46. چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ

【1】

چوری کس قدر سخت گناہ ہے؟

ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے زنا نہیں کرتا، کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے چوری نہیں کرتا، کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے شراب نہیں پیتا اور نہ ہی وہ ایمان رکھتے ہوئے کوئی ایسی بڑی لوٹ کرتا ہے جس کی طرف لوگوں کی نظریں اٹھتی ہوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٨٧١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: دیکھئیے پچھلی حدیث کا حاشیہ ( ٤٨٧٣ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4870

【2】

چوری کس قدر سخت گناہ ہے؟

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا، جب چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو چوری کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا۔ جب شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو پیتے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا، اس کے بعد بھی اب تک اس کی توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ٢٠ (٦٨١٠) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٤ (٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٩٥، ١٢٤٩٥، ١٢٨٦٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4871

【3】

چوری کس قدر سخت گناہ ہے؟

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب کوئی زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت وہ مومن نہیں رہتا، چوری کرتا ہے تو بھی مومن نہیں رہتا، شراب پیتا ہے تو بھی مومن نہیں رہتا۔ (راوی کہتا ہے) پھر چوتھی چیز بیان کی جو میں بھول گیا، جب وہ یہ سب کرتا ہے تو وہ اپنے گلے سے اسلام کا قلادہ نکال پھینکتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٧٥ (صحیح) (مگر اس کا آخری ٹکڑا ” فإذا فعل ذلک … من عنقہ “ کا اضافہ منکر ہے، اور اس کا سبب ” یزید بن أبی زیاد “ ہیں جو ضعیف راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4872

【4】

چوری کس قدر سخت گناہ ہے؟

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہو چوری کرنے والے پر، انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور رسی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٧) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٢ (٢٥٨٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥١٥) ، مسند احمد (٢/٢٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی تھوڑے سے مال کے لیے ہاتھ کٹنا قبول کرتا ہے اور اللہ کی دی ہوئی اس نعمت کی قدر نہیں کرتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4873

【5】

چور سے چوری کا اقرار کرانے کے واسطے اس کے ساتھ مار پیٹ کرنا یا اس کو قید میں ڈالنا

نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ ان کے پاس قبیلہ کلاع کے کچھ لوگ مقدمہ لائے کہ کچھ بنکروں نے سامان چرا لیا ہے، انہوں نے کچھ دنوں تک ان کو قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا : آپ نے انہیں کوئی تکلیف پہنچائے اور مارے بغیر چھوڑ دیا ؟ نعمان (رض) نے کہا : تم کیا چاہتے ہو ؟ کہو تو ان کو ماروں ؟ اگر ان کے پاس تمہارا مال نکل آیا تو بہتر ہے ورنہ اسی قدر میں تمہاری پیٹھ پر ماروں گا ؟ وہ بولے : کیا یہ آپ کا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٠ (٤٣٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٦١١) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: گویا شک و شبہ اور گمان کی بنیاد پر کچھ دنوں تک مجرم کو قید رکھنا کہ ممکن ہے وہ اعتراف جرم کرلے صحیح ہے، البتہ اعتراف سے پہلے اسے سزا دینا صحیح نہیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4874

【6】

چور سے چوری کا اقرار کرانے کے واسطے اس کے ساتھ مار پیٹ کرنا یا اس کو قید میں ڈالنا

بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو ایک الزام میں قید میں رکھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأقضیة ٢٩ (٣٦٣٠) ، سنن الترمذی/الدیات ٢١(١٤١٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٨٢) ، مسند احمد (٥/٢، ٤) (حسن ) قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4875

【7】

چور سے چوری کا اقرار کرانے کے واسطے اس کے ساتھ مار پیٹ کرنا یا اس کو قید میں ڈالنا

بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو ایک الزام میں قید میں رکھا، پھر اسے رہا کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4876

【8】

چوری کرنے والے کو تعلیم دینا

ابوامیہ مخزومی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور پکڑ کر لایا گیا جس نے اقبال جرم کرلیا لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں ملا، تو آپ نے اس سے فرمایا : میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے ، اس نے کہا : نہیں، میں نے چوری کی ہے۔ آپ نے فرمایا : اسے لے جاؤ، اس کے ہاتھ کاٹ دو ، پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ، لوگوں نے اس کے ہاتھ کاٹے اور اسے لے کر آپ کے پاس آئے، تو آپ نے اس سے فرمایا : کہو، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں ، اس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں، آپ نے فرمایا : اے اللہ اس کی توبہ قبول کر ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ٨ (٤٣٨٠) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٩ (٢٥٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٦١) ، مسند احمد (٥/٢٩٣) ، سنن الدارمی/الحدود ٦ (٢٣٤٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابوالم نذر “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4877

【9】

جس وقت چور حاکم تک پہنچ جائے پھر مال کا مالک اس کا جرم معاف کر دے اور اس حدیث میں اختلاف

صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ان کی چادر چرا لی، وہ اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، تو وہ بولے : اللہ کے رسول ! میں نے اسے معاف کردیا ہے، آپ نے فرمایا : ابو وہب ! تم نے اسے ہمارے پاس لانے سے پہلے ہی کیوں نہ معاف کردیا ؟ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٤ (٤٣٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٨ (٢٥٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٤٣) ، مسند احمد (٣/٤٠١ و ٦/٤٦٥، ٤٦٦) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٨٨٣-٤٨٨٥، ٤٨٨٧، ٤٨٨١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ چور کے معاملہ کو سرکاری انتظامیہ تک پہنچ جانے سے پہلے جس کا مال چوری ہوا ہے اگر وہ معاف کردیتا ہے تو چور کا گناہ عند اللہ توبہ سے معاف ہوسکتا ہے، اور ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لیکن اگر معاملہ سرکاری ذمہ داروں ( پولیس اور عدلیہ ) تک پہنچ جاتا ہے تب صاحب مال کو معاف کردینے کا حق بحق سرکار ختم ہوجاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4878

