نے امیر لوگوں کے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے انہیں کچھ نہ دلایا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٧ (٤٥٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٦٣) ، مسند احمد (٤/٤٣٨) ، سنن الدارمی/الدیات ١٤ (٢٤١٣) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے مؤلف کا یہ اپنا استدلال ہے، جب کہ امام ابوداؤد (رح) نے اس پر جو باب باندھا ہے وہ اس حدیث کے مفہوم کی صحیح ترجمان ہے ان کے الفاظ ہیں فقراء کے غلام کی جنایت کا باب تب حدیث کا مطلب ہوگا مجرم غلام اگر غریب لوگوں کا ہوگا تو اس سے ساقط ہوجائے گا۔ لیکن مؤلف کا یہ استنباط بہرحال باقی ہے کہ جب یہ جنایت قتل سے کم تر ہو، ورنہ قتل کے بدلے اگر قصاص کا فیصلہ ہو تو بہرحال غلام سے بھی قصاص لیا جائے گا۔ اور دیت کے فیصلے کی صورت میں اگر مالک غریب ہے تو بیت المال سے دیت دی جائے گی اور امام خطابی کے بقول یہاں غلام بمعنی لڑکا ہے نہ کہ غلام بمعنی عبد یعنی اگر غریبوں کے کسی لڑکے نے قتل سے کم تر جنایت کا ارتکاب کیا تو اس کے غریب سرپرستوں سے دیت ساقط ہوجائے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4751

【47】

دانت میں قصاص سے متعلق

انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دانت میں قصاص کا فیصلہ فرمایا، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٨٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/تفسیر البقرة ٢٣ (٤٤٩٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4752

【48】

دانت میں قصاص سے متعلق

سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اپنے غلام کو قتل کیا، اسے ہم قتل کریں گے اور جس نے اپنے غلام کا کوئی عضو کاٹا تو اس کا عضو ہم کاٹیں گے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٤٠ (ضعیف ) وضاحت : ١ ؎: اس آخری جملہ کی باب سے مطابقت ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے، پچھلی اور اگلی حدیثوں میں ہمارے لیے اس موضوع پر کافی مواد موجود ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4753

【49】

دانت میں قصاص سے متعلق

سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے اپنے غلام کو خصی کیا اسے ہم خصی کریں گے اور جس نے اپنے غلام کا عضو کاٹا ہم اس کا عضو کاٹیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٤٠ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4754

【50】

دانت میں قصاص سے متعلق

انس (رض) سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ رضی اللہ عنہا ١ ؎ نے ایک شخص کو زخمی کردیا، وہ لوگ مقدمہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قصاص ہوگا قصاص ، ام ربیع رضی اللہ عنہا بولیں : اللہ کے رسول ! کیا فلاں عورت سے قصاص لیا جائے گا ؟ نہیں، اللہ کی قسم ! اس سے کبھی بھی قصاص نہ لیا جائے گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی ذات پاک ہے، ام ربیع ! قصاص تو اللہ کی کتاب کا حکم ہے ، وہ بولیں : نہیں، اس سے ہرگز قصاص نہ لیا جائے گا، وہ کہتی رہیں، یہاں تک کہ انہوں نے دیت قبول کرلی، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے بندوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کو (قسم میں) سچا کردیتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/القسامة ٥ (١٦٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٢) ، مسند احمد (٣/ ٢٨٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس روایت میں زخمی کرنے والی کا نام ربیع بنت نضر کی بہن ام حارثہ ہے اور اعتراض کرنے والی ربیع ہیں، جب کہ اگلی روایت میں زخمی کرنے کی نسبت خود ربیع بنت نضر کی طرف کی گئی ہے، اور اعتراض کرنے کی نسبت ان کے بھائی انس بن نضر کی طرف کی گئی ہے، حافظ ابن حزم وغیرہ علماء کی تحقیق کے مطابق یہ الگ الگ دو واقعات ہیں، حافظ ابن حجر کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے، (دیکھئیے کتاب الدیات باب ١٩ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4755

【51】

دانت کے قصاص سے متعلق

انس (رض) نے ذکر کیا کہ ان کی پھوپھی نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے، تو نبی اکرم ﷺ نے قصاص کا فیصلہ کیا، ان کے بھائی انس بن نضر (رض) نے کہا : کیا فلاں کا دانت توڑا جائے گا ؟ نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، فلاں کے دانت نہیں توڑے جائیں گے، اور وہ لوگ اس سے پہلے اس کے گھر والوں سے معافی اور دیت کی بات کرچکے تھے، پھر جب ان کے بھائی نے قسم کھائی (وہ انس (رض) کے چچا تھے، جو احد کے دن شہید ہوئے) تو وہ لوگ معاف کرنے پر راضی ہوگئے، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ انہیں سچا کر دکھاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٠٥) صحیح البخاری/ الصلح ٨ (٢٧٠٣) ، و تفسیر البقرة ٢٣ (٤٥٠٠) ، المائدة ٦ (٤٦١١) ، الدیات ١٩ (٦٨٩٤) ، صحیح مسلم/القسامة ٥ (١٦٧٥) ، سنن ابی داود/ الدیات ٣٢ (٤٥٩٥) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٦ (٤٦٦٩) ، مسند احمد ٣/١٢٨، وانظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4756

【52】

دانت کے قصاص سے متعلق

انس (رض) کہتے ہیں کہ ربیع نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے، چناچہ انہوں نے معاف کردینے کی درخواست کی تو ان لوگوں نے انکار کیا، پھر ان کے سامنے دیت کی پیش کش کی گئی، تو انہوں نے اس کا بھی انکار کیا، چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ نے انہیں قصاص کا حکم دیا، انس بن نضر (رض) بولے : اللہ کے رسول ! کیا ربیع کے دانت توڑے جائیں گے ؟ نہیں، قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، وہ نہیں توڑے جائیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا : انس ! اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم ہے ، پھر وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہیں معاف کردیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں جو اگر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے قسم کھائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں سچا کر دکھاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ١٦ (٢٦٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4757

【53】

کاٹ کھانے میں قصاص سے متعلق حضرت عمران بن حصین کی روایت میں اختلاف سے متعلق

عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا، تو اس کا ایک دانت ٹوٹ کر گرگیا (یا دو دانت) اس نے رسول اللہ ﷺ سے فریاد کی، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا : تم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہو ؟ کیا یہ کہ میں اسے حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دئیے رہے تاکہ تم اسے جانور کی طرح چبا ڈالو، اگر تم چاہو تو اپنا ہاتھ اسے دو تاکہ وہ اسے چبائے پھر اگر چاہو تو اسے کھینچ لینا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/القسامة ٤ (الحدود ٤) (١٦٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٤٠) مسند احمد (٤/٢٣٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی کسی کا ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹنے لگے اور وہ اپنا ہاتھ زور سے کھینچ لے جس کی وجہ سے اس کے دانت ٹوٹ جائیں تو ان دانتوں کا قصاص ( یا دیت ) ہاتھ کھینچنے والے سے نہیں لیا جائے گا، یہ بات صرف دانت کھینچنے میں ہی نہیں اس جیسے دیگر معاملات میں بھی ہوگی۔ دیکھئیے اسی حدیث پر مولف کا باب باندھنا الرجل یدفع عن نفسہ ( حدیث نمبر : ٤٧٦٧ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4758

【54】

کاٹ کھانے میں قصاص سے متعلق حضرت عمران بن حصین کی روایت میں اختلاف سے متعلق

عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا، پہلے نے اسے کھینچا تو دوسرے کا دانت نکل پڑا، معاملہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے کچھ نہ دلایا اور فرمایا : کیا چاہتے ہو کہ تم اونٹ کی طرح اپنے بھائی کا گوشت چباؤ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ١٨ (٦٨٩٢) ، صحیح مسلم/القسامة ٤ (١٦٧٣) ، سنن الترمذی/الدیات ٢٠ (١٤١٦) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٠ (٢٦٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٢٣) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٧٦٤-٤٧٦٦) ، مسند احمد (٤/٤٢٧، ٤٢٨، ٤٣٥، سنن الدارمی/الدیات ١٤ (٢٤١٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4759

【55】

کاٹ کھانے میں قصاص سے متعلق حضرت عمران بن حصین کی روایت میں اختلاف سے متعلق

عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ یعلیٰ (رض) کا ایک شخص سے جھگڑا ہوگیا ١ ؎، ان میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا، پھر ایک نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دوسرے کا دانت نکل پڑا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، آپ نے فرمایا : تم میں سے ایک آدمی اونٹ کی طرح اپنے بھائی کے ہاتھ کو کاٹتا ہے (پھر دیت مانگتا ہے) اسے دیت نہیں ملے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٦٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس روایت میں صراحت ہے کہ دانت کاٹنے والے یعلیٰ بن امیہ (رض) تھے اور جس کو دانت کاٹا تھا وہ ان کا مزدور تھا، چونکہ معاملہ خود یعلیٰ (رض) کا تھا اس لیے اپنی روایتوں میں ( جو آگے آرہی ہیں ) انہوں نے دانت کاٹنے والے کا نام مبہم کردیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4760

【56】

کاٹ کھانے میں قصاص سے متعلق حضرت عمران بن حصین کی روایت میں اختلاف سے متعلق

عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ یعلیٰ (رض) نے اس شخص کے بارے میں کہا جس نے دانت کاٹ کھایا، تو اس کا دانت اکھڑ گیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے لیے دیت نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٦٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4761

【57】

کاٹ کھانے میں قصاص سے متعلق حضرت عمران بن حصین کی روایت میں اختلاف سے متعلق

عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک آدمی کے ہاتھ میں دانت کاٹا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : تم چاہتے تھے کہ تم اپنے بھائی کا ہاتھ اونٹ کی طرح چبا ڈالو پھر آپ نے اس کی دیت نہیں دلوائی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٦٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4762

