909. حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

【1】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے یوم عرفہ (نو ذی الحجہ) کے روزے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے پھر کسی نے یوم عاشورہ کے روزے کے متعلق پوچھا تو فرمایا یہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔

【2】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مقتول پر کوئی گواہ پیش کر دے (کہ اس کا قاتل وہ ہے) تو مقتول کا سارا سامان اسی کو ملے گا۔

【3】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ ﷺ نے حضرت زینب (رض) کی صاحبزادی امامہ یا امیمہ بنت ابی العاص کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم ﷺ جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے یہاں تک کہ اسی طرح نماز سے فارغ ہوگئے۔

【4】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قراءت فرماتے تھے۔

【5】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (کھجور کی مختلف اقسام کو) ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ علیحدہ علیحدہ ان کی نبیذ بنائی جاسکتی ہے۔

【6】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے برتن میں سانس لینے سے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ چھونے سے یا دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔

【7】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (بطور تحیۃ المسجد) پڑھ لینی چاہئیں۔

【8】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھتے ہوئے حضرت زینب (رض) کی صاحبزادی امامہ کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم ﷺ جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے۔

【9】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

ابوسلمہ (رح) کہتے ہیں کہ بعض اوقات مجھے ڈراؤنے خواب نظر آیا کرتے تھے لیکن میں انہیں اپنے اوپر بوجھ نہیں بناتا تھا یہاں تک کہ ایک دن حضرت ابو قتادہ (رض) سے ملاقات ہوگئی میں نے ان سے یہ چیز ذکر کی تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

【10】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک گورخر کا شکار کیا جبکہ وہ احرام میں نہیں تھے اور دیگر تمام حضرات محرم تھے لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔

【11】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی غزوہ حنین کے موقع پر میں نے ایک آدمی کو لڑنے کی دعوت دی نبی کریم ﷺ نے اس کا سازوسامان انعام میں مجھے دے دیا۔

【12】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) بلی کے لئے برتن کو جھکا دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ یہ تمہارے گھروں میں بار بار آنے والا جانور ہے۔

【13】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (بطور تحیۃ المسجد) پڑھ لینی چاہئیں۔

【14】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ یوم عرفہ (نو ذی الحجہ) کا روزہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【15】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ ﷺ نے حضرت زینب (رض) کی صاحبزادی امامہ بنت العاص کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم ﷺ جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے۔

【16】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔

【17】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے برتن میں سانس لینے سے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ چھونے سے یا دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔

【18】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یوم عرفہ (نو ذی الحجہ) کا روزہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔

【19】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو فرمایا یہ شخص آرام پانے والا ہے یا دوسروں کو اس سے آرام مل گیا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ اس کا کیا مطلب ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بندہ مؤمن دنیا کی تکالیف اور پریشانیوں سے نجات حاصل کر کے اللہ کی رحمت میں آرام پاتا ہے اور فاجر آدمی سے لوگ، شہر درخت اور درندے تک راحت حاصل کرتے ہیں۔

【20】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے ان کے روزے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ ناراض ہوئے اور یہ دیکھ کر حضرت عمر (رض) کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد ﷺ کو رسول مان کر راضی ہیں اور اسی پر ہم نے بیعت کی ہے پھر ایک دوسرے آدمی یا حضرت عمر (رض) نے ہی اٹھ کر پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر کوئی آدمی ہمیشہ روزے رکھے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا روزہ رکھنا اور نہ رکھنا دونوں برابر ہیں سائل نے پوچھا دو دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا کیسا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کی طاقت کس میں ہے سائل نے پوچھا کہ دو دن ناغہ کرنا اور ایک دن روزہ رکھنا کیسا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی نظروں میں یہ قابل تعریف ہو، سائل نے پوچھا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا کیسا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ تو میرے بھائی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا طریقہ ہے سائل نے پیر اور جمعرات کے روزے کے حوالے سے پوچھا ؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی، ہر مہینے میں تین روزے رکھ لینا اور پورے ماہ رمضان کے روزے رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے سائل نے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس سے گذشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے سائل نے یوم عاشورہ کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا اس سے گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔

【21】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو ! میرے حوالے سے کثرت کے ساتھ حدیث بیان کرنے سے بچو اور جو میری طرف نسبت کر کے کوئی بات کہے تو وہ صرف صحیح بات کہے اس لئے کہ جو شخص میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔

【22】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر اور عصر کی نماز میں کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے۔

【23】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز میں دوران تشہد بیٹھتے تو اپنا ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھتے اور انگلی سے اشارے کرتے۔ حدیث نمبر (٢٢٩٠٤) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【24】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کی راہ میں حال میں شہید ہوجاؤں کہ میں ثواب کی نیت سے ثابت قدم رہا ہوں آگے بڑھا ہوں پیچھے نہ ہٹا ہوں تو کیا اللہ اس کی برکت سے میرے سارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! اگر تم اسی طرح شہید ہوئے ہو تو اللہ تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا کچھ دیر گذرنے کے بعد اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو نبی کریم ﷺ نے یہی جواب دیا لیکن اس میں یہ استثناء کردیا کہ " قرض کے علاوہ " اور فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ابھی ابھی مجھے اسی طرح بتایا ہے۔

【25】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا اس نے اپنے پیچھے کوئی قرض چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں ! دو دینار، نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو پھر اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو، اس پر حضرت ابو قتادہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اس کا قرض میرے ذمے ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔

【26】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیع وشراء میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچا کرو کیونکہ اس سے سودا تو بک جاتا ہے لیکن اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے۔

【27】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیع وشراء میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچا کرو کیونکہ اس سے سودا تو بک جاتا ہے لیکن اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے۔