【10】

جس وقت چور حاکم تک پہنچ جائے پھر مال کا مالک اس کا جرم معاف کر دے اور اس حدیث میں اختلاف

صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک چادر چرائی، وہ اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو وہ بولے : اللہ کے رسول ! میں نے اسے معاف کردیا ہے، آپ نے فرمایا : ابو وہب ! اسے میرے پاس لانے سے پہلے ہی تم نے کیوں نہ معاف کردیا ؟ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4879

【11】

جس وقت چور حاکم تک پہنچ جائے پھر مال کا مالک اس کا جرم معاف کر دے اور اس حدیث میں اختلاف

عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک کپڑا چرایا، اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا (جس کا کپڑا تھا) وہ شخص بولا : اللہ کے رسول ! وہ اسی کے لیے ہے ١ ؎ آپ نے فرمایا : ایسا اس سے پہلے ہی کیوں نہ کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٨٢ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ اس میں عطاء تابعی اور نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے درمیان واسطہ کا ذکر نہیں ہے لیکن پچھلی روایت مرفوع متصل ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی میں نے اسے دے دیا، اب اسے معاف کر دیجئیے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4880

【12】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، پھر نماز پڑھی، پھر اپنی چادر لپیٹ کر سر کے نیچے رکھی اور سو گئے، ایک چور آیا اور ان کے سر کے نیچے سے چادر کھینچی، انہوں نے اسے پکڑ لیا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آئے اور بولے : اس نے میری چادر چرائی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : کیا تم نے ان کی چادر چرائی ہے ؟ وہ بولا : ہاں، آپ نے (دو آدمیوں سے) فرمایا : اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ صفوان (رض) نے کہا : میرا مقصد یہ نہ تھا کہ میری چادر کے سلسلے میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : یہ کام پہلے ہی کیوں نہ کرلیا ۔ اشعث نے عبدالملک کے برخلاف (ابن عباس (رض) کی حدیث سے) اس کو روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٨٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4881

【13】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ صفوان (رض) مسجد میں سو رہے تھے، ان کی چادر ان کے سر کے نیچے تھی، کسی نے اسے چرایا تو وہ اٹھ گئے، اتنے میں آدمی جا چکا تھا، انہوں نے اسے پا لیا اور اسے پکڑ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لائے۔ آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، صفوان (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! میری چادر اس قیمت کی نہ تھی کہ کسی شخص کا ہاتھ کاٹا جائے ١ ؎۔ آپ نے فرمایا : تو ہمارے پاس لانے سے پہلے ہی ایسا کیوں نہ کرلیا ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : اشعث ضعیف ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٩٨٥) (صحیح) (اشعث ضعیف راوی ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: یہ ان کا اپنا ظن و گمان تھا ورنہ چادر کی قیمت چوری کے نصاب کی حد سے متجاوز تھی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4882

【14】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ میں مسجد میں اپنی ایک چادر پر سو رہا تھا، جس کی قیمت تیس درہم تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور مجھ سے چادر اچک لے گیا، پھر وہ آدمی پکڑا گیا اور اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے، تو میں نے آپ کے پاس آ کر عرض کیا : کیا آپ اس کا ہاتھ صرف تیس درہم کی وجہ سے کاٹ دیں گے ؟ میں چادر اس کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں اور اس کی قیمت ادھار کرلیتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : ایسا تم نے اسے ہمارے پاس لانے سے پہلے کیوں نہیں کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٨٢ (منکر) (اس کا یہ ٹکڑا ” أبیعہ … منکر ہے، اور نکارت کے سبب حمید ہیں جو لین الحدیث ہیں باقی مشمولات صحیح ہیں ) قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4883

【15】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک چادر ان کے سر کے نیچے سے چوری ہوگئی اور وہ مسجد نبوی میں سو رہے تھے، انہوں نے چور پکڑ لیا اور اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو صفوان (رض) نے کہا : کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹیں گے ؟ آپ نے فرمایا : تو پھر اسے میرے پاس لانے سے پہلے ہی کیوں نہ چھوڑ دیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٨٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4884

【16】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حدود کو میرے پاس آنے سے پہلے معاف کردیا کرو، کیونکہ جس حد کا مقدمہ میرے پاس آیا، اس میں حد لازم ہوگئی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ٥ (٤٣٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٤٧) (حسن ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4885

【17】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حدود کو آپس ہی میں معاف کر دو ، جب حد کی کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہوگئی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (حسن ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اسے معاف نہیں کیا جاسکتا۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4886

【18】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت لوگوں کا سامان مانگ لیتی تھی، پھر مکر جاتی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٥ (٤٣٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٤٩) مسند احمد (٢/١٥١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عاریت ( روزمرہ برتے جانے والے سامانوں کی منگنی ) کے انکار کردینے پر نبی اکرم ﷺ نے مخزومیہ عورت کا ہاتھ کاٹ دیا، اس سے بعض علماء عاریت کے انکار کو بھی چوری مانتے ہیں۔ ( اس حدیث کی بعض روایات کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس فعل کو چوری سے تعبیر فرمایا ) اور بعض علماء کہتے ہیں کہ عاریت کے انکار پر آپ نے اس لیے ہاتھ کاٹا کہ ایسا نہ ہو کہ عاریت دینے کا چلن ہی سماج اور معاشرے سے ختم ہوجائے تو لوگ پریشانی میں مبتلا ہوجائیں۔ بہرحال عاریت کے انکار پر ہاتھ کاٹنا ثابت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4887

【19】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت پڑوسی عورتوں (کی گواہیوں) کے ذریعہ سامان مانگتی، پھر مکر جاتی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4888