【58】

ایک آدمی خود اپنے کو بچائے اور اس میں دوسرے شخص کا نقصان ہو تو بچانے والے پر ضمان نہیں ہے

یعلیٰ بن منیہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص سے ان کا جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا، پہلے نے اپنا ہاتھ دوسرے کے منہ سے چھڑایا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، معاملہ نبی اکرم ﷺ تک لایا گیا، تو آپ نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جوان اونٹ کی طرح کاٹتا ہے پھر آپ نے اسے تاوان نہیں دلایا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٨٤٧) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4763

【59】

ایک آدمی خود اپنے کو بچائے اور اس میں دوسرے شخص کا نقصان ہو تو بچانے والے پر ضمان نہیں ہے

یعلیٰ بن منیہ (رض) سے روایت ہے کہ بنی تمیم کے ایک آدمی کا ایک شخص سے جھگڑا ہوگیا، تو پہلے نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ کھایا، اس نے اسے کھینچا تو اس کا دانت نکل پڑا، وہ دونوں جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، آپ نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جوان اونٹ کی طرح دانت کاٹتا ہے ، پھر آپ ﷺ نے اس کی دیت نہیں دلوائی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4764

【60】

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

سلمہ بن امیہ اور یعلیٰ بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، ہمارے ساتھ ایک اور ساتھی تھے وہ کسی مسلمان سے لڑ پڑے، اس نے ان کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، انہوں نے ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس دیت کا مطالبہ کرنے آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کے پاس جا کر اونٹ کی طرح اسے دانت کاٹتا ہے، پھر دیت مانگنے آتا ہے، ایسے دانت کی کوئی دیت نہیں ، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے دیت نہیں دلوائی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٠ (٢٦٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٥٤، ١١٨٣٥) ، مسند احمد (٤/٢٢٢، ٢٢٣، ٢٢٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4765

【61】

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

یعلیٰ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ کھایا تو پہلے شخص کا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو قرار دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإجارة ٥ (٢٢٦٥) ، الجہاد ٢٠ (٢٩٧٣) ، المغازي ٧٨ (٤٤١٧) ، الدیات ١٨ (٦٨٩٣) ، صحیح مسلم/الحدود ٤ (١٦٧٤) ، سنن ابی داود/الدیات ٢٤ (٤٥٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٣٧) ، مسند احمد (٤/٢٢٢، ٢٢٣، ٢٢٤) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٧٧١- ٤٧٧٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی دیت نہیں دلوائی۔ قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4766

【62】

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

یعلیٰ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، اس کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، تو اس نے اس کا ہاتھ کاٹ کھایا، چناچہ اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : کیا وہ اپنا ہاتھ چھوڑ دیتا کہ وہ اسے اونٹ کی طرح چبا جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٧٠ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4767

【63】

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

یعلیٰ (رض) کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گیا، میں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، پھر میرے نوکر کی ایک شخص سے لڑائی ہوگئی، تو دوسرے نے اسے دانت کاٹ لیا، چناچہ اس کا دانت اکھڑ گیا، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے لغو قرار دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم ٤٧٧٠ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4768

【64】

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

یعلیٰ بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جیش العسرۃ ١ ؎ (غزوہ تبوک) میں جہاد کیا، میرے خیال میں یہ میرا بہت اہم کام تھا، میرا ایک نوکر تھا، ایک شخص سے اس کا جھگڑا ہوگیا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی انگلی کاٹ کھائی، پھر پہلے نے اپنی انگلی کھینچی تو دوسرے آدمی کا دانت نکل کر گرپڑا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، آپ نے اس کے دانت کی دیت نہیں دلوائی، اور فرمایا : کیا وہ اپنے ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اسے چباتا رہے ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٧٠ (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یہ اس آیت کریمہ : الذين اتبعوه في ساعة العسرة سے ماخوذ ہے اور یہ غزوہ تبوک کا دوسرا نام ہے، اس جنگ میں زاد سفر کی بےانتہا قلت تھی اسی لیے اسے ساعۃ العسرۃ کہا گیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4769

【65】

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

یعلیٰ (رض) سے اس جیسے شخص جس نے دانت کاٹا ہو اور اس کا دانت اکھڑ گیا ہو کے بارے میں روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے لیے دیت نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٦٩ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4770

【66】

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

صفوان بن یعلیٰ بن منیہ (امیہ) سے روایت ہے کہ یعلیٰ بن منیہ (امیہ) (رض) کے ایک نوکر کو ایک دوسرے شخص نے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، اس (نوکر) نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا، یہ معاملہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لے جایا گیا اور حال یہ تھا کہ اس آدمی کا دانت اکھڑ کر گرگیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے لغو قرار دیا، اور فرمایا : کیا وہ تمہارے منہ میں اسے چھوڑ دیتا تاکہ تم اسے اونٹ کی طرح چبا جاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٧٠ (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4771

【67】

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

صفوان بن یعلیٰ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا، انہوں نے ایک نوکر رکھ لیا تھا، اس کا ایک شخص سے جھگڑا ہوگیا تو اس آدمی نے اس (نوکر) کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، جب اسے تکلیف ہوئی تو اس نے اسے زور سے کھینچا، تو اس (آدمی) کا دانت نکل پڑا، یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا، تو آپ نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے بھائی کو چبائے جیسے اونٹ چباتا ہے ؟ چناچہ آپ نے دانت کی دیت نہیں دلوائی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٦٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4772

【68】

کچو کا لگانے میں قصاص

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران اچانک ایک شخص آپ کے اوپر گرپڑا تو آپ نے اسے ایک لکڑی جو آپ کے ساتھ تھی چبھا دی، وہ شخص نکل گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آؤ اور بدلہ لے لو اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے تو معاف کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٥ (٤٥٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٤١٤٧) ، مسند احمد (٣/٢٨) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبیدہ “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4773

【69】

کچو کا لگانے میں قصاص

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ اسی دوران اچانک ایک شخص آپ پر گرپڑا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی چبھا دی، وہ شخص چیخ پڑا تو آپ نے اس سے فرمایا : آؤ، بدلہ لے لو اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے تو معاف کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4774

【70】

طمانچہ مارنے کا انتقام

عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان کے جاہلیت کے کسی باپ دادا کو برا بھلا کہا تو عباس (رض) نے اسے تھپڑ مار دیا، اس کے آدمیوں نے آ کر کہا : وہ لوگ بھی انہیں تھپڑ ماریں گے جیسا کہ انہوں نے مارا ہے اور ہتھیار اٹھا لیے۔ یہ بات نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ منبر پر چڑھے اور فرمایا : لوگو ! تم جانتے ہو کہ زمین والوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت کون ہے ؟ انہوں نے کہا : آپ، آپ نے فرمایا : تو عباس میرے ہیں اور میں عباس کا ہوں، تم لوگ ہمارے مردوں کو برا بھلا نہ کہو جس سے ہمارے زندوں کو تکلیف ہو ، ان لوگوں نے آ کر کہا : اللہ کے رسول ! ہم آپ کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٥٤٥) ، مسند احمد (١/٣٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبدالاعلی ثعلبی “ حافظہ کے کمزور ہیں، لیکن اس کا جملہ ” لاتسبوا ۔۔۔ “ شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4775

【71】

پکڑ کر کھینچنے کا قصاص

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا کرتے تھے، جب آپ کھڑے ہوتے، ہم کھڑے ہوجاتے، ایک دن آپ کھڑے ہوئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ جب آپ مسجد کے بیچوں بیچ پہنچے تو ایک شخص نے آپ کو پکڑا اور پیچھے سے آپ کی چادر پکڑ کر کھینچے لگا، وہ چادر بہت کھردری تھی، آپ کی گردن سرخ ہوگئی، وہ بولا : اے محمد ! میرے لیے میرے ان دو اونٹوں کو لاد دیجئیے، آپ کوئی اپنے مال سے تو کسی کو دیتے نہیں اور نہ اپنے باپ کے مال سے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہیں، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، میں تجھے نہیں دوں گا جب تک تو میری اس گردن کھینچنے کا بدلہ نہیں دے گا ، اعرابی نے کہا : نہیں، اللہ کی قسم، میں بدلہ نہیں دوں گا، رسول اللہ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا، ہر مرتبہ اس نے کہا : نہیں، اللہ کی قسم میں بدلہ نہیں دوں گا، جب ہم نے اعرابی کی بات سنی تو ہم دوڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : میں قسم دیتا ہوں، تم میں سے جو میری بات سنے اپنی جگہ سے نہ ہٹے، یہاں تک کہ میں اسے اجازت دے دوں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے قوم کے ایک آدمی سے کہا : اے فلاں ! اس کے ایک اونٹ پر جَو لاد دو اور ایک اونٹ پر کھجور ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ جاسکتے ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأدب ١(٤٧٧٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٠١) ، مسند احمد (٢/٢٨٨) (ضعیف) (اس کے راوی ہلال بن ابی ہلال لین الحدیث ہیں، لیکن اعرابی کے آپ کو پکڑ کر کھینچنے کا قصہ صحیح بخاری (لباس ١٨) میں انس رضی الله عنہ سے مروی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف لکن قصة الأعرابي وجبذه وأمره صلى الله عليه وسلم له بعطاء في ق صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4776

【72】

بادشاہوں سے قصاص لینا

عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ اپنی ذات سے بدلا دلاتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٥ (٤٥٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٦٤) ، مسند احمد ١/٤١ (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو فراس “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4777