【28】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم پانی تک نہ پہنچے تو پیاسے رہ جاؤ گے چناچہ جلد باز لوگ پانی کی تلاش میں نکل گئے اور میں آپ ﷺ کے ساتھ ہی رہا اسی دوران رسول اللہ ﷺ اونگنے لگے آپ ﷺ اپنی سواری سے جھکے تو میں نے آپ ﷺ کو جگائے بغیر سہارا دے دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنی سواری پر سیدھے ہوگئے پھر اپنی سواری پر جھکے تو میں نے آپ کو جگائے بغیر سیدھا کیا یہاں تک کہ آپ اپنی سواری پر سیدھے ہوگئے پھر پہلے سے بھی زیادہ جھکے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ گرپڑیں میں پھر آیا اور آپ ﷺ کو سہارا دیا تو آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا ابو قتادہ، آپ ﷺ نے فرمایا تم کب سے اس طرح میرے ساتھ چل رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں ساری رات سے اسی طرح آپ کے ساتھ چل رہا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے جس طرح تم نے اللہ کے نبی ﷺ کی حفاظت کی ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ ہمیں پڑاؤ کرلینا چاہئے چناچہ نبی کریم ﷺ نے ایک درخت کے قریب پہنچ کر منزل کی پھر فرمایا تم کسی کو دیکھ رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا یہ ایک سوار ہے یہاں تک کہ سات سوار جمع ہوگئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ہماری نماز کا خیال رکھنا چناچہ ہم لوگ سو گئے اور سورج کی تمازت نے ہی ہمیں جگایا ہم بیدار ہوئے نبی کریم ﷺ سوار ہو کر وہاں سے چل دیئے ہم بھی آہستہ آہستہ چل پڑے، ایک جگہ پہنچ کر نبی کریم ﷺ نے پڑاؤ کیا اور فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! میرے وضو کے برتن میں تھوڑا سا پانی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ لے آؤ میں وہ پانی لایا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس سے وضو کرو۔ چناچہ سب لوگوں نے وضو کیا اور اس میں سے کچھ پانی بچ گیا پھر آپ ﷺ نے ابو قتادہ (رض) سے فرمایا کہ اس وضو کے پانی کے برتن کی حفاظت کرو کیونکہ اس سے عنقریب ایک عجیب خبر ظاہر ہوگی پھر حضرت بلال (رض) نے اذان دی پھر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ (رض) نے دو رکعتیں پڑھیں (سنت) پھر صبح کی نماز پڑھی (اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ سوار ہوئے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ سوار ہوئے ہم میں سے ایک آدمی نے دوسرے سے کہا کہ ہماری اس غلطی کا کفارہ کیا ہوگا جو ہم نے نماز میں کی کہ ہم بیدار نہیں ہوئے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم لوگ کیا کہہ رہے ہو ؟ اگر کوئی دنیوی بات ہے تو ٹھیک ہے اور اگر کوئی دینی مسئلہ ہے تو مجھے بھی بتاؤ، ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ ہم سے نماز میں تفریط ہوگئی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سونے میں کوئی تفریط نہیں بلکہ تفریط تو جاگنے میں ہوتی ہے۔ اگر کسی سے اس طرح ہوجائے تو اسے چاہیے کہ جس وقت بھی وہ بیدار ہوجائے نماز پڑھ لے اور جب اگلا دن آجائے تو وہ نماز اس کے وقت پر پڑھے پھر فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ دوسرے لوگوں نے کیا کیا ہوگا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ کل آپ نے خود ہی فرمایا تھا کہ اگر تم کل پانی تک نہ پہنچے تو پیاسے رہ جاؤ گے چناچہ لوگ پانی کی تلاش میں ہوں گے آپ ﷺ نے خود ہی فرمایا کہ جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے اپنے نبی کریم ﷺ کو نہ پایا لوگوں میں موجود حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ تمہارے پیچھے ہوں گے آپ ﷺ کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ آپ ﷺ تمہیں پیچھے چھوڑ جائیں اور خود پانی کی طرف سبقت لے جائیں اگر وہ لوگ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کی بات مان لیں گے تو وہ ہدایت پاجائیں تین مرتبہ فرمایا پھر ہم لوگوں کی طرف اس وقت پہنچے جس وقت دن چڑھ چکا تھا اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا لوگ کہنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ ہمیں تو پیاس نے ہلاک کردیا اور گردنیں ٹوٹنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا تم ہلاک نہیں ہوئے پھر فرمایا اے ابو قتادہ میرا چھوٹا پیالہ لاؤ میں وہ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا منہ کھولو میں اسے کھول کر لایا تو رسول اللہ ﷺ پانی (اس برتن سے) انڈیلنے لگے لوگ اس پر ٹوٹ پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو ! سکون سے رہو سب کے سب سیراب ہوجاؤ گے پھر لوگ سکون و اطمینان سے پانی پینے لگے یہاں تک کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کوئی بھی باقی نہ رہا پھر رسول اللہ ﷺ نے پانی ڈالا اور مجھ سے فرمایا ابو قتادہ ! پیو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ پہلے آپ پئیں آپ ﷺ نے فرمایا قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پیتا ہے تو پھر میں نے پیا اور رسول اللہ ﷺ نے میرے بعد پیا اور وضو کے اس برتن میں جتنا پانی پہلے تھا اب بھی اتنا ہی موجود تھا جبکہ اس سیراب ہونے والے لوگ تین سو تھے لوگ پانی پر مطمئن اور آسودہ آگئے عبداللہ کہتے ہیں کہ میں جامع مسجد میں اس حدیث کو بیان کرتا تھا ایک دن حضرت عمران بن حصین (رض) نے مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سن لیا انہوں نے پوچھا تم کون ہو ؟ میں نے اپنا نام بتایا عبداللہ بن رباح انصاری، انہوں نے فرمایا اے جوان ! ذرا غور کرو کیا بیان کر رہے ہو کیونکہ اس رات میں بھی ان سات میں سے ایک تھا پھر میں نے قوم سے پوری حدیث بیان کی، جب فارغ ہوا تو عمران کہنے لگے کہ میں نہیں سمجھتا تھا کہ میرے علاوہ بھی کسی کو یہ حدیث یاد ہوگی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【29】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اپنے گھر کی چھت پر حضرت ابو قتادہ (رض) کے ساتھ بیٹھے تھے اسی دوران ایک ستارہ ٹوٹا لوگ اسے دیکھنے لگے تو حضرت ابو قتادہ (رض) نے فرمایا ہمیں اس کے پیچھے اپنی نگاہوں کو دوڑانے سے منع کیا گیا ہے۔

【30】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ انصاری (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پیر کے روزے کے حوالے سے پوچھا ؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس دن میری پیدائش ہوئی اور اس دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔

【31】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں عبداللہ بن رباح آئے میں نے دیکھا کہ ان کے پاس بہت سے لوگ جمع ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں حضرت ابو قتادہ (رض) نے بتایا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے " جیش امراء " نامی لشکر کو روانہ کرتے ہوئے فرمایا تمہارے امیر زید بن حارثہ ہیں اگر زید شہید ہوجائیں تو جعفرامیرہوں گے اگر جعفر بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ انصاری امیر ہوں گے اس پر حضرت جعفر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میرا خیال نہیں تھا کہ آپ زید کو مجھ پر امیر مقرر کریں گے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم روانہ ہوجاؤ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس بات میں خیر ہے ؟ چناچہ وہ لشکر روانہ ہوگیا کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی کریم ﷺ منبر پر رونق افروز ہوئے اور " نماز تیار ہے " کی منادی کرنے کا حکم دیا اور فرمایا ایک افسوس ناک خبر ہے کیا میں تمہیں مجاہدین کے اس لشکر کے متعلق نہ بتاؤں ؟ وہ لوگ یہاں سے روانہ ہوئے اور دشمن سے آمنا سامنا ہوا تو زید شہید ہوگئے ان کے لئے بخشش کی دعاء کرو لوگوں نے ایسا ہی کیا پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا پکڑا اور دشمن پر سخت حملہ کیا حتٰی کہ وہ بھی شہید ہوگئے میں ان کی شہادت کی گواہی دیتا ہوں لہٰذا ان کی بخشش کے لئے دعاء کرو پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا پکڑا اور نہایت پامردی سے ڈٹے رہے حتیٰ کہ وہ بھی شہید ہوگئے ان کے لئے بھی استغفار کرو پھر خالد بن ولید نے جھنڈا پکڑ لیا گو کہ کسی نے انہیں امیر منتخب نہیں کیا تھا پھر نبی کریم ﷺ نے اپنی انگلی بلند کر کے فرمایا اے اللہ ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تو اس کی مدد فرما اسی دن سے حضرت خالد بن ولید (رض) کا نام " سیف اللہ " پڑگیا پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے کوچ کرو اور کوئی آدمی بھی پیچھے نہ رہے چناچہ اس سخت گرمی کے موسم میں لوگ پیدل اور سوار ہو کر روانہ ہوگئے۔

【32】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہا کرو، کیونکہ اللہ ہی زمانے کا خالق ہے۔

【33】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عمرو بن جموع (رض) جن کے پاؤں میں لنگراہٹ تھی " نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور شہید ہوجاؤں تو کیا میں صحیح ٹانگ کے ساتھ جنت میں چل پھر سکوں گا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! پھر غزوہ احد کے دن مشرکین نے انہیں، ان کے بھتیجے اور ایک آزاد کردہ غلام کو شہید کردیا نبی کریم ﷺ جب ان کے پاس سے گذرے تو فرمایا میں تمہیں اپنی اس ٹانگ کے ساتھ صحیح سالم جنت میں چلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں پھر نبی کئے ﷺ نے ان دونوں اور ان کے غلام کے متعلق حکم دیا اور لوگوں نے انہیں ایک ہی قبر میں دفن کردیا۔

【34】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے کسی کی نماز جنازہ پڑھائی میں بھی موجود تھا، میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ موجود اور غیر موجود چھوٹوں اور بڑوں اور مرد و عورت کو معاف فرما۔ ابو سلمہ نے اس میں یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ اے اللہ ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت عطاء فرما۔

【35】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب کبھی نماز جنازہ کے لئے بلایا جاتا تو پہلے اس کے متعلق لوگوں کی رائے معلوم کرتے تھے اگر لوگ اس کا تذکرہ اچھائی کے ساتھ کرتے تو نبی کریم ﷺ کھڑے ہوجاتے اور اس کی نماز پڑھا دیتے اور اگر برائی کے ساتھ تذکرہ ہوتا تو اس کے اہل خانہ سے فرما دیتے اسے لے جاؤ اور خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو اور نبی کریم ﷺ اس کی نماز نہ پڑھاتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【36】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ایسی عورت کے بستر پر بیٹھے جس کا شوہر غائب ہو، اللہ اس پر قیامت کے دن ایک اژد ہے کو مسلط فرما دے گا۔