【20】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت لوگوں کے زیورات مانگ لیتی پھر اسے رکھ لیتی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس عورت کو اللہ اور اس کے رسول سے توبہ کرنی چاہیئے، اور جو کچھ لیتی ہے اسے لوگوں کو لوٹا دینا چاہیئے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلال کھڑے ہو اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کاٹ دو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٠٧٩، ١٩٥٠٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4889

【21】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

نافع کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زیورات مانگ لیتی تھی، چناچہ اس نے زیور مانگا اور اسے اکٹھا کر کے رکھ لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس عورت کو توبہ کرنی چاہیئے اور جو کچھ اس کے پاس ہے، اسے ادا کرنا چاہیئے، کئی بار (کہا) لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4890

【22】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

جابر (رض) کہتے ہیں کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، چناچہ اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی پناہ لی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ، چناچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحدود ٢ (١٦٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٤٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4891

【23】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے کچھ لوگوں (کی گواہیوں) کے ذریعہ زیورات مانگے پھر ان سے مکر گئی، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٧٠٥) (صحیح) (یہ روایت سعید بن مسیب کی مرسل ہے، لیکن سابقہ سن دوں سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4892

【24】

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

اس سند سے بھی سعید بن مسیب سے اسی طرح سے مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) (سابقہ سن دوں سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4893

【25】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ لیتی پھر مکر جاتی۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوئی، اس سلسلے میں گفتگو ہوئی تو آپ نے فرمایا : اگر فاطمہ بنت محمد ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا ۔ سفیان سے کہا گیا : اسے کس نے بیان کیا ؟ تو انہوں نے کہا : ایوب بن موسیٰ نے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ تخریج دارالدعوہ : فضائل الصحابة ١٨ (٣٧٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤١٥) ، مسند احمد (٦/٤١) ، ویأتي عند المؤلف بالأرقام : ٤٨٩٩، ٤٩٠٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4894

【26】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ ایک عورت نے چوری کی چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لائی گئی، لوگوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ سے اسامہ کے سوا کون (اس کی سفارش سے متعلق گفتگو کرنے کی) ہمت کرسکتا ہے ؟ چناچہ اسامہ (رض) سے لوگوں نے کہا تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس سلسلے میں بات چیت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اسامہ ! بنی اسرائیل صرف اس وجہ سے ہلاک و برباد ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی اونچے طبقے کا آدمی کسی حد کا مستحق ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اس پر حد نافذ نہیں کرتے اور جب کوئی نچلے طبقے کا آدمی کسی حد کا مستحق ہوتا تو اسے نافذ کرتے، اگر (اس جگہ) فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4895

【27】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا ١ ؎ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، انہوں نے کہا : ہمیں آپ سے ایسی امید نہ تھی، آپ نے فرمایا : اگر فاطمہ ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٩٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مراد وہی مخزومیہ عورت ہے جس کا تذکرہ پچھلی اور اگلی حدیثوں میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4896

【28】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چوری کی، ان لوگوں نے کہا : اس سلسلے میں ہم آپ سے بات نہیں کرسکتے، آپ سے صرف آپ کے محبوب اسامہ ہی بات کرسکتے۔ چناچہ انہوں نے آپ سے اس سلسلے میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا : اسامہ ! ٹھہرو، بنی اسرائیل انہی جیسی چیزوں سے ہلاک ہوئے، جب ان میں کوئی اونچے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر ان میں کوئی نچلے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔ اگر اس جگہ فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٤٥٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4897

【29】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک غیر معروف عورت نے کچھ معروف لوگوں (کی گواہی) کے ذریعہ زیورات عاریۃً مانگے، پھر اس نے زیورات بیچ کر اس کی قیمت لے لی، چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی گئی تو اس کے گھر والوں نے اسامہ بن زید (رض) کے پاس دوڑ بھاگ کی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں بات کی تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے ان سے فرمایا : کیا تم مجھ سے اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو ؟ اسامہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میری بخشش کے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، پھر رسول اللہ ﷺ اس شام کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد بیان کی جس کا وہ مستحق ہے پھر اس کے بعد فرمایا : تم سے پہلے لوگ صرف اس لیے ہلاک و برباد ہوگئے کہ جب ان میں سے کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ، پھر اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٤٨٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4898

【30】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی۔ ان لوگوں نے کہا کہ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کون بات چیت کرے گا ؟ لوگوں نے کہا : آپ سے بات چیت کی جرات آپ کے محبوب اسامہ کے سوا کون کرسکتا ہے ؟ چناچہ اسامہ (رض) نے آپ سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا : کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں سفارش کرتے ہو ؟ پھر آپ کھڑے ہوئے، خطبہ دیا اور فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ صرف اس لیے ہلاک و برباد ہوگئے کہ ان کا معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان کا کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے، اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأنبیاء ٥٤ (٣٤٧٥) ، فضائل الصحابة ١٨ (٣٧٣٢) ، الحدود ١١ (٦٧٨٧) ، ١٢ (٦٧٨٨) ، صحیح مسلم/الحدود ٢ (١٦٨٨) ، سنن ابی داود/الحدود ٤ (٤٣٧٣) ، سنن الترمذی/الحدود ٦ (١٤٣٠) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٦ (٢٥٤٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٧٨) ، سنن الدارمی/الحدود ٥ (٢٣٤٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4899

【31】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش یعنی بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، کچھ لوگوں نے کہا : آپ سے اس کے بارے میں کون بات چیت کرے گا ؟ لوگوں نے جواب دیا : اسامہ بن زید، چناچہ وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا تو آپ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا : بنی اسرائیل کا جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی عام آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر فاطمہ بنت محمد نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٤١٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4900

【32】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کو مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی۔ ان لوگوں نے کہا : اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کون بات کرے گا ؟ لوگوں نے کہا : اس کی جرات رسول اللہ ﷺ کے محبوب اسامہ بن زید کے سوا اور کون کرسکتا ہے ؟ چناچہ اسامہ (رض) نے آپ سے بات کی تو آپ نے فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہوگئے کہ جب ان میں کوئی معزز اور باوقار آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور اور بےحیثیت آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے، اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٤١٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4901