【73】

بادشاہوں سے قصاص لینا

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوجہم بن حذیفہ (رض) کو زکاۃ لینے کے لیے بھیجا تو ایک شخص اپنے صدقے کے سلسلے میں ان سے لڑ گیا، تو ابوجہم نے اسے مار دیا، ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا : اتنا اتنا مال لے لو ، وہ اس پر راضی نہ ہوئے، تو آپ نے فرمایا : (اچھا) اتنا اتنا مال لے لو ، تو وہ اس پر راضی ہوگئے، پھر آپ نے فرمایا : میں لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں تمہاری رضا مندی کی اطلاع دوں گا ، ان لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے خطاب کیا اور فرمایا : یہ لوگ میرے پاس قصاص مانگنے آئے تھے تو میں نے ان پر اتنے اتنے مال کی پیش کش کی ہے اور وہ اس پر راضی ہیں ، لیکن وہ لوگ بولے : نہیں، تو مہاجرین نے انہیں سزا دینے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ٹھہر جانے کا حکم دیا، چناچہ وہ لوگ باز رہے، پھر آپ نے انہیں بلایا اور فرمایا : کیا تم رضامند ہو ؟ وہ بولے : جی ہاں، آپ نے فرمایا : میں لوگوں سے خطاب کروں گا اور تمہاری رضا مندی کی انہیں اطلاع دوں گا ، انہوں نے کہا : ٹھیک ہے، چناچہ آپ نے لوگوں سے خطاب کیا پھر (ان سے) فرمایا : کیا تم اس پر راضی ہو ؟ وہ بولے : جی ہاں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٣ (٤٥٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٠ (٢٦٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٣٦) ، مسند احمد (٦/٢٣٢) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: امام ابوداؤد (رح) نے اس حدیث پر باب باندھا ہے العامل یصاب علی یدہ خطأ یعنی عامل کے ذریعہ کسی کو غلطی سے زخم لگ جائے اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرکاری عامل ہونے کی وجہ سے قصاص معاف نہیں ہوگا، ہاں دیت پر راضی ہوجانے کی صورت میں سرکاری بیت المال سے دیت دلوائی جائے گی جیسا کہ آپ ﷺ نے دلوائی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4778

【74】

تلوار کے علاوہ دوسری چیز سے قصاص لینے کے بارے میں

انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو زیور پہنے دیکھا تو اسے پتھر سے مار ڈالا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لائی گئی، اس میں کچھ جان باقی تھی، آپ نے فرمایا : کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے ؟ (شعبہ نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ) اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے ؟ (شعبہ نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ) اس نے کہا : نہیں، پھر آپ نے فرمایا : کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے ؟ (پھر شعبہ نے سر کے اشارے سے کہا کہ) اس نے کہا : ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور دو پتھروں کے درمیان کچل کر اسے مار ڈالا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٢٤ (٥٢٩٥ تعلیقًا) ، الدیات ٤ (٦٨٧٧) ، ٥ (٦٨٧٩) ، صحیح مسلم/الحدود ٣ (١٦٧٢) ، سنن ابی داود/الدیات ١٠ (٤٥٢٩) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٤ (٢٦٦٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣١) ، مسند احمد (٣/١٧١، ٢٠٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے اس یہودی سے تلوار کی بجائے پتھروں سے اس کا سر کچل کر قصاص لیا، اس سے ثابت ہوا کہ قصاص صرف تلوار ہی سے ضروری نہیں ہے ( جیسا کہ حنفیہ کا قول ہے ) بلکہ یہ تو ارشاد ربانی کے مطابق ہے وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ( سورة النحل : 126) فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدى عليكم ( سورة البقرة : 194) حنفیہ حدیث لا قود إلا بالسیف یعنی : قصاص صرف تلوار ہی سے ہے سے استدلال کرتے ہیں، حالانکہ یہ حدیث ہر طریقے سے ضعیف ہے، بلکہ بقول امام ابوحاتم منکر ہے ( کذا فی نیل الا ٔوطار والإرواء رقم ٢٢٢٩ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4779

【75】

تلوار کے علاوہ دوسری چیز سے قصاص لینے کے بارے میں

قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ خثعم کے کچھ لوگوں کی طرف (فوج کی) ایک ٹکڑی بھیجی، تو انہوں نے سجدہ کر کے اپنے کو بچانا چاہا، پھر بھی وہ سب قتل کر دئیے گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آدھی دیت ادا کی ١ ؎ اور فرمایا : میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرک کے ساتھ رہے ٢ ؎، پھر آپ نے فرمایا : سنو ! (مسلمان اور کافر اس حد تک دور رہیں کہ) ان دونوں کو ایک دوسرے کی آگ نظر نہ آئے ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجہاد ١٠٥ (٢٦٤٥) ، سنن الترمذی/السیر ٤٣ (١٦٠٤، ١٦٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٢٧، ١٩٢٣٣) (صحیح مرسلاً وموصولاً ) (یہ حدیث ابوداود اور ترمذی وغیرہ میں قیس بن ابی حازم نے جریر بن عبداللہ سے روایت کی ہے، لیکن قیس کے شاگردوں کی ایک جماعت نے قیس کے بعد جریر رضی الله عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ مرسلا ہی روایت کی ہے، امام بخاری نے بھی مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے، مگر موصول کی بھی صحیح متابعات موجود ہیں جیسا کہ علامہ البانی نے ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو : الإروائ : ١٢٠٧ ) وضاحت : ١ ؎: آدھی دیت کا حکم دیا اور باقی آدھی کفار کے ساتھ رہنے سے ساقط ہوگئی کیونکہ کافروں کے ساتھ رہ کر اپنی ذات کو انہوں نے جو فائدہ پہنچایا درحقیقت یہ ایک جرم تھا اور اسی جرم کی پاداش میں آدھی دیت ساقط ہوگئی۔ ٢ ؎: اس جملہ کی توجیہ میں تین اقوال وارد ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ دونوں کا حکم یکساں نہیں ہوسکتا، دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دارالاسلام کو دارالکفر سے علاحدہ کردیا ہے لہٰذا مسلمان کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہے، تیسرا یہ کہ مسلمان مشرک کی خصوصیات اور علامتوں کو نہ اپنائے اور نہ ہی چال ڈھال اور شکل و صورت میں ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرے۔ ٣ ؎: اس حدیث کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں، ممکن ہے اس سے پہلے والے باب کی حدیث ہو اور نساخ کے تصرف سے اس باب کے تحت آگئی ہو، اور اس حدیث کا مصداق ساری دنیا کے مسلمان نہیں ہیں کہ وہ ہر ملک میں کافروں سے الگ سکونت اختیار کریں، اس زمانہ میں تو یہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے، اس کا مصداق ایسے علاقے ہیں جہاں اسلامی حکومت ہو، اور سارے حالات و اختیارات مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوں، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے بعد خلفاء راشدین وغیرہ کے عہدوں میں تھا، اور آج سعودیہ اور دیگر مسلم ممالک میں ہے، بعض مسلم ممالک کے اندر بھی موجودہ حالات میں الگ تھلگ رہائش مشکل ہے، لايكلف الله نفسا إلا وسعها ( سورة البقرة : ٢٨٦) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4780

【76】

آیت کریمہ کی تفسیر

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں قصاص کا حکم تھا، ان میں دیت دینے کا حکم نہ تھا، تو اللہ تعالیٰ نے كتب عليكم القصاص في القتلى الحر بالحر والعبد بالعبد والأنثى بالأنثى تم پر قصاص فرض کیا گیا ان لوگوں کا جو مارے جائیں، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت سے فمن عفي له من أخيه شىء ف اتباع بالمعروف وأداء إليه بإحسان جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کردیا جائے تو معاف کرنے والا دستور کی پیروی کرے اور جس کو معاف کیا گیا وہ اچھی طرح دیت ادا کرے۔ (تمہارے رب کی طرف سے) یہ تخفیف اور رحمت ہے، اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے گا، اسے درد ناک عذاب ہوگا (البقرہ : ١٧٨) تک نازل فرمایا، تو عفو یہ ہے کہ قتل عمد میں دیت قبول کرلے اور اتباع بالمعروف یہ ہے کہ وہ دستور کی پابندی کرے، اور وأداء إليه بإحسان یہ ہے کہ وہ اسے اچھی طرح ادا کرے، ذلک تخفيف من ربکم ورحمة یہ تخفیف ہے تمہارے رب کی طرف سے اور رحمت ہے اس لیے کہ تم سے پہلے کے لوگوں پر صرف قصاص فرض تھا، دیت کا حکم نہیں تھا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة البقرة ٢٣ (٤٤٩٨) ، والدیات ٨ (٦٨٨١) ، (تحفة الأشراف : ٦٤١٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4781

【77】

آیت کریمہ کی تفسیر

مجاہد اس آیت کریمہ كتب عليكم القصاص في القتلى الحر بالحر تم پر قصاص فرض کیا گیا ان لوگوں کا جو مارے جائیں، آزاد کے بدلے آزاد کے سلسلہ میں کہتے ہیں : بنی اسرائیل پر صرف قصاص فرض تھا، ان پر دیت نہیں تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے دیت کا حکم نازل فرمایا، تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بالمقابل اس امت محمدیہ پر تخفیف کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4782

【78】

قصاص سے معاف کرنے کے حکم سے متعلق

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قصاص کا ایک معاملہ آیا تو آپ نے اسے معاف کردینے کا حکم دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٣ (٤٤٩٧) ، سنن ابن ماجہ/البیوع ٣٥ (٢٦٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٥) ، مسند احمد (٣/٢١٣، ٢٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : سفارش کی تاکہ قصاص نہ لے کر دیت پر راضی ہوجائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4783

