35. حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

【1】

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حضرت صفوان بن امیہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ طاعون کی بیماری پیٹ یا ڈوب کر یا حالت نفاس میں مرجانا بھی شہادت ہے۔

【2】

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حضرت صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ جنگ حنین کے دن نبی ﷺ نے ان سے کچھ زرہیں عاریتا طلب کیں اس وقت تک صفوان مسلمان نہ ہوئے تھے انہوں نے پوچھا کہ اے محمد غصب کی نیت سے لے رہے ہو نبی ﷺ نے فرمایا نہیں عاریت کی نیت سے جس کا میں ضامن ہوں اتفاق سے ان میں سے کچھ زرہیں ضائع ہوگئیں نبی ﷺ نے انہیں اس تاوان کی پیش کش کی لیکن وہ کہنے لگے یا رسول اللہ آج مجھے اسلام میں زیادہ رغبت محسوس ہو رہی ہے۔

【3】

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حضرت صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ ان سے کسی نے کہہ دیا کہ جو شخص ہجرت نہیں کرتا وہ ہلاک ہوگیا یہ سن کر میں نے کہا میں اس وقت تک اپنے گھر نہیں جاؤں گا جب تک پہلے نبی ﷺ سے نہ مل آؤں چناچہ میں اپنی سواری پر سوار ہوا اور نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جس شخص نے ہجرت نہیں کی وہ ہلاک ہوگیا نبی ﷺ نے فرمایا اے ابو وہب ایسی کوئی بات ہرگز نہیں ہے تم واپس مکہ کے بطحاء میں چلے جاؤ۔ ابھی میں مسجد نبوی میں سو رہا تھا کہ ایک چور آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے کپڑانکال لیا اور چلتا بنا میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے پکڑ کر نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا اور عرض کیا کہ اس شخص نے میرا کپڑا چرایا ہے نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا یہ مقصد نہیں تھا کہ یہ کپڑا اس پر صدقہ ہے نبی ﷺ نے فرمایا تو نے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ صدقہ کیا۔

【4】

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حضرت صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے غزوہ حنین کے موقع پر مال غنیمت کا حصہ عطاء فرمایا قبل ازیں مجھے ان سے سب سے زیادہ بغض تھا لیکن آپ نے مجھ پر اتنی بخشش اور کرم نوازی فرمائی کہ وہ تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب ہوگئے۔

【5】

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حضرت صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ میں مسجد نبوی میں سو رہا تھا کہ ایک چور آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے کپڑا نکال لیا اور چلتا بنا میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے پکڑ کر نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا اور عرض کیا کہ اس شخص نے میرا کپڑا چرایا ہے نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اسے معاف کرتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا تو نے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ معاف کردیا پھر نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔

【6】

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حضرت صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ ان سے کسی نے کہہ دیا کہ جو شخص ہجرت نہیں کرتا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا یہ سن کر میں نے کہا میں اس وقت تک اپنے گھر نہیں جاؤں گا جب تک پہلے میں نبی ﷺ سے نہ مل لوں چناچہ میں اپنی سواری پر سوار ہوا اور نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جس شخص نے ہجرت نہیں کی وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا نبی ﷺ نے فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم نہیں رہا البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اس لئے جب تم سے نکلنے کے لئے کہا جائے تو تم نکل پڑو۔ پھر میں نے ایک آدمی کے متعلق عرض کیا کہ اس شخص نے میرا کپڑا چرایا ہے نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کپڑا اس پر صدقہ ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تو نے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ صدقہ کیا۔

【7】

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حضرت صفوان بن امیہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ طاعون کی بیماری پیٹ یا ڈوب کر یا حالت نفاس میں مرجانا بھی شہادت ہے۔

【8】

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حضرت صفوان بن امیہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ طاعون کی بیماری پیٹ یا ڈوب کر یا حالت نفاس میں مرجانا بھی شہادت ہے۔

【9】

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حضرت صفوان بن امیہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میں اپنے ہاتھ سے ہڈی سے گوشت اتار کر کھارہا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا صفوان میں نے عرض کیا لبیک فرمایا گوشت کو اپنے منہ کے قریب لے کر جاؤ ( اور منہ سے نوچ کر کھاؤ) کیونکہ یہ زیادہ خوشگوار اور زود ہضم ہے۔

【10】

حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

حضرت صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ میں مسجد نبوی میں سو رہا تھا کہ ایک چور آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے کپڑا نکال لیا اور چلتا بنا میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے پکڑ کر نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا اور عرض کیا کہ اس شخص نے میرا کپڑا چرایا ہے نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا تیس درہم کی چادر کے بدلے میں اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا یہ میں اسے ہبہ کرتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا تو نے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ صدقہ کردیا۔