717. حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

【1】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمرو بن عبسہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک بہت بوڑھا آدمی لاٹھی کے سہارے چلتا ہوا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے بڑے دھوکے دیئے ہیں اور بڑے گناہ کئے ہیں کیا میری بخشش ہوسکتی ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے سب دھوکے اور گناہ معاف ہوگئے۔

【2】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمروبن عبسہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عکاظ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس دین کے معاملے میں آپ کی پیروی کون لوگ کررہے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آزاد بھی اور غلام بھی اس وقت نبی کریم ﷺ کے ہمراہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت بلال (رض) تھے پھر نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا ابھی تم واپس چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو غلبہ عطاء فرمادے چناچہ کچھ عرصے بعد میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا اللہ مجھے آپ پر نثار کرے کچھ چیزیں ہیں جو آپ جانتے ہیں لیکن میں نہیں جانتا مجھے بتانے سے آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ پہنچادے گا کیا اوقات میں سے کوئی خاص وقت زیادہ افضل ہے ؟ کیا کوئی وقت ایسا بھی ہے جس میں نماز سے اجتناب کیا جائے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھا اللہ تعالیٰ درمیانی رات میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور شرک و بدکاری کے علاوہ سب گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اس وقت نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں لہٰذا تم طلوع آفتاب تک نماز پڑھتے رہوجب سورج طلوع ہوجائے تب بھی اس وقت تک نہ پڑھوجب تک کہ سورج بلند نہ ہوجائے، کیونکہ جب وہ طلوع ہوتا ہے شیطان کے دوسینگوں کے درمیان کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اسی وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں، البتہ جب وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہوجائے تو پھر نماز پڑھ سکتے ہو کیونکہ یہ نماز فرشتوں کی حاضری والی ہوتی ہے، یہاں تک کہ نیزے کا سایہ پیدا ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم کو دھکایا جاتا ہے البتہ جب سایہ ڈھل جائے تو تم نماز پڑھ سکتے ہو کیونکہ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو نماز عصر پڑھنے کے بعد غروب آفتاب تک نوافل پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دوسینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اسے اس وقت کفارسجدہ کرتے ہیں۔

【3】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمرو بن عبسہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں (قبول اسلام سے پہلے) حاضر ہوا اور پوچھا کہ آپ کے اس دین کی پیروی کرنے والے کون لوگ ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آزادبھی اور غلام بھی، مراد حضرت صدیق اکبر (رض) اور حضرت بلال (رض) تھے اور حضرت عمرو (رض) بعد میں کہتے ہیں کہ میں نے وہ زمانہ دیکھا ہے جب میں اسلام کا چوتھائی رکن تھا۔

【4】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمروبن عبسہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عکاظ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس دین کے معاملے میں آپ کی پیروی کون لوگ کررہے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آزادبھی اور غلام بھی اس وقت نبی کریم ﷺ کے ہمراہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت بلال (رض) تھے پھر نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا ابھی تم واپس چلے جاؤیہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبرکوغلبہ عطاء فرمادے چناچہ کچھ عرصے بعد میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا اللہ مجھے آپ پر نثار کرے کچھ چیزیں ہیں جو آپ جانتے ہیں لیکن میں نہیں جانتا مجھے بتانے سے آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ پہنچادے گا کیا اوقات میں سے کوئی خاص وقت زیادہ افضل ہے ؟ کیا کوئی وقت ایسا بھی ہے جس میں نماز سے اجتناب کیا جائے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھا اللہ تعالیٰ درمیانی رات میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور شرک و بدکاری کے علاوہ سب گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اس وقت نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں لہٰذاتم طلوع آفتاب تک نماز پڑھتے رہوجب سورج طلوع ہوجائے تب بھی اس وقت تک نہ پڑھوجب تک کہ سورج بلند نہ ہوجائے، کیونکہ جب وہ طلوع ہوتا ہے شیطان کے دوسینگوں کے درمیان کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اسی وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں، البتہ جب وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہوجائے تو پھر نماز پڑھ سکتے ہو کیونکہ یہ نماز فرشتوں کی حاضری والی ہوتی ہے، یہاں تک کہ نیزے کا سایہ پیدا ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم کو دہکایا جاتا ہے البتہ جب سایہ ڈھل جائے تو تم نماز پڑھ سکتے ہو کیونکہ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو نماز عصر پڑھنے کے بعد غروب آفتاب تک نوافل پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دوسینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اسے اس وقت کفار سجدہ کرتے ہیں۔