【79】

قصاص سے معاف کرنے کے حکم سے متعلق

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب بھی کوئی ایسا معاملہ آیا جس میں قصاص ہو تو آپ نے اسے معاف کردینے کا حکم دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : سفارش کی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4784

【80】

کیا قاتل سے دیت وصول کی جائے جس وقت مقتول کا وارث خون معاف کر دے؟

ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کا کوئی آدمی قتل ہوگیا ہو تو اسے اختیار ہے، چاہے تو قصاص لے، چاہے تو دیت لے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١٢) ، اللقطة ٧ (٢٤٣٤) ، الدیات ٨ (٦٨٨٠) ، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٥) ، سنن ابی داود/الدیات ٤ (٤٥٠٥) ، سنن الترمذی/الدیات ١٣ (١٤٠٥) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣ (٢٦٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٣٨٣، ١٩٥٨٨) ، مسند احمد (٢/٢٣٨) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٧٩٠، ٤٧٩١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: قتل عمد میں مقتول کے وارثین کے لیے قصاص یا دیت دونوں میں کسی ایک کو اختیار کرنے کا حق ہے ( اس میں قاتل کی مرضی کا کوئی دخل نہیں ) اگر قصاص معاف کردیتے ہیں تو دیت واجب ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4785

【81】

کیا قاتل سے دیت وصول کی جائے جس وقت مقتول کا وارث خون معاف کر دے؟

ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کا کوئی آدمی قتل ہوگیا ہو تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے، چاہے تو قصاص لے اور چاہے تو دیت لے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4786

【82】

کیا قاتل سے دیت وصول کی جائے جس وقت مقتول کا وارث خون معاف کر دے؟

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کا کوئی شخص قتل کردیا گیا (یعنی وہ چاہے تو قصاص لے، اور چاہے تو دیت لے) (یہ روایت مرسل ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر رقم ٤٧٨٩ (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، جیسا کہ مؤلف نے ذکر فرمایا اس لیے کہ اس روایت میں ابو سلمہ نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن سابقہ حدیث میں واسطہ کا ذکر ہے یعنی ابوہریرہ رضی الله عنہ ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4787

【83】

خواتین کے خون معاف کرنا

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لڑنے والوں پر لازم ہے کہ وہ قصاص لینے سے باز رہیں، پہلے جو (مقتول کے وارثین میں) سب سے قریبی ہو وہ معاف کرے، پھر اس کے بعد والے، خواہ عورت ہی ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٦ (٤٥٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٠٦) (ضعیف) (اس کے راوی ” حصن “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4788

【84】

جو پتھر یا کوڑے سے مارا جائے

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی ہنگامے، یا بلوے اور فساد میں (جہاں قاتل معلوم نہ ہو سکے) کسی پتھر یا کوڑے یا ڈنڈے سے مارا جائے تو اس کی دیت وہی ہوگی جو قتل خطا کی ہے اور جس نے قصداً مارا تو اس پر قصاص ہوگا، جو کوئی قصاص اور قاتل کے درمیان حائل ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہوگا نہ نفل ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٧ (٤٥٣٩، ٤٥٤٠) ، ٢٨ (٤٥٩١) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٨ (٢٦٣٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٣٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: قتل تلوار سے ہو یا ایسے ہتھیار سے جس سے قتل کیا جاتا ہے : اگر قتل کی نیت سے ہو تو قتل عمد ( مقصد و ارادہ اور جان بوجھ کر قتل ) ہے، اس میں قصاص ہے یا معاف کردینے کی صورت میں دیت ہے، اور اگر قتل غلطی سے ہو خواہ کسی چیز سے بھی ہو تو اس میں دیت ہے، یہی حکم بندوق یا بم کا بھی ہوگا، فساد اور ہنگامے میں قتل خواہ کسی چیز سے ہو وہ غلطی سے قتل مانا جائے گا اور اس میں دیت ہوگی۔ جس کی تفصیل اس حدیث میں ہے اور یہی دیت مغلظہ ہے۔ اور فی زمانہ موجودہ سرکار مذکورہ دیت کی قیمت موجودہ بھاؤ سے لگا کر دیت مقرر کرے گی جیسا کہ سعودی عربیہ میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4789

【85】

جو پتھر یا کوڑے سے مارا جائے

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو کسی ہنگامے یا بلوے میں کسی پتھر، کوڑے یا ڈنڈے سے مارا جائے تو اس کی دیت وہی ہے جو قتل خطا کی ہے، اور جس نے جان بوجھ کر مارا تو اس میں قصاص ہے اور جو کوئی اس کے اور اس کے (قصاص اور قاتل) کے درمیان حائل ہوگا تو اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کا نہ فرض قبول ہوگا نہ کوئی نفل ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4790

【86】

شبہ عمد کی دیت کیا ہوگی؟

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خطا یعنی شبہ عمد کے طور پر جو شخص کوڑے یا ڈنڈے سے مرجائے تو اس کی دیت سو اونٹ ہے، چالیس ان میں سے حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ٥ (٢٦٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٩١١) ، ٨٩١١، ١٩١٩٤) ، مسند احمد (١/١٦٤، ١٦٦) ، سنن الدارمی/الدیات ٢٢ ٢٤٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: شبہ عمد : ایسے آلات سے قتل کرنے کو کہتے ہیں جن سے عام طور سے قتل نہیں کیا جاتا، جیسے لاٹھی، کوڑا، اور موٹی سوئی وغیرہ ( گرچہ نیت قتل کی ہو ) اس میں جس دیت کا بیان ہے وہی دیت مغلظہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4791

【87】

شبہ عمد کی دیت کیا ہوگی؟

قاسم بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز خطبہ دیا۔ یہ روایت مرسل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، جیسا کہ مؤلف نے ذکر کیا اس لیے قاسم بن ربیعہ اور نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے درمیان صحابی کا ذکر نہیں ہے لیکن پچھلی سند سے متصل مرفوع ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4792

【88】

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سنو ! جو شخص قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے، یا ڈنڈے سے مرجائے تو اس کی دیت سو اونٹ ہے، جن میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٩ (٤٥٤٧، ٤٥٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٥ (٢٦٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٨٩، ١٩١٠٠) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٧٩٨-٤٨٠٢، ٤٨٠٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4793

【89】

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

ایک صحابی سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا، اور فرمایا : سنو ! قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے، ڈنڈے اور پتھر سے مرنے والے کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس ثنی سے لے کر بازلت ہوں (یعنی چھ برس سے نو برس تک کی ہوں) اور سب بوجھ لادنے کے لائق ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4794

【90】

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

عقبہ بن اوس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سنو ! جو قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے یا ڈنڈے سے مرجائے تو اس کی دیت مغلظہ سو اونٹ ہے، ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٤٩٧ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ اس میں صحابی کا ذکر نہیں ہے، مگر دوسری سند سے متصل مرفوع ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4795

【91】

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

ایک صحابی رسول (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا : سنو ! ہر مقتول خواہ غلطی سے مارا گیا ہو یا شبہ عمد کے طور پر ہو، وہ کوڑے یا ڈنڈے سے قتل کیے گئے شخص کی طرح ہے (یعنی اس کی دیت بھی وہی ہے جو اس کی ہے) اس میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٤٩٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4796

【92】

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

ایک صحابی رسول (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن جب مکہ آئے تو فرمایا : سنو ! خطا سے مقتول ہونے والا کوڑے اور ڈنڈے سے مرجانے والے کی طرح ہے (یعنی اس کی دیت بھی وہی ہے) ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٤٩٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4797

【93】

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

ایک صحابی رسول (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا : خطا سے مقتول ہونے والا، کوڑے اور ڈنڈے سے مقتول ہونے والے کی طرح ہے، ان میں چالیس ایسی اونٹنیاں ہوں جو حاملہ ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٤٩٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4798

【94】

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کعبے کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا : شکر ہے اس اللہ کا جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، جماعتوں کو اکیلے ہی شکست دی، سنو ! کوڑے اور ڈنڈے سے غلطی سے مرجانے والا شبہ عمد کی طرح ہے، اس میں بھی دیت مغلظہ سو اونٹ ہے، ان میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٩ (٤٥٤٩) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٥ (٢٦٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٧٢) (صحیح) (اس کے راوی ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں، لیکن پچھلی سن دوں سے یہ روایت بھی صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4799

【95】

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

قاسم بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ڈنڈے یا کوڑے سے غلطی سے قتل ہوجانا شبہ عمد کی طرح ہے، اس میں سو اونٹ کی دیت ہوگی جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٩٧ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، مگر پچھلی روایتیں متصل مرفوع ہیں ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4800

【96】

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص خطا (غلطی) سے مارا جائے اس کی دیت سو اونٹ ہے : تیس اونٹنیاں ہیں جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہوگئے ہوں، اور آپ نے گاؤں والوں پر دیت کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت (کی مالیت) بھی زیادہ ہوتی اور جب سستے ہوتے تو دیت بھی کم ہوجاتی، چناچہ آپ کے زمانے میں دیت کی قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک پہنچ گئی یا اسی کے برابر چاندی، آپ ﷺ نے یہ بھی فیصلہ فرمایا : گائے والوں سے دو سو گائیں اور بکری والوں سے دو ہزار بکریاں (دیت میں) لی جائیں، نیز آپ ﷺ نے حکم فرمایا : دیت مقتول کے ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق ترکہ ہے، پھر جو بچ رہے وہ عصبہ کے اوپر ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عورت کی طرف سے اس کی دیت اس کے عصبہ ادا کریں گے جو بھی ہوں، لیکن وہ (ملنے والی) دیت میں کسی چیز کے وارث نہیں ہوں گے سوائے اس کے جو بچ رہے، اور اگر عورت مقتول ہو تو اس کی دیت اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگی اور وہ اس کے قاتل کو قتل کریں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٨ (٤٥٤١) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٠٩، ٨٧١٠) ، مسند احمد (٢/١٨٣، ٢١٧، ٢٢٤) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4801