【33】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں فتح مکہ کے وقت چوری کی، چناچہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو اسامہ بن زید (رض) نے اس کے بارے میں آپ سے بات کی۔ جب انہوں نے آپ سے بات کی تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا : کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو ؟ اسامہ (رض) نے آپ سے کہا : میرے لیے اللہ کے رسول ! اللہ سے مغفرت طلب کیجئیے۔ جب شام ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد بیان کی جس کا وہ اہل ہے، پھر فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ صرف اس لیے ہلاک ہوئے کہ جب ان کا معزز اور باحیثیت آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور اور بےحیثیت آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے ، پھر فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشہادات ٨ (٢٦٤٨) ، المغازي (٥٣ (٤٣٠٤) ، الحدود ١٤ (٦٨٠٠) ، صحیح مسلم/الحدود ٢ (١٦٨٨) ، سنن ابی داود/الحدود ٤ (٤٣٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٩٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4902

【34】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے وقت رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت نے چوری کی ( فتح مکہ کے وقت کا لفظ مرسل ہے) تو اس کے خاندان کے لوگ گھبرا کر سفارش کا مطالبہ کرنے کے لیے اسامہ بن زید (رض) کے پاس گئے۔ جب اسامہ نے آپ سے اس کے بارے میں بات چیت کی تو رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا : تم مجھ سے اللہ کی حدوں میں سے کسی ایک حد کے بارے میں بات کر رہے ہو ؟ اسامہ (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، جب شام ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی جو اس کے لائق ہے، پھر فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہوگئے کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور اسے کاٹ دیا گیا، پھر اس کے بعد اس نے اچھی طرح سے توبہ کرلی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : وہ اس کے بعد میرے پاس آتی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دیتی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4903

【35】

حدود قائم کرنے کی ترغیب

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک حد کا نافذ ہونا اہل زمین کے لیے تیس دن بارش ہونے سے بہتر ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الحدود ٣ (٢٥٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٨٨) حم ٢/٣٦٢، ٣٠٢، ٣٠٢ (حسن) لفظ ” أربعین “ کے ساتھ یہ حدیث حسن ہے، ابن ماجہ میں ” أربعین صباحا “ کا لفظ آیا ہے، اور اگلی حدیث میں اربعین لیلة کا لفظ آ رہا ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی بارش عام طور پر رزق میں وسعت اور خوشحالی کا سبب ہوتی ہے، مگر حد کا نفاذ اس بابت زیادہ فائدہ مند ہے اس لیے کہ معاشرہ میں امن و امان کے قیام میں بہت ہی موثر چیز ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن بلفظ أربعين صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4904

【36】

حدود قائم کرنے کی ترغیب

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ زمین میں ایک حد کا نفاذ زمین والوں کے لیے چالیس دن کی بارش سے زیادہ بہتر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (حسن) (یہ موقوف حدیث حکم کے اعتبار سے مرفوع حدیث ہے ) قال الشيخ الألباني : حسن موقوف في حکم المرفوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4905

【37】

کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹا، جس کی قیمت پانچ درہم تھی، راوی نے اسی طرح کہا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٦٥٣) (صحیح) (لفظ ” ثلاثة “ کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی یہ راوی کا وہم ہے کہ ڈھال کی قیمت پانچ درہم تھی، صحیح یہ ہے کہ اس کی قیمت تین درہم تھی، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح بلفظ ثلاثة صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4906

【38】

کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال (چرانے) میں ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہی روایت صحیح اور درست ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4907

【39】

کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال (چرانے) پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ١٣ (٦٧٩٥) ، صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٦) ، سنن ابی داود/الحدود ١١ (٤٣٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٣٣) ، موطا امام مالک/الحدود ٧ (٢١) ، مسند احمد (٢/٦٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4908

【40】

کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا

عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترے سے ایک ڈھال چرائی، جس کی قیمت تین درہم تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٦) ، سنن ابی داود/الحدود ١١(٤٣٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٤٩٦) ، مسند احمد (٢/١٤٥) ، سنن الدارمی/الحدود ٤ (٢٣٤٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4909

【41】

کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ڈھال (چرانے) پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4910

【42】

کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا

انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال (چرانے) پر ہاتھ کاٹا۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : یہ غلط ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٣٨٨) (صحیح) (امام نسائی کے نزدیک انس سے مروی یہ مرفوع حدیث غلط ہے، اور صحیح اس سند سے ابوبکر رضی الله عنہ کی موقوف روایت ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، لیکن اصل حدیث ابن عمر سے مروی ہے، جو اوپر گزری اس لیے یہ حدیث بھی صحیح ہے، گرچہ انس رضی الله عنہ کی روایت پر امام نسائی کا کلام ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس سند سے اس حدیث کی مرفوع روایت خطا ہے، اور صحیح موقوف ہے، جیسا کہ حدیث رقم ( ٤٩١٦ ) سے واضح ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4911

【43】

کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا

انس (رض) کہتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے ایک ڈھال (چرانے) پر (چور کا) ہاتھ کاٹا جس کی قیمت پانچ درہم تھی ١ ؎۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) یہی روایت صحیح ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٩٠) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ ایک واقعہ ہے جس میں پانچ درہم مال کی چوری ہوئی تھی، اگر کم کی ہوئی ہوتی ( تین تک ) تو بھی ابوبکر (رض) ہاتھ کاٹتے، یا ان کو پچھلی حدیث نہیں پہنچی تھی۔ ٢ ؎: یعنی انس (رض) کی اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4912

【44】

کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا

انس (رض) کہتے ہیں کہ ابوبکر (رض) کے عہد میں ایک شخص نے ایک ڈھال چرائی، اس کی قیمت پانچ درہم لگائی گئی، تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4913