【5】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ (رض) فوج کو لے کرہ ارض روم کی طرف چل پڑے حضرت معاویہ (رض) اور رومیوں کے درمیان طے شدہ معاہدے کی کچھ مدت ابھی باقی تھی حضرت معاویہ (رض) نے سوچا کہ ان کے قریب پہنچ کر رک جاتے ہیں جوں ہی مدت ختم ہوگی ان سے جنگ شروع کردیں گے لیکن دیکھا کہ ایک شیخ سواری پر سواریہ کہتے جارہے ہیں " اللہ اکبر اللہ اکبر " وعدہ پورا کیا جائے عہد شکنی نہ کی جائے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص کا کسی قوم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو تو اسے مدت گذرنے سے پہلے یا ان کی طرف سے عہدشکنی سے پہلے اس کی گرہ کھولنی اور بند نہیں کرنی چاہئے حضرت معاویہ (رض) کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ واپس لوٹ گئے اور پتہ چلا کہ وہ شیخ حضرت عمروبن عبسہ (رض) تھے۔

【6】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

ابوامامہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمروبن عبسہ (رض) سے عرض کیا کہ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی بیشی یا وہم نہ ہو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حالت اسلام میں جس شخص کے یہاں تین بچے پیدا ہوں اور وہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہوجائیں، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو ان بچوں پر شفقت کی وجہ سے جنت میں داخل فرمادے گا۔ اور جو شخص اللہ کے راستہ میں بوڑھا ہوجائے تو وہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لئے باعث نور ہوگا۔ اور جو شخص کوئی تیر پھینکے " خواہ وہ نشانے پر لگے یا چوک جائے " تو یہ ایسے ہے جیسے کسی غلام کو آزاد کرنا۔ اور جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرائے اس کے ہر عضو کے بدلے میں وہ اس کے لئے جہنم سے آزادی کا پروانہ بن جائے گا اور جو شخص اللہ کے راستہ میں دو جوڑے خرچ کرتا ہے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔

【7】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

ابوطیبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شرحبیل بن سمط نے حضرت عمرو بن عبسہ (رض) کو بلایا اور کہا کہ اے ابن عبسہ (رض) ! آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنا سکتے ہیں جو آپ نے خود نبی کریم ﷺ سے سنی ہو، اس میں کوئی کمی بیشی یا جھوٹ نہ ہو اور آپ وہ کسی دوسرے سے نقل نہ کر رہے ہوں جس نے اسے نبی کریم ﷺ سے سنا ہو ؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے میری محبت طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرتے ان لوگوں کے لئے میری محبت طے شدہ ہے جو میری وجہ سے صف بندی کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے میری محبت طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں، ان لوگوں کے لئے میری محبت طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ خرچ کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے میری محبت طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ کی مدد کرتے ہیں۔

【8】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمرو بن عبسہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی تیر پھینکے " خواہ وہ نشانے پر لگے یا چوک جائے " تو یہ ایسے ہے جیسے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے کسی غلام کو آزاد کرنا۔ اور جو شخص اللہ کے راستہ میں بوڑھا ہوجائے تو وہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لئے باعث نور ہوگا۔ اور جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرائے اس کے ہر عضو کے بدلے میں وہ اس کے لئے جہنم سے آزادی کا پروانہ بن جائے گا اور جو عورت کسی مسلمان باندی کو آزاد کرے تو اس کے ہر عضو کے بدلے میں وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے فدیہ بن جائے گا۔ اور جس مسلمان مردیا عورت کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں، وہ جہنم کی آگ سے اس کے لئے آڑبن جائیں گے۔ اور جو شخص بھی وضو کرنے کے کھڑا ہو اور وہ نماز کا ارادہ رکھتا ہو اور تمام اعضاء وضو کا خوب اچھی طرح احاطہ کرے تو وہ ہر گناہ اور لغزش سے محفوظ ہوجائے گا پھر جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوگا تو اللہ اس کی برکت سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور جب وہ بیٹھے گا تو گناہوں سے سالم ہو کر بیٹھے گا۔ شرحبیل بن سمط نے کہا کہ اے ابن عبسہ ! کیا یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے آپ نے خود سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اگر میں نے سات مرتبہ تک ہی حدیث نبی کریم ﷺ سے نہ سنی ہوتی تو مجھے کوئی پرواہ نہ ہوتی اگر میں لوگوں سے یہ حدیث بیان نہ کرتا لیکن بخدا ! مجھے وہ تعداد یاد نہیں جتنی مرتبہ میں نے یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے سنی ہے۔

【9】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمرو بن عبسہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے مسجد کی تعمیر کرتا ہے تاکہ اس میں اللہ کا ذکر کیا جائے تو اللہ جنت میں اس کے لئے گھر تعمیر کردیتا ہے۔ اور جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرائے اس کے ہر عضو کے بدلے میں وہ اس کے لئے جہنم سے آزادی کا پروانہ بن جائے گا اور جو شخص اللہ کے راستہ میں بوڑھا ہوجائے تو وہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لئے باعث نور ہوگا۔

【10】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

شرحبیل بن سمط نے ایک مرتبہ حضرت عمروبن عبسہ (رض) سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی اضافہ یا بھول چوک نہ ہو، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرائے اس کے ہر عضو کے بدلے میں وہ اس کے لئے جہنم سے آزادی کا پروانہ بن جائے گا .