【97】

قتل خطاء کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قتل خطا کی دیت میں بیس اونٹنیاں ایک ایک سال کی جو دوسرے میں لگی ہوں، بیس اونٹ جو ایک ایک سال کے ہوں اور دوسرے میں لگے ہوں، بیس اونٹنیاں دو دو سال کی جو تیسرے میں لگی ہوں، بیس اونٹنیاں چار چار سال کی جو پانچویں میں لگی ہوں اور بیس اونٹنیاں تین تین سال کی جو چوتھے میں لگی ہوں دینے کا حکم کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٨ (٤٥٤٥) ، سنن الترمذی/الدیات ١ (١٣٨٦) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٣١) ، (تحفة الأشراف : ٩١٩٨) ، مسند احمد (١/٤٥٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” حجاج بن ارطاة “ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں، نیز ” خشف “ کی ثقاہت میں بھی کلام ہے ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے پچھلی حدیث پر عمل ہوگا جو صحیح ہے، رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے مقتول ( جس کا ذکر قسامہ کے شروع میں گزرا ) کی دیت میں سو اونٹ ادا کئے تھے جن میں کوئی بھی ابن مخاض نہیں تھا جس کا ذکر اس ضعیف حدیث میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4802

【98】

چاندی کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے ایک شخص کو قتل کردیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی، اور دیت لینے سے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا إلا أن أغناهم اللہ ورسوله من فضله مگر یہ کہ اب اللہ اور اس کے رسول نے ان کو مالدار کردیا ہے (المائدہ : ٥٠) ، الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٨ (٤٥٤٦) ، سنن الترمذی/الدیات ٢ (١٣٨٨، ١٣٨٩) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٦١٦٥) (ضعیف) (اس روایت کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے جیسا کہ امام ابوداود نے صراحت کی ہے، اس کو عمرو بن دینار سے سفیان بن عیینہ (جو محمد بن مسلم طائفی کے بالمقابل اوثق ہیں) نے بھی روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے ابن عباس رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4803

【99】

چاندی کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بارہ ہزار درہم کا فیصلہ کیا یعنی دیت میں۔ تخریج دارالدعوہ : انظرما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4804

【100】

عورت کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عورت کی دیت ایک تہائی دیت تک مرد کی دیت کی طرح ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٧٤٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” اسماعیل بن عیاش “ حجازیوں سے روایت میں ضعیف ہیں، نیز ” ابن جریج “ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث اصول حدیث کے حساب سے ضعیف ہے، مگر جمہور علماء کا یہی قول ہے، بلکہ بعض لوگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے، اور یہ کہ ابن خزیمہ نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی مکمل دیت سو اونٹ ہے اور عورت کے قتل عمد و شبہ عمد و خطا میں آدھی دیت پچاس اونٹ واجب الاداء ہوں گے، لیکن اگر اعضاء کے تلف کرنے کی دیت ہو تو جیسے ایک انگلی کی دیت دس اونٹ ہیں، مان لیا کہ کسی نے کسی عورت کی چار انگلیاں توڑ دیں تو ان کی دیت چالیس اونٹ ہوئے جو سو کے ثلث ( ٣٣ ) سے زیادہ ہوگئے تو اب انگلیاں توڑنے والے پر صرف بیس ( ٢٠ ) اونٹ واجب ہوں گے، (علی ھذا القیاس ) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4805

【101】

کافر کی دیت سے متعلق حدیث

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ذمیوں کی دیت مسلمانوں کی دیت کی آدھی ہے، اور ذمیوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٧١٤) مسند احمد (٢/١٨٣، ٢٢٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث صحیح ہے، اور اسی پر جمہور کا عمل ہے، حنفیہ کا قول ہے کہ مسلم کافر ذمی سب کی دیت ( خون بہا ) برابر ہے، ان کا استدلال دی ۃ المعاہد دی ۃ الحر المسلم سے ہے جو مرسل اور ضعیف ہے، جب کہ باب کی یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کی حکمت یہ ہے کہ مسلم کو کافر پر برتری حاصل ہے جس کے اظہار کا یہ بھی ایک ذریعہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4806

【102】

کافر کی دیت سے متعلق حدیث

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کافر کی دیت مومن کی دیت کی آدھی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدیات ١٧ (١٤١٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٥٨) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4807

【103】

مکاتب کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکاتب کے بارے میں حکم کیا کہ مکاتب غلام اگر قتل ہوجائے تو اس کی دیت اتنے حصے میں جو وہ بدل کتابت کے طور پر ادا کرچکا ہے آزاد کی دیت کے مثل ہوگی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٢ (٤٥٨١) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٤٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/البیوع ٣٥ (١٢٥٩) ، مسند احمد (١/٢٢٢، ٢٢٦، ٢٦٠، ٢٩٢، ٣٦٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4808

【104】

مکاتب کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مکاتب غلام کے بارے میں فیصلہ فرمایا : اس کی اتنے حصے کی دیت جس قدر وہ آزاد ہوچکا ہو آزاد کی دیت کے مثل ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4809

【105】

مکاتب کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکاتب غلام کے بارے میں فیصلہ کیا کہ جس قدر اس نے مکاتبت کا بدل ادا کردیا ہو، اتنے کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہوگی، اور جس کی ادائیگی باقی ہو اس کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہوگی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨١٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4810

【106】

مکاتب کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مکاتب اسی قدر آزاد ہوگا جتنا اس نے بدل مکاتبت ادا کردیا ہو اور اس پر حد بھی اسی قدر نافذ ہوگی جس قدر وہ آزاد ہوچکا ہو، اور وہ وارث بھی اسی قدر ہوگا جس قدر آزاد ہوچکا ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٠٨٦) ، وحدیث أیوب عن عکرمة، قد أخرجہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٢ (٤٥٨٢) ، سنن الترمذی/البیوع ٣٥ (١٢٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٩٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4811

【107】

مکاتب کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک مکاتب کا قتل ہوگیا تو آپ نے حکم دیا کہ جتنا وہ بدل مکاتبت ادا کرچکا ہے اسی قدر اس کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہوگی، اور جس قدر آزاد نہیں ہوا ہے اسی کے مطابق اس کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨١٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4812

【108】

عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت

بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک عورت کو پتھر پھینک کر مارا جس سے اس کا حمل ساقط ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے بچے کی (دیت) پچاس بکریاں ١ ؎ طے کیں اور اس دن سے آپ نے پتھر پھینکنے سے منع فرما دیا۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) اسے ابونعیم نے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (ان کی روایت آگے آرہی ہے ) تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٠٦، ١٨٨٨٤) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: سنن ابوداؤد میں اسی سند سے اس حدیث کے الفاظ ہیں پانچ سو بکریاں جیسا کہ اگلی روایت میں ہے پانچ سو کی طرح یہ لفظ بھی کسی راوی کا وہم معلوم ہوتا ہے، واضح رہے کہ مؤلف کی اگلی روایت کی طرح ابوداؤد کی روایت مرسل نہیں بلکہ مرفوع متصل ہے، (واللہ اعلم بالصواب ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4813

【109】

عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت

عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک عورت کو پتھر پھینک کر مارا، پتھر لگی عورت کا حمل گرگیا، چناچہ مقدمہ نبی اکرم ﷺ تک پہنچا، تو آپ نے اس بچے کی دیت پانچ سو بکریاں ١ ؎ مقرر کیں، اور اس دن سے آپ نے پتھر پھینکنے سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ وہم ہے، صحیح سو بکریاں ہیں، (پانچ سو نہیں) اور پتھر پھینکنے کی ممانعت سے متعلق حدیث عبداللہ بن بریدہ ہی کے واسطہ سے : عبداللہ بن مغفل (رض) سے مروی ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد) (یہ مرسل ہے، لیکن سابقہ روایت سے یہ حدیث صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: اگلی روایات ( رقم ٤٨٢٠ و ٤٨٢١ ) میں ایک غرہ یعنی ایک غلام یا باندی کا ذکر ہے، ہوسکتا ہے اس وقت ایک غلام یا باندی کی قیمت سو بکریوں کے مساوی ہوتی ہو۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4814

【110】

عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت

عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل (رض) نے ایک شخص کو پتھر پھینکتے دیکھا تو کہا : مت پھینکو، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ پتھر پھینکنے سے منع فرماتے تھے، یا پتھر پھینکنا آپ کو پسند نہ تھا، یہ کہمس کا شک ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیرسورة الفتح ٥ (٤٨٤١) ، الذبائح ٥ (٥٤٧٩) ، الأدب ١٢٢(٦٢٢٠) ، صحیح مسلم/الذبائح ١٠ (١٩٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١١ (٣٢٢٦) ، مسند احمد ٤/٨٦ و ٥/ ٥٦، ٥٧، سنن الدارمی/المقدمة ٤٠ (٤٥٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4815

【111】

عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت

طاؤس سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے لوگوں سے جنین (پیٹ میں موجود بچہ کی دیت) کے سلسلے میں مشورہ طلب کیا، تو حمل بن مالک (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے جنین (پیٹ میں موجود بچہ) میں ایک غرہ (ایک لونڈی یا ایک غلام) کا فیصلہ کیا۔ طاؤس کہتے ہیں : گھوڑا بھی غرہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٢) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٤١) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٤٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4816