【45】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چوتھائی دینار میں (چور کا) ہاتھ کاٹا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٤٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: معلوم ہوا کہ چوتھائی دینار یعنی تین درہم یا اس سے زیادہ کی مالیت کا سامان اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کے بدلے ہاتھ کاٹا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4914

【46】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا جائے یعنی ایک تہائی دینار، یا آدھے دینار اور اس سے زیادہ میں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ١٤ (٦٧٩٠) ، صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٣) ، سنن ابی داود/الحدود ١١ (٤٣٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٩٥) (منکر) (اس کے راوی ” خالد “ حافظہ کے ضعیف ہیں، اور ان کی یہ روایت پچھلی اور اگلی صحیح روایات کے خلاف ہے ) قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4915

【47】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چور کا ہاتھ چوتھائی دینار میں کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ١٣ (٦٧٩٤) ، صحیح مسلم/الحدود ١ (القسامة ١٢) (١٦٨٣) ، سنن ابی داود/الحدود ١١ (٤٣٨٣) ، سنن الترمذی/الحدود ١٦(١٤٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٢ (٢٥٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٢٠) ، مسند احمد (٦/٨٠، ١٦٣) ، سنن الدارمی/الحدود ٤ (٢٣٤٦) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٩٢٢-٤٩٢٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4916

【48】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩١٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4917

【49】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٢٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4918

【50】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩١٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4919

【51】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٢٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4920

【52】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٢٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4921

【53】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چور کا ہاتھ ایک چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٩٤٦) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٩٢٧-٤٩٣١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4922

【54】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چور کا ہاتھ ایک چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4923

【55】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں (چور کا ہاتھ) کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یحییٰ کی (مرفوع) روایت سے یہ (یعنی موقوف روایت) زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف ولا ينافي المرفوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4924

【56】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4925

【57】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہاتھ کاٹنا چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4926

【58】

زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نہ بہت عرصہ گزرا اور نہ میں بھولی ہوں کہ ہاتھ کاٹنا چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4927

【59】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٥١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4928

【60】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

اس سند سے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے پہلی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٣٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4929

【61】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

عمرہ کہتی ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ہاتھ کاٹنا چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٣٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4930

【62】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت میں کاٹا جائے گا اور ڈھال کی قیمت چوتھائی دینار ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ١٤ (٦٧٩١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩١٦) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4931

【63】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٣٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4932

【64】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چور کا ہاتھ چوتھائی دینار میں کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٣٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4933

【65】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ڈھال (چوری کی قیمت) میں ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٩٩٦) (صحیح) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن پچھلی سن دوں سے یہ صحیح لغیرہ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4934

【66】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

عمرہ بنت عبدالرحمٰن بیان کرتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ڈھال سے کم قیمت کی چیز میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ، عائشہ سے کہا گیا : ڈھال کی قیمت کتنی ہے ؟ کہا : چوتھائی دینار۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٩٦، ١٨٧٩٢) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٩٤٠) ، ٤٩٤٣) (صحیح) (اس کے راوی ” ابن اسحاق “ مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں، لیکن باب کی سن دوں سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4935

【67】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4936

【68】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہاتھ اسی وقت کاٹا جائے گا جب وہ ڈھال یا اس کی قیمت کے برابر ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٣٦٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4937

【69】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہاتھ صرف ڈھال یا اس کی قیمت میں کاٹا جائے گا ۔ راوی عثمان بن ابی الولید بیان کرتے ہیں کہ عروہ نے کہا : ڈھال چار درہم کی ہوتی ہے۔ عثمان کہتے ہیں : میں نے سلیمان بن یسار کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے عمرہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عائشہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہاتھ صرف چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ وحدیث سلیمان بن یسار انظر حدیث رقم : ٤٩٣٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4938

【70】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ پانچ انگلیوں یعنی ہاتھ کو نہیں کاٹا جائے گا مگر پانچ درہم میں۔ ہمام کہتے ہیں : میں عبداللہ داناج سے ملا، انہوں نے سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ انہوں نے کہا : پانچ کو پانچ میں ہی کاٹا جائے گا۔ یعنی ہاتھ پانچ درہم میں کاٹا جائے گا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٣٩ (صحیح) (یہ اثر مرفوع حدیث کے مخالف ہے ) قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4939

【71】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حجفہ یا ترس یعنی ڈھال سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ان میں سے ہر ایک چیز قیمت والی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ١٤ (٦٧٩٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٩٧٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4941

【72】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پانچ درہم کی قیمت (والی چیز) میں ہاتھ کاٹا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٣٢٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” عیسیٰ بن ابی عزہ “ حافظہ کے کمزور ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4942

【73】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ایمن کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا مگر ایسی چیز میں جو ڈھال کی قیمت کے برابر ہو اور اس وقت ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٤٩) ، وأعادہ بالأرقام التالیة : ٤٩٤٧-٤٩٥٢ (منکر) (اس کے راوی ” ایمن “ صحابی نہیں ہیں، ایک مجہول تابعی ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف اور صحیح حدیث کی مخالف بھی ہے، اس لیے منکر ہے ) قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4943

【74】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ایمن کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ڈھال کی قیمت پر ہاتھ کاٹ دیا جاتا تھا اور اس وقت اس کی قیمت ایک دینار تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (منکر ) قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4944

【75】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ایمن کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہاتھ نہیں کاٹا گیا مگر ڈھال کی قیمت پر اور ڈھال کی قیمت اس وقت ایک دینار تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٤٦ (منکر ) قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4945

【76】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ایمن کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا گیا، اس وقت اس کی قیمت ایک دینار تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٤٦ (منکر ) قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4946