【11】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمرو بن عبسہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عرب کے دوسب سے بدترین قبیلے نجران اور بنو تغلب ہیں۔

【12】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمرو بن عبسہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قبیلہ سکون، سکاسک، خولان عالیہ اور املوک ردمان پر نزول رحمت کی دعاء فرمائی ہے۔

【13】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمرو بن عبسہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ایک اونٹنی کے تھن میں دودھ اترنے کی مقدار کے برابر بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے اللہ اس کے چہرے پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیتا ہے۔

【14】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمرو بن عبسہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کے سامنے گھوڑے پیش کئے جارہے تھے اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس عیینہ بن حصن بھی تھا نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا میں تم سے زیادہ عمدہ گھوڑے پہچانتا ہوں اس نے کہا کہ میں آپ سے بہتر، مردوں کو پہچانتا ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ کیسے ؟ اس نے کہا کہ بہترین مرد وہ ہوتے ہیں جو کندھوں پر تلوار رکھتے ہوں، گھوڑوں کی گردنوں پر نیزے رکھتے ہوں اور اہل نجد کی چادریں پہنتے ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم غلط کہتے ہو، بلکہ بہترین لوگ یمن کے ہیں، ایمان یمنی ہے لخم، جذام اور عاملہ تک یہی حکم ہے حمیر کے گذرے ہوئے لوگ باقی رہ جانے والوں سے بہتر ہیں حضرموت بنوحارث سے بہتر ہے ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر اور ایک قبیلہ دوسرے سے بدتر ہوسکتا ہے بخدا ! مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر دونوں حارث ہلاک ہوجائیں، چار قسم کے بادشاہوں پر اللہ کی لعنت ہو، (١) بخیل (٢) بدعہد (٣) بدمزاج (٤) کمزور لاغر اور انہیں میں بدخلق بھی شامل ہیں۔ پھر فرمایا کہ میرے رب نے مجھے دو مرتبہ قریش پر لعنت کرنے کا حکم دیا ہے چناچہ میں نے ان پر لعنت کردی پھر مجھے ان کے لئے دعاء رحمت کرنے کا دو مرتبہ حکم دیا تو میں نے ان کے لئے دعا کردی اور فرمایا کہ قبیلہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے سوائے قیس، جعدہ اور عصیہ کے نیز فرمایا کہ قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ میں ان کے مشترکہ خاندان قبیلے نجران اور بنوتغلب ہیں اور جنت میں سب سے زیادہ اکثریت والے قبیلے مذحج اور ماکول ہوں گے۔

【15】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمروبن عبسہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو رکعتیں کرکے پڑھی جائے اور رات کے آخری پہر میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【16】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمروبن عبسہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو رکعتیں کرکے پڑھی جائے اور رات کے آخری پہر میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔

【17】

حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات

حضرت عمرو بن عبسہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کے سامنے گھوڑے پیش کئے جارہے تھے اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس عیینہ بن حصن بھی تھا نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا میں تم سے زیادہ عمدہ گھوڑے پہچانتا ہوں اس نے کہا کہ میں آپ سے بہتر، مردوں کو پہچانتا ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ کیسے ؟ اس نے کہا کہ بہترین مرد وہ ہوتے ہیں جو کندھوں پر تلوار رکھتے ہوں، گھوڑوں کی گردنوں پر نیزے رکھتے ہوں اور اہل نجد کی چادریں پہنتے ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم غلط کہتے ہو، بلکہ بہترین لوگ یمن کے ہیں، ایمان یمنی ہے لخم، جذام اور عاملہ تک یہی حکم ہے حمیر کے گذرے ہوئے لوگ باقی رہ جانے والوں سے بہتر ہیں حضرموت بنوحارث سے بہتر ہے ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر اور ایک قبیلہ دوسرے سے بدتر ہوسکتا ہے بخدا ! مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر دونوں حارث ہلاک ہوجائیں، چار قسم کے بادشاہوں پر اللہ کی لعنت ہو، (١) بخیل (٢) بدعہد (٣) بدمزاج (٤) کمزور لاغر اور انہیں میں بدخلق بھی شامل ہیں۔