【112】

عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی لحیان کی عورت کے جنین (پیٹ میں موجود بچہ) کے بارے میں جو مرا ہوا ساقط ہوگیا تھا ایک غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ کیا، پھر وہ عورت جس پر ایک غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی کا حکم ہوا، مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کی میراث اس کے بیٹوں اور اس کے شوہر کے لیے ہے اور دیت اس کے عصبہ پر ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٤٦ (٥٧٥٨) ، الفرائض ١١ (٦٧٤٠) ، الدیات ٢٥ (٦٩٠٩) ، صحیح مسلم/القسامة (الحدود ١١) (١٦٨١) ، سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٦، ٤٥٧٧) ، سنن الترمذی/الدیات ١٥ (١٤١٠) ، الفرائض ١٩ (٢١١١) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٣٩) ، (تحفة الأشراف : موطا امام مالک/العقول ٧ (٥) ، مسند احمد (٢/ ٥٣٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4817

【113】

عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں جھگڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک مارا، اور کوئی ایسی بات کہی جس کا مفہوم یہ تھا کہ وہ عورت مرگئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی، چناچہ وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ کیا : اس کے جنین (پیٹ کے بچہ) کی دیت ایک غرہ ہے یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی۔ اور (قاتل) عورت کی دیت اس کے کنبے کو لوگوں (عصبہ) سے دلائی اور اس عورت کا وارث اس کے بیٹوں اور دوسرے ورثاء کو قرار دیا، تو حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کا تاوان کیسے ادا کروں جس نے نہ پیا نہ کھایا، جو نہ بولا نہ چلایا، ایسا خون تو لغو ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ کاہنوں کا بھائی ہے (یہ بات آپ نے اس کی اس قافیہ دار بات چیت کی وجہ سے جو اس نے کی) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ٢٦ (٦٩١٠) ، صحیح مسلم/القسامة ١١ (١٦٨١) ، سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٢٠، ١٥٣٠٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4818

【114】

عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا۔ جس سے اس کا حمل ساقط ہوگیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس میں ایک غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٤٦ (٥٧٥٩) ، الدیات (٦٩٠٤) ، صحیح مسلم/القسامة ١١ (١٦٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٤٥، ١٨٧٢٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4819

【115】

عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بچے کی دیت غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا فیصلہ کیا جو ماں کے پیٹ میں ہی قتل کردیا جائے، تو وہ شخص جس کے خلاف آپ نے فیصلہ کیا تھا بولا : میں اس کی دیت کیوں کر ادا کروں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، جو نہ چیخا اور نہ بولا۔ ایسا خون تو لغو ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ تو کاہنوں میں سے (لگتا) ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢٣ (صحیح) (یہ روایت سعید بن مسیب کی مرسل ہے، لیکن پچھلی روایت مرفوع متصل ہے ) وضاحت : ١ ؎: اس کے بارے میں آپ نے ایسا اس لیے فرمایا کہ اس نے کاہنوں کی طرح مقفع مسجع جملے استعمال کیے، نہ کہ آپ نے خود اس کو کاہن قرار دیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4820

【116】

عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت

مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی (کھونٹی) سے مارا، جس سے وہ مرگئی، وہ حمل سے تھی، چناچہ معاملہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، تو آپ نے مارنے والی عورت کے عصبہ پر دیت کا اور جنین (پیٹ کے بچہ) کے بدلے ایک غرہ (غلام یا ایک لونڈی) دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے خاندان والے بولے : کیا اس کی بھی دیت ادا کی جائے گی، جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا اور نہ چلایا۔ ایسا خون تو لغو ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اعراب (دیہاتیوں) کی طرح مسجع کلام کرتے ہو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/القسامة (الحدود) ١١ (١٦٨٢) ، سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٦٨) ، سنن الترمذی/الدیات ١٥ (١٤١١) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٧ (٢٦٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٥١٠، ١٨٤١٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الدیات ٢٥ (٦٩١٠) ، الاعتصام ١٣ (٧٣١٧) ، مسند احمد (٤/٢٢٤، ٢٤٥، ٢٤٦، ٢٤٩) ، سنن الدارمی/الدیات ٢٠ (٢٤٢٥) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٨٢٦-٤٨٣١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4821

【117】

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی کھونٹی سے مارا وہ حمل سے تھی، اور مرگئی، تو رسول اللہ ﷺ نے مقتول عورت کی دیت اور پیٹ کے بچے کے بدلے ایک غرہ (ایک غلام یا لونڈی) قاتل عورت کے خاندان والوں پر مقرر فرمایا۔ تو قاتل عورت کے خاندان کا ایک شخص بولا : کیا ہم اس کی بھی دیت ادا کریں گے جس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ چیخا، ایسا خون تو معاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا یہ اعراب (دیہاتیوں) کی طرح سجع کرتا ہے، پھر ان پر دیت لازم ٹھہرائی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث میں باب سے مناسبت اس طرح ہے کہ خیمے کی لکڑی سے عموماً آدمی کا قتل عمل نہیں آتا اس لیے جب اس کی مار سے وہ عورت مرگئی تو اس قتل کو آپ ﷺ نے قتل خطا یا قتل شبہ عمد ( غلطی سے قتل ) قرار دے کر اس کی دیت مقرر کی، نیز اس میں باب کے دوسرے جزء سے مناسبت اس طرح ہے کہ مقتول عورت اور جنین ( ساقط حمل ) کی دیت دونوں قاتلہ عورت کے خاندان کے ذمہ لگائی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4822

【118】

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ دو سوکنوں میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا، تو وہ مرگئی، رسول اللہ ﷺ نے قاتلہ کے خاندان والوں کی جانب سے دیت ادا کیے جانے کا فیصلہ کیا اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا : آپ مجھ سے ایسی جان کی دیت ادا کروا رہے ہیں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا، نہ چلایا۔ ایسا خون تو لغو ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ تو جاہلیت کی سجع کی طرح ہے ، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4823

【119】

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ بنی لحیان کی ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی سے مارا، جس سے وہ مرگئی، مقتولہ حمل سے تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے قاتل عورت کے خاندان والوں پر دیت اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4824

【120】

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ دو عورتیں ہذیل کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں۔ ایک نے دوسری کو خیمے کا ڈنڈا پھینک کر مارا جس سے اس کا حمل ساقط ہوگیا، فریقین جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، لوگوں نے کہا : ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ چیخا، نہ چلایا، نہ پیا، نہ کھایا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا دیہاتیوں کی طرح سجع کرتا ہے ؟ اور آپ نے عورت کے کنبے والوں پر غرہ یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4825

【121】

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا، جس سے اس کا حمل ساقط ہوگیا، عرض کیا گیا : جس نے نہ کھایا، نہ پیا، جو نہ چیخا نہ چلایا، اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ تو دیہاتیوں کی سی سجع ہے ؟ پھر آپ نے اس میں ایک غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا فیصلہ کیا، اور اس کی ذمہ داری (قاتل) عورت کے کنبے والوں پر ٹھہرائی۔ اعمش نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ (ان کی روایت آگے آرہی ہے ) تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4826

【122】

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو جو حمل سے تھی پتھر مارا، اور وہ مرگئی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے پیٹ کے بچے کی دیت ایک غرہ (یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی) ٹھہرائی اور اس کی دیت اس کے کنبے والوں کے ذمے ڈالی، وہ بولے : کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا نہ کھایا اور نہ چلایا اس جیسا خون تو لغو ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ دیہاتیوں کی سی سجع ہے، حکم وہی ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢٥ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ ابراہیم نخعی اور نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے درمیان صحابی کا ذکر نہیں ہے لیکن پچھلی روایات مرفوع متصل ہیں ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4827

【123】

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ دو سوکن عورتیں تھیں، ان کے درمیان جھگڑا ہوگیا، ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا، تو اس کے پیٹ کا بچہ مرا ہوا گرپڑا جس کے سر کے بال اگ آئے تھے اور عورت بھی مرگئی، نبی اکرم ﷺ نے کنبے والوں پر دیت ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس (مقتولہ) کے چچا نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کا ایک بچہ بھی ساقط ہوا ہے جس کے بال اگ آئے تھے۔ قاتل عورت کے باپ نے کہا : یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم، نہ تو وہ چیخا، نہ اس نے پیا اور نہ کھایا، ایسا خون تو لغو ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جاہلیت کی سجع اور کہانت سی سجع ہے۔ بچے میں ایک غرہ (یعنی ایک غلام یا لونڈی) دینا ہوگا ۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦١٢٤) (ضعیف الإسناد) (سماک کی روایت عکرمہ سے میں سخت اضطراب ہے، نیز سماک مختلط بھی تھے، مگر پچھلی روایات سے یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4828

【124】

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لکھا : ہر قوم پر اس کی دیت ہے۔ اور کسی غلام کے لیے نہیں کہ وہ اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی مسلمان کو اپنا ولاء دے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/العتق ٤ (١٥٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٢٣) ، مسند احمد (٣/٣٢١، ٣٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اسے اپنا مالک کہے اور اپنے کو اس کی طرف منسوب کرے، اور مرنے کے بعد اپنی ولاء کی وراثت اسی کے نام کر دے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4829

【125】

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو علاج معالجہ کرے، اور اس سے پہلے اس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ طبیب ہے، تو (کسی گڑبڑی کے وقت) وہ ضامن ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٥ (٤٥٨٦) ، سنن ابن ماجہ/الطب ١٦ (٣٤٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٤٦) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4830

【126】

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے اسی طرح مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4831

【127】

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

ابورمثہ (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے فرمایا : یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ اس نے کہا : یہ میرا بیٹا ہے، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارا قصور اس پر نہیں اور اس کا قصور تم پر نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢(٤٢٠٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٧) ، مسند احمد (٤/١٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی تم دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے جرم میں ماخوذ نہیں کیا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4832