【37】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص بغیر کسی مجبوری کے تین مرتبہ جمعہ کی نماز چھوڑ دے اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔

【38】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنے مقروض کو مہلت دے دے یا اسے معاف کر دے تو وہ قیامت کے دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوگا۔

【39】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【40】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بہترین گھوڑا وہ ہوتا ہے جو مکمل سیاہ ہو اور اس کی پیشانی پر درہم برابر سفید نشان ہو، ناک بھی سفید ہو اور تین پاؤں بھی سفید ہوں اور صرف دایاں ہاتھ باقی بدن کی مانند ہو، اگر سیاہ رنگ میں ایسا گھوڑا نہ مل سکے تو پھر اسی تفصیل کے ساتھ وہ گھوڑا سب سے بہتر ہے جو کمیت ہو۔

【41】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ایسی عورت کے بستر پر بیٹھے جس کا شوہر غائب ہو، اللہ اس پر قیامت کے دن ایک اژد ہے کو مسلط فرما دے گا۔

【42】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور کوئی سورت ملاتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے فجر کی نماز میں پہلی رکعت لمبی پڑھاتے تھے۔

【43】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

【44】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب پیشاب کرے تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور جب تم میں سے کوئی کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے۔

【45】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں عبداللہ بن رباح آئے میں نے دیکھا کہ ان کے پاس بہت سے لوگ جمع ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں " فارس رسول " حضرت ابو قتادہ (رض) نے بتایا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے " جیش امراء " نامی لشکر کو روانہ کرتے ہوئے فرمایا تمہارے امیر زید بن حارثہ ہیں اگر زید شہید ہوجائیں تو جعفر امیر ہوں گے اگر جعفر بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ انصاری امیر ہوں گے اس پر حضرت جعفر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میرے خیال نہیں تھا کہ آپ زید کو مجھ پر امیر مقرر کریں گے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم روانہ ہوجاؤ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس بات میں خیر ہے ؟ چنانچہ وہ لشکر روانہ ہوگیا کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی کریم ﷺ منبر پر رونق افروز ہوئے اور " نماز تیار ہے " کی منادی کرنے کا حکم دیا اور فرمایا ایک افسوس ناک خبر ہے کیا میں تمہیں مجاہدین کے اس لشکر کے متعلق نہ بتاؤں ؟ وہ لوگ یہاں سے روانہ ہوئے اور دشمن سے آمنا سامنا ہوا تو زید شہید ہوگئے ان کے لئے بخشش کی دعاء کرو لوگوں نے ایسا ہی کیا پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا پکڑا اور دشمن پر سخت حملہ کیا حتٰی کہ وہ بھی شہید ہوگئے میں ان کی شہادت کی گواہی دیتا ہوں لہٰذا ان کی بخشش کے لئے دعاء کرو پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا پکڑا اور نہایت پامردی سے ڈٹے رہے حتیٰ کہ وہ بھی شہید ہوگئے ان کے لئے بھی استغفار کرو پھر خالد بن ولید نے جھنڈا پکڑ لیا گو کہ کسی نے انہیں امیر منتخب نہیں کیا تھا پھر نبی کریم ﷺ نے اپنی انگلی بلند کر کے فرمایا اے اللہ ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تو اس کی مدد فرما اسی دن سے حضرت خالد بن ولید (رض) کا نام " سیف اللہ " پڑگیا پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے کوچ کرو اور کوئی آدمی بھی پیچھے نہ رہے چناچہ اس سخت گرمی کے موسم میں لوگ پیدل اور سوار ہو کر روانہ ہوگئے۔

【46】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے مکہ مکرمہ کے کسی راستے میں وہ اپنے کچھ محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے لیکن وہ خود احرام کی حالت میں نہ تھے انہوں نے ایک گورخر دیکھا تو جلدی سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوگئے اور اپنے ساتھیوں سے اپنا کوڑا مانگا لیکن انہوں نے انکار کردیا پھر نیزا مانگا انہوں نے وہ دینے سے بھی انکار کردیا بالآخر انہوں نے خود ہی نیچے اتر کر اسے پکڑا اور گورخر کی طرف تیزی سے دوڑ پڑے اور اسے شکار کرلیا جسے کچھ صحابہ کرام (رض