【77】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ایمن کہتے ہیں کہ چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت میں کاٹا جائے گا اور ڈھال کی قیمت رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک دینار یا دس درہم تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٤٦ (منکر ) قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4947

【78】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ایمن بن ام ایمن سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہاتھ ڈھال کی قیمت میں کاٹا جائے اور اس وقت اس کی قیمت ایک دینار تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٤٦ (منکر ) قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4948

【79】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

ایمن کہتے ہیں : ڈھال سے کم قیمت کی چیز میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٤٦ (منکر ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4949

【80】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

عطا بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس (رض) کہا کرتے تھے : اس وقت اس (ڈھال) کی قیمت دس درہم تھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٩٥١) (شاذ) (سند حسن ہے مگر صحیح مرفوع احادیث کے مخالف ہے ) قال الشيخ الألباني : شاذ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4950

【81】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

عبداللہ بن عباس (رض) سے اسی جیسی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ڈھال کی قیمت دس درہم لگائی جاتی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٨٨٥) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٩٥٥، ٤٩٥٦) (شاذ ) قال الشيخ الألباني : شاذ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4951

【82】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

اس سند سے عطاء سے مرسلاً روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (شاذ ) قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4952

【83】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

عطاء کہتے ہیں : کم سے کم جس میں ہاتھ کاٹا جائے گا ڈھال کی قیمت ہے، اور ڈھال کی قیمت اس وقت دس درہم تھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : ایمن جن کی حدیث ہم نے اوپر ذکر کی ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ صحابی تھے، ان سے ایک حدیث اور مروی ہے جو ہمارے خیال کی تائید کرتی ہے، (جو آگے آرہی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (منکر) (یہ اثر مرفوع حدیث کے مخالف ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف مقطوع مخالف للمرفوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4953

【84】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

کعب الاحبار کہتے ہیں کہ جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز ادا کی، (عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے، پھر نماز عشاء کی جماعت میں شریک ہوا) ، پھر اس کے بعد چار رکعتیں رکوع اور سجدہ کے اتمام کے ساتھ اور پڑھیں، اور جو کچھ قرأت کیا اسے سمجھا بھی تو یہ سب اس کے لیے شب قدر کے مثل باعث اجر ہوں گی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٤٩، ١٩٢٤١) (ضعیف) (اس کے راوی ” ایمن “ مجہول ہیں ) قال الشيخ الألباني : مقطوع موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4954

【85】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

کعب الاحبار کہتے ہیں کہ جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا پھر عشاء جماعت کے ساتھ پڑھی، پھر اسی جیسی چار رکعتیں قرأت اور رکوع، سجدہ کے اتمام کے ساتھ پڑھیں، تو اسے شب قدر جیسا اجر ملے گا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : مقطوع موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4955

【86】

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ ڈھال کی قیمت رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دس درہم تھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٧٩١) (شاذ) (سند حسن ہے، مگر صحیح احادیث کے خلاف ہے ) قال الشيخ الألباني : شاذ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4956

【87】

اگر کوئی شخص درخت پر لگے ہوئے پھل کی چوری کرلے؟

عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : ہاتھ کتنے میں کاٹا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : درخت پر لگے پھل میں نہیں کاٹا جائے گا، لیکن جب وہ کھلیان میں پہنچا دیا جائے تو ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور نہ پہاڑ پر چرنے والے جانوروں میں کاٹا جائے گا البتہ جب وہ اپنے رہنے کی جگہ میں آجائیں تو ڈھال کی قیمت میں کاٹا جائے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/اللقطة ١ (١٧١٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٥٥) مسند احمد (٢/١٨٦) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: درخت پر لگے پھلوں اور میدان میں چرتے جانوروں کی چوری پر ہاتھ اس لیے نہیں کاٹا جائے گا کہ یہ سب حرز ( محفوظ مقام ) میں نہیں ہوتے، کھلیان اور باڑہ حرز ( محفوظ مقام ) ہوتے ہیں، یہاں سے چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4957

【88】

جس وقت پھل درخت سے توڑ کر کھلیان میں ہو اور کوئی شخص اس کی چوری کرے؟

عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے درخت پر لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : جس ضرورت مند نے اسے کھالیا اور جمع کر کے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہے، اور جو اسے کھلیان میں جمع کیے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/اللقطة ١ (١٧١٠) ، الحدود ١٢ (٤٣٩٠) ، سنن الترمذی/البیوع ٥٤ (١٢٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٩٨) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4958

【89】

جس وقت پھل درخت سے توڑ کر کھلیان میں ہو اور کوئی شخص اس کی چوری کرے؟

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ مزینہ کے ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! پہاڑ پر چرنے والے جانوروں کے (چوری ہونے کے) بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا : (اگر کوئی ایسا جانور چوری کرے) تو اسے وہ جانور اور اس کے مثل ایک اور جانور دینا ہوگا اور سزا الگ ہوگی، لیکن چرنے والے جانوروں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا سوائے اس صورت میں کہ جانور اپنے رہنے کی جگہ میں لوٹ آئے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور جس کی قیمت ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچی ہو تو اس میں دوگنا تاوان ہوگا اور سزا کے کوڑے الگ ہوں گے۔ وہ بولا : اللہ کے رسول ! درخت میں لگے پھلوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا : (اس کی چوری کرنے پر) وہ پھل اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور پھل دینا ہوگا اور سزا الگ ہوگی۔ لیکن درخت پر لگے پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا سوائے اس صورت میں کہ وہ کھلیان تک لایا جا چکا ہو۔ لہٰذا جو کچھ وہ کھلیان سے لے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور جس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر نہ ہو تو اس میں دوگنا تاوان ہوگا اور سزا کے کوڑے الگ ہوں گے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٧٦٨، ٨٨١٠) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: اس لیے کہ درخت کی کھجوریں اور گا بے حرز میں نہیں ہوتے۔ قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4959