【128】

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

ثعلبہ بن زہدم یربوعی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے کچھ لوگوں کو خطاب کر رہے تھے، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع کے بیٹے ہیں، انہوں نے فلاں کو جاہلیت میں قتل کیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اور آپ کی آواز بہت بلند تھی : سنو ! کسی جان کا قصور کسی دوسری جان پر نہیں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٠٧٢) ، مسند احمد (٤/٦٤-٦٥ و ٥/٣٧٧) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٨٣٧-٤٨٤٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4833

【129】

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

ثعلبہ بن زہدم (رض) کہتے ہیں کہ بنی ثعلبہ کے لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، آپ خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص بولا : اللہ کے رسول ! یہ ثعلبہ بن یربوع کے بیٹے ہیں، انہوں نے صحابہ رسول میں سے فلاں کو جاہلیت میں قتل کیا تھا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی نفس کا قصور کسی دوسرے پر نہیں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4834

【130】

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت ہے کہ بنی ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے۔ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع ہیں، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے فلاں کو قتل کیا تھا، آپ نے فرمایا : کسی نفس کا قصور کسی دوسرے نفس پر نہیں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٣٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4835

【131】

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

اسود بن ہلال (انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا عہد پایا تھا) بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ بنو ثعلبہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص کو ہلاک کردیا تھا۔ تو ایک صحابی رسول نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ بنی ثعلبہ ہیں، جنہوں نے فلاں کو قتل کیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی نفس کا قصور کسی دوسرے پر نہیں ہوگا ۔ شعبہ کہتے ہیں : یعنی کسی کے بدلے کسی اور سے مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٣٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4836

【132】

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ گفتگو فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہیں، یعنی کسی کا قصور کسی پر نہیں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٣٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4837

【133】

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

بنی یربوع کے ایک شخص کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ لوگوں سے گفتگو فرما رہے تھے، کچھ لوگوں نے آپ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا : اللہ کے رسول ! یہ بنی فلاں ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا تھا، تو آپ نے فرمایا : کسی نفس پر کسی کا قصور نہیں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٣٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4838

【134】

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

طارق محاربی (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ بنو ثعلبہ ہیں جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں کو قتل کیا تھا، لہٰذا آپ ہمارا بدلہ دلائیے، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی، آپ فرما رہے تھے : کسی ماں کا قصور کسی بیٹے پر نہیں ہوگا ایسا آپ نے دو مرتبہ کہا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤٩٨٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٦ (٢٦٧٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4839

【135】

اگر آنکھ سے دکھلائی نہیں دیتا ہو لیکن وہ اپنی جگہ قائم ہو اس کو کوئی شخص اکھاڑ دے

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آنکھ کے بارے میں جس سے نظر نہ آتا ہو اور وہ اپنی جگہ پر ہو پھر اگر کوئی اسے پھوڑ دے یا نکال دے تو صحیح سالم آنکھ کی تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا، اور شل ہاتھ جب کاٹ دیا جائے تو اس میں صحیح سالم ہاتھ کی دیت کے تہائی کا، اور کالے دانت میں جب وہ اکھاڑ دیا جائے تو صحیح سالم دانت کی تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٧٠) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4840

【136】

دانتوں کی دیت کے متعلق

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دانتوں میں ہر ایک کی دیت پانچ اونٹ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٨٥) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4841

【137】

دانتوں کی دیت کے متعلق

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمام دانت برابر ہیں، ہر ایک میں دیت پانچ پانچ اونٹ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٨٠٥) ، مسند احمد (٢/٢١٥) ، سنن الدارمی/الدیات ١٦ (٢٤١٧) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4842

【138】

انگلیوں کی دیت سے متعلق

ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٥٦، ٤٥٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٣٠) ، مسند احمد (٤/٣٩٧، ٣٩٨) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٨٤٨، ٤٨٤٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4843

【139】

انگلیوں کی دیت سے متعلق

ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انگلیاں برابر برابر ہیں، ہر ایک میں دیت دس دس اونٹ ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4844

【140】

انگلیوں کی دیت سے متعلق

ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا : انگلیاں سب برابر برابر ہیں، ہر ایک میں دیت دس دس اونٹ ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٤٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4845

【141】

انگلیوں کی دیت سے متعلق

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انہیں جب وہ کتاب ملی جو عمرو بن حزم کی اولاد کے پاس تھی، جس کے بارے میں ان لوگوں نے بتایا کہ وہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے لکھوائی تھی تو انہوں نے اس میں لکھا ہوا پایا کہ انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٧٢٦) ، وانظرأرقام : ٤٨٥٧-٤٨٦١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4846

【142】

انگلیوں کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اور یہ دیت میں برابر برابر ہیں ، یعنی انگوٹھا اور چھنگلی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ٢٠ (٦٨٩٥) ، سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٥٨) ، سنن الترمذی/الدیات ٤ (١٣٩٢) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٦١٨٧) ، مسند احمد (١/٣٣٩، ٣٤٥) ، سنن الدارمی/الدیات ١٥ (٢٤١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : انگوٹھا اور چھنگلی دونوں کی دیت برابر ( دس اونٹ ) ہے ان میں بڑائی چھوٹائی کا لحاظ نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4847

【143】

انگلیوں کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں : یہ اور یہ دیت میں برابر برابر ہیں یعنی انگوٹھا اور چھنگلی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4848

【144】

انگلیوں کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں : انگلیاں یعنی ان کی دیت دس دس اونٹ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٢٠٢) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4849

【145】

انگلیوں کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا : انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٨٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٣) ، مسند احمد (٢/٢٠٧) (حسن، صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4850

【146】

انگلیوں کی دیت سے متعلق

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا اور آپ اپنی پیٹھ کعبے سے ٹیکے ہوئے تھے : انگلیاں دیت میں برابر برابر ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٦٩٣) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4851

【147】

ہڈی تک پہنچ جانے والا زخم

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کیا تو خطبے میں فرمایا : ہر اس زخم میں جس میں ہڈی کھل جائے، دیت پانچ پانچ اونٹ ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٦٦) ، سنن الترمذی/الدیات ٣ (١٣٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٨٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ١٩ (٢٦٥٥) ، مسند احمد (٢/١٧٩، ١٨٩، ٢٠٧، ٢١٢) ، سنن الدارمی/الدیات ١٦ (٢٤١٧) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بشرطیکہ یہ زخم چہرہ اور سر پر ہو، اگر ان کے علاوہ کسی اور جگہ میں ہے تو اس کا حکم دوسرا ہے، اور وہ یہ ہے کہ قاضی یا پنچ اپنی صوابدید سے جو فیصلہ کریں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4852

【148】

عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف

عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کے لیے ایک کتاب لکھی، اس میں فرائض و سنن اور دیتوں کا ذکر کیا، وہ کتاب عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجی، چناچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی، اس کا مضمون یہ تھا : نبی محمد ﷺ کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، نعیم بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال کے نام جو رعین، معافر اور ہمدان کے والی تھے۔ امابعد، اس کتاب میں لکھا تھا : جو بلا وجہ کسی مومن کو مار ڈالے اور اس کا ثبوت ہو تو اس سے قصاص لیا جائے گا سوائے اس کے کہ مقتول کے اولیاء معاف کردیں، اور ایک جان کی دیت سو اونٹ ہے۔ ناک پوری کٹ جائے تو پوری دیت ہے، اور زبان میں دیت ہے، دونوں ہونٹوں میں دیت ہے، دونوں فوطوں میں دیت ہے، عضو تناسل میں دیت ہے، پیٹھ میں دیت ہے، آنکھوں میں دیت ہے، ایک پاؤں کی دیت آدھی ہے، جو زخم دماغ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے۔ جو زخم پیٹ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے، اور جس زخم سے ہڈی سرک جائے اس میں دیت پندرہ اونٹ ہیں۔ اور ہاتھ پاؤں کی ہر انگلی میں دیت دس اونٹ ہیں۔ دانت میں دیت پانچ اونٹ ہیں، اس زخم میں جس سے ہڈی کھل جائے دیت پانچ اونٹ ہیں، اور مرد عورت کے بدلے قتل کیا جائے اور سونا والے لوگوں پر ہزار دینار ہیں۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) محم بن بکار بن بلال نے اس سے اختلاف کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٥٠ (ضعیف) (اس کے راوی ” سلیمان “ (جو حقیقت میں ” ابن داود “ نہیں بلکہ ” ابن ارقم “ ہیں، متروک الحدیث ہیں، صحیح سن دوں سے یہ حدیث زہری سے مرسلاً ہی مروی ہے، بہر حال اس کے اکثر مشمولات کے صحیح شواہد موجود ہیں ) وضاحت : ١ ؎: محمد بن بکار نے حکم بن موسیٰ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے یحییٰ سے انہوں نے سلیمان بن ارقم سے روایت کی ہے، اور یہی صحیح ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4853

【149】

عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف

عمرو بن حزم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کو ایک کتاب لکھی جس میں فرائض، سنن اور دیات کا ذکر تھا۔ اسے عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجا، چناچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔ پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا : ایک آنکھ میں دیت آدھی ہے۔ ایک ہاتھ میں آدھی دیت ہے اور ایک پاؤں میں دیت آدھی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ روایت زیادہ قرین صواب ہے۔ واللہ اعلم۔ اور سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہیں، اس حدیث کو یونس نے زہری سے مرسلاً روایت کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨٥٠ (ضعیف) (سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎: اور یہی زیادہ صحیح ہے، ان کی روایت آگے آرہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4854

【150】

عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف

محمد بن شہاب زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی وہ کتاب پڑھی جو آپ نے عمرو بن حزم (رض) کے لیے لکھی جب انہیں نجران کا والی بنا کر بھیجا، کتاب ابوبکر بن حزم کے پاس تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے لکھا تھا : یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے : يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود اے ایمان والو ! عہد و پیماں پورے کرو (المائدہ : ١) اور اس کے بعد کی آیات لکھیں یہاں تک کہ آپ إن اللہ سريع الحساب اللہ جلد حساب لینے والا ہے (المائدہ : ٤) تک پہنچے۔ پھر لکھا تھا : یہ زخموں کی کتاب ہے، ایک جان کی دیت سو اونٹ ہیں، پھر آگے اسی طرح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٥٠ (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4855

【151】

عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف

زہری کہتے ہیں کہ ابوبکر بن حزم میرے پاس ایک تحریر لے آئے جو چمڑے کے ایک ٹکڑے پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے لکھی ہوئی تھی : یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے : اے ایمان والو ! عہد و پیمان پورے کرو، پھر انہوں نے اس میں سے بعض آیات تلاوت کیں، پھر کہا : جان میں دیت سو اونٹ ہیں، آنکھ میں پچاس، ہاتھ میں پچاس، پیر میں پچاس، مغز تک پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت، پیٹ کے اندر تک پہنچی چوٹ میں تہائی دیت اور ہڈی سرک جانے میں پندرہ اونٹنیاں ہیں۔ انگلیوں میں دس دس، دانتوں میں پانچ پانچ اور اس زخم میں جس میں ہڈی نظر آئے پانچ پانچ اونٹ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٥٠ (ضعیف) (مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4856

【152】

عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف

محمد بن عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ وہ تحریر جس میں رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم (رض) کے لیے دیتوں کے سلسلے میں لکھی، یہ تھی : جان میں سو اونٹ ہیں، ناک میں جب وہ جڑ سے کاٹ لی گئی ہو، سو اونٹ ہیں، مغز (گودے) تک پہنچنے والے زخم میں جان کی دیت کے اونٹوں کے تہائی ہیں۔ اسی قدر اس زخم میں ہیں جو پیٹ کے اندر تک پہنچ جائے، ہاتھ میں پچاس اونٹ ہیں۔ آنکھ میں پچاس اونٹ ہیں، پیر میں پچاس اونٹ ہیں، اور ہر ایک انگلی میں دس دس اونٹ ہیں۔ دانت میں پانچ اونٹ ہیں، اس زخم میں جس میں ہڈی کھل جائے پانچ اونٹ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٥٠ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4857

【153】

عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے دروازے پر آیا تو دراز میں آنکھ لگا کر جھانکنے لگا، نبی اکرم ﷺ نے جب یہ دیکھا تو لوہا یا لکڑی لے کر اس کی آنکھ پھوڑنے کا ارادہ کیا، جب اس کی نظر پڑی تو اس نے اپنی آنکھ ہٹا لی، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اگر تم اپنی آنکھ یہیں رکھتے تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٢٢) ، مسند احمد (٣/١٩١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے گھر کے اندر اس طرح جھانکنے والے کی آنکھ اگر گھر والا پھوڑ دے تو اس پر آنکھ پھوڑنے کی دیت واجب نہیں ہوگی۔ نیز دیکھئیے اگلی حدیث۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4858

【154】

عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف

سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک سوراخ سے رسول اللہ ﷺ کے دروازے میں جھانکا، رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک لکڑی تھی جس سے اپنا سر کھجا رہے تھے، جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا : اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں تیری آنکھ میں یہ لکڑی گھونپ دیتا، نگاہ ہی کے سبب اجازت کا حکم دیا گیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٧٥ (٥٩٢٤) ، الاستئذان ١١ (٦٢٤١) ، الدیات ٢٣ (٦٩٠١) ، صحیح مسلم/الأدب ٩ (٢١٥٦) ، سنن الترمذی/الاستئذان ١٧ (٢٧٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٠٦) ، مسند احمد (٥/٣٣٠، ٣٣٤، ٣٣٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4859

【155】

جو کوئی اپنا انتقام لے لے اور وہ بادشاہ (یا شرعی حاکم) سے نہ کہے

ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے، پھر وہ اس کی آنکھ پھوڑ دے، تو جھانکنے والا نہ دیت لے سکے گا نہ بدلہ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٢١٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الأدب ٩ (٢٥٦٣) ، سنن ابی داود/الأدب ١٣٦ (٥١٧٢) ، مسند احمد (٢/٢٦٦، ٤١٤، ٥٢٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4860

【156】

جو کوئی اپنا انتقام لے لے اور وہ بادشاہ (یا شرعی حاکم) سے نہ کہے

ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی بلا اجازت تمہارے یہاں جھانکے پھر تم اسے پتھر پھینک کر مارو اور اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا ۔ اور ایک بار آپ نے فرمایا : کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ١٥ (٦٩٠٢) ، صحیح مسلم/الأدب ٩ (٢١٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٦٧٦) ، مسند احمد (٢/٢٤٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4861

【157】

جو کوئی اپنا انتقام لے لے اور وہ بادشاہ (یا شرعی حاکم) سے نہ کہے

ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک مروان کا بیٹا ان کے آگے سے گزر رہا تھا، آپ نے اسے روکا، وہ نہیں لوٹا تو آپ نے اسے مارا، بچہ روتا ہوا نکلا اور مروان کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی، مروان نے ابو سعید خدری سے کہا : آپ نے اپنے بھتیجے کو کیوں مارا ؟ انہوں نے کہا : میں نے اسے نہیں، بلکہ شیطان کو مارا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے جب کوئی نماز میں ہو اور کوئی انسان سامنے سے گزرنے کا ارادہ کرے تو اسے طاقت بھر روکے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، اس لیے کہ وہ شیطان ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤١٨٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٠٠ (٥٠٩) ، وبدء الخلق ١١ (٣٢٧٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨(٥٠٥) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٨(٧٠٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٩(٩٥٤) ، موطا امام مالک/السفر ١٠ (٣٣) ، مسند احمد (٣/٣٤) ، ٤٣-٤٤، ٤٩، ٦٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4862

【158】

ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں ابن عباس (رض) سے ان دو آیتوں ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے (النساء : ٩٣) والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکارتے اور اللہ کی حرام کردہ جانوں کو ناحق قتل نہیں کرتے (الفرقان : ٦٧) کے متعلق سوال کروں، میں نے اس کے بارے میں ابن عباس (رض) سے پوچھا تو انہوں نے کہا : اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا، اور دوسری آیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ١ ؎ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٠٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ابن عباس (رض) کی اس رائے سے متعلق دیکھیں حاشیہ حدیث رقم ( ٤٠٠٤ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4863

【159】

ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اہل کوفہ میں اس آیت : ومن يقتل مؤمنا متعمدا‏ کے بارے میں اختلاف ہوگیا، میں ابن عباس (رض) کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ آیت تو آخر میں اتری ہے، اور یہ کسی (بھی آیت) سے منسوخ نہیں ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٠٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4864

【160】

ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا : کیا مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، میں انہیں سورة الفرقان کی یہ آیت والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق پڑھ کر سنائی تو انہوں نے کہا : یہ آیت مکی ہے۔ اسے مدینے کی آیت ‏ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم نے منسوخ کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٠٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4865

【161】

ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق

سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا پھر توبہ کی، ایمان لایا، عمل صالح کیا اور ہدایت پائی ؟ تو انہوں نے کہا : اس کی توبہ کہاں قبول ہوگی ؟ میں نے تمہارے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے : مقتول (قیامت کے روز) قاتل کو پکڑ کر لائے گا، اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، وہ کہے گا : اے اللہ ! اس سے پوچھ، اس نے کس جرم میں مجھے قتل کیا تھا ، پھر ابن عباس نے کہا : یہ حکم اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور اسے منسوخ نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٠٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4866

【162】

ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کبیرہ گناہ یہ ہیں : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠١٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4867

【163】

ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کبیرہ گناہ یہ ہیں : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠١٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4868

【164】

ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی بندہ مومن رہتے ہوئے زنا نہیں کرتا، نہ مومن رہتے ہوئے شراب پیتا ہے، نہ مومن رہتے ہوئے چوری کرتا ہے، اور نہ ہی مومن رہتے ہوئے قتل کرتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ٦ (٦٧٨٢) ، ٢٠ (٦٨٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٦١٨٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ اور اس طرح کی احادیث سے ان برے کاموں کی شناعت کا پتہ چلتا ہے، اور یہ وعید والی احادیث ہیں، جس میں اس طرح کے اعمال سے دور رہنے کی دعوت دی گئی ہے، اور یہ کہ اس طرح کا کام کرنے والا ایمانی کیفیت سے دور رہتا ہے، جس کی بنا پر اس طرح کے برے کام میں ملوث ہوجاتا ہے، گویا حدیث میں مومن سے اس طرح کے کاموں میں ملوث ہونے کے حالت میں ایمان چھین لیا جاتا ہے، اور وہ مومن کامل نہیں رہ پاتا، یا یہاں پر ایمان سے مراد شرم و حیاء ہے کہ اس صفت سے نکل جانے کے بعد آدمی یہ برے کام کرتا ہے، اور یہ معلوم ہے کہ حیاء ایمان ہی کا ایک شعبہ ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مومن سے مراد وہ مومن ہے جو عذاب سے کلی طور پر مامون ہو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مومن سے اس حالت میں ایمان کی نفی کا معنی نہی اور ممانعت ہے، یعنی کسی شخص کا حالت ایمان میں زنا کرنا مناسب نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4869