【90】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : نہ پھلوں کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ کھجور کے گا بے کے چرانے میں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٥٧٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4960

【91】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : نہ پھل میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ کھجور کے گا بے کے چرانے میں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٢ (٤٣٨٨، ٤٣٨٩) ، سنن الترمذی/الحدود ١٩ (١٤٤٩) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٧ (٢٥٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٨١) موطا امام مالک/الحدود ١١ (٣٢) ، مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤٦٤، و ٥/١٤٠، ١٤٢) ، سنن الدارمی/الحدود ٧ (٢٣٥٠، ٢٣٥٣، ٢٣٥٤) ، ویأتي بالأرقام التالیة : ٤٩٦٥-٤٩٦٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4961

【92】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : نہ پھل کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور نہ گا بے کے چرانے میں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٦٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4962

【93】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پھل کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا نہ گا بے کے چرانے میں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٦٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4963

【94】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

رافع بن خدیج (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہ پھل کے چرانے میں اور نہ گا بے کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٦٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4964

【95】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ پھل کے چرانے میں، اور نہ ہی گا بے کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٦٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4965

【96】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ پھل چرانے میں اور نہ گا با چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحدود ١٩ (١٤٤٩) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٧ (٢٥٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٨٨) ، موطا امام مالک/الحدود ١١ (٣٢) سنن الدارمی/الحدود ٧ (٢٣٥١، ٢٣٥٢) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٩٧٠-٤٩٧٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4966

【97】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : نہ پھل چرانے میں اور نہ کثر چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا ، اور کثر کھجور کے گا با (خوشہ) کو کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٦٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4967

【98】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پھل چرانے میں، اور نہ ہی گا با چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ غلط ہے، میں ابومیمون کو نہیں جانتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٦٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ابو میمون مجہول راوی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4968

【99】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : نہ پھل چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا، نہ گا با چرانے میں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٦٩(صحیح) (اس کی سند میں مبہم راوی ” واسع “ محمد بن یحییٰ کے چچا ہی ہیں ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4969

【100】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے سنا : نہ تو پھل چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور نہ ہی گا با چرانے میں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٦٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4970

【101】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : امانت میں خیانت کرنے والے، علانیہ لوٹ کرلے جانے اور اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ١ ؎۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) اسے سفیان نے ابو الزبیر سے نہیں سنا۔ (اس کی دلیل اگلی سند ہے ) تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٧٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: خیانت، اچک لینے اور چھین لینے میں اسی لیے ہاتھ کاٹنا نہیں ہے کہ ان سب کے اندر یہ ممکن ہے کہ ان کو انجام دینے والوں پر آسانی سے اور جلد قابو پایا جاسکتا ہے اور گواہی قائم کی جاسکتی ہے، برخلاف چوری کے، اس لیے کہ چوری کا جرم زیادہ سنگین ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لم يسمعه سفيان من أبي الزبير صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4971

【102】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : امانت میں خیانت کرنے والے، لوٹ لے جانے اور اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) اسے ابن جریج نے بھی ابو الزبیر سے نہیں سنا، (اس کے متعلق مؤلف کی وضاحت آگے آرہی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٣ (٤٣٩١) ، سنن الترمذی/الحدود ١٨ (١٤٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٦ (٢٥٩١) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٠) مسند احمد (٣/٣٨٠) ، سنن الدارمی/الحدود ٨ (٢٣٥٦) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٩٧٦، ٤٩٧٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح ولم يسمعه أيضا ابن جريج من أبي الزبير صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4972

【103】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اچک کرلے جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٧٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4973

【104】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

جابر (رض) کہتے ہیں کہ کسی خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : اس حدیث کو ابن جریج سے : عیسیٰ بن یونس، فضل بن موسیٰ ، ابن وہب، محمد بن ربیعہ، مخلد بن یزید اور سلمہ بن سعید، یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، نے روایت کیا ہے۔ ابن ابی صفوان کہتے ہیں - اور یہ سب اپنے زمانے کے سب سے بہتر آدمی تھے : ان میں سے کسی نے حدثنی ابوالزبیر یعنی مجھ سے ابوالزبیر نے بیان کیا نہیں کہا۔ اور میرا خیال ہے ان میں سے کسی نے ابوالزبیر سے اسے سنا بھی نہیں ہے، واللہ اعلم ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٧٥ (ضعیف) (اس کے مقابل صحیح مرفوع حدیث ہے) ۔ وضاحت : ١ ؎: لیکن اگلی سند کے مغیرہ بن مسلم کا ابوالزبیر سے سماع ثابت ہے، نیز اس حدیث کے دیگر صحیح شواہد بھی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف والصحيح مرفوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4974

【105】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ تو اچک کرلے جانے والے کا، نہ کسی لوٹنے والے کا، اور نہ ہی کسی خائن کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٩٦٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4975

【106】

جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟

جابر (رض) کہتے ہیں کہ کسی خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : اشعث بن سوار ضعیف ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٦٦٣) (ضعیف) (اس کے راوی ” اشعث “ ضعیف ہیں، لیکن پچھلی سند سے مرفوعاً یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف والصحيح مرفوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4976

【107】

ہاتھ کاٹنے کے بعد چور کا پاؤں کاٹنا کیسا ہے؟

حارث بن حاطب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا تو آپ نے فرمایا : اسے قتل کر دو ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے تو چوری کی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اسے قتل کر دو ۔ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے تو چوری کی ہے، آپ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ اس نے پھر چوری کی تو اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا، پھر اس نے ابوبکر (رض) کے عہد میں چوری کی یہاں تک کہ چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے، اس نے پھر پانچویں بار چوری کی تو ابوبکر (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہی اسے اچھی طرح جانتے تھے کہ انہوں نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پھر انہوں نے اسے قریش کے چند نوجوانوں کے حوالے کردیا تاکہ وہ اسے قتل کردیں۔ ان میں عبداللہ بن زبیر (رض) بھی تھے، وہ سرداری چاہتے تھے، انہوں نے کہا : مجھے اپنا امیر بنا لو، تو ان لوگوں نے انہیں اپنا امیر بنا لیا، چناچہ جب چور کو انہوں نے مارا تو سبھوں نے مارا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٢٧٦) (صحیح الإسناد) (یہ حکم منسوخ ہے ) وضاحت : ١ ؎: ابوہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی اس طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن کسی بھی امام کے نزدیک اس پر عمل نہیں ہے، وجہ اس کا منسوخ ہوجانا ہے جیسا کہ امام شافعی نے کہا ہے۔ قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4977

【108】

چور کے دونوں ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کا بیان

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک چور رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے فرمایا : اسے مار ڈالو ، لوگوں نے کہا : اس نے صرف چوری کی ہے ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : (اس کا دایاں ہاتھ) کاٹ دو ، تو کاٹ دیا گیا، پھر وہ دوسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا : اسے مار ڈالو ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے ؟ آپ نے فرمایا : (اس کا بایاں پاؤں) کاٹ دو ، چناچہ کاٹ دیا گیا، پھر وہ تیسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا : اسے مار ڈالو ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ نے فرمایا : (اس کا دایاں پاؤں) کاٹ دو ، پھر وہ چوتھی بار لایا گیا۔ آپ نے فرمایا : اسے مار ڈالو ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ نے فرمایا : (اس کا بایاں پاؤں) کاٹ دو ، وہ پھر پانچویں بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا : اسے مار ڈالو ، جابر (رض) کہتے ہیں : تو ہم اسے مربد نعم (جانور باندھنے کی جگہ) کی جانب لے کر چلے اور اسے لادا، تو وہ چت ہو کر لیٹ گیا پھر وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے بل بھاگا تو اونٹ بدک گئے، لوگوں نے اسے دوبارہ لادا اس نے پھر ایسا ہی کیا پھر تیسری بار لادا پھر ہم نے اسے پتھر مارے اور اسے قتل کردیا، اور ایک کنویں میں ڈال دیا پھر اوپر سے اس پر پتھر مارے۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے، مصعب بن ثابت حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ٢٠ (٤٤١٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٨٢) (حسن) (اس کے راوی ” مصعب “ ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، لیکن یہ حکم منسوخ ہے ) وضاحت : ١ ؎: لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، لیکن منسوخ ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4978

【109】

سفر میں ہاتھ کاٹنے سے متعلق

بسر بن ابی ارطاۃ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : سفر میں (چور کے) ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٨ (٤٤٠٨) ، سنن الترمذی/الحدود ٢٠ (١٤٥٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٠١٥) ، مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ترمذی اور مسند احمد میں السفر کی جگہ الغزو ( یعنی : غزوہ ) ہے، لہٰذا اس حدیث میں بھی سفر سے مراد غزو ہوگا، اور غزو مراد لینے کی وجہ سے اس میں اور عبادہ بن صامت (رض) کی مرفوع روایت أقیموا الحدود فی السفر والحضر میں کوئی تعارض باقی نہیں رہے گا۔ یعنی عبادہ (رض) میں وارد لفظ سفر سے عام سفر مراد ہے ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4979

【110】

سفر میں ہاتھ کاٹنے سے متعلق

ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو چاہے اس کی قیمت آدھا درہم ہی کیوں نہ ہو ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : عمر بن ابی سلمہ حدیث میں قوی نہیں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ٢٢ (٤٤١٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٥ (٢٥٨٩) ، تحفة الأشراف : ١٤٩٧٩) ، مسند احمد (٢/٣٣٦، ٣٣٧، ٣٥٦، ٣٨٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” عمر بن ابی سلمہ “ حافظہ کے کمزور ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث نہ تو صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی ظاہری مناسبت ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4980

【111】

مرد کے بالغ ہونے کی عمر اور مرد و عورت پر کس عمر میں حد لگائی جائے؟

عطیہ قرظی (رض) کہتے ہیں کہ میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں تھا، وہ لوگ دیکھتے جس کے زیر ناف کے بال اگ آئے ہوتے، اسے قتل کردیا جاتا، اور جس کے بال نہ اگے ہوتے، اسے چھوڑ دیا جاتا اور قتل نہ کیا جاتا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٤٦٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4981

【112】

چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا

ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید (رض) سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ سنت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا اور اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ٢١ (٤٤١١) ، سنن الترمذی/الحدود ١٧ (١٤٤٧) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٣(٢٥٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٢٩) مسند احمد (٦/١٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” حجاج بن ارطاة “ ضعیف اور ” عبدالرحمن بن محیریز “ مجہول ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4982

【113】

چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا

عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید (رض) سے کہا : کیا چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹا اور اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہیں، ان کی حدیث لائق حجت نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4983

【114】

چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا

عبدالرحمٰن بن عوف (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب حد قائم ہوجائے تو چوری کرنے والے پر تاوان لازم نہ ہوگا ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ مرسل (یعنی منقطع) ہے اور صحیح نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٧٢٥) (ضعیف) (اس کی سند میں مسور اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان انقطاع ہے ۔ ) وضاحت : ١ ؎: امام ابوحنیفہ کا قول اسی حدیث کے مطابق ہے، لیکن یہ حدیث منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، جمہور کے نزدیک حد قائم ہونے کے باوجود مسروقہ مال کا تاوان لیا جائے گا کیونکہ ایک مسلم کا مال دوسرے مسلم پر بغیر جائز اسباب کے حرام ہے ( جائز اسباب یعنی : خرید، ہدیہ و ہبہ، وراثت، مشاہرہ وغیرہ ) اس لیے چور سے لے کر چوری کا مال صاحب مال کو واپس کرنا ضروری ہے، اگر موجود ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ تاوان لیا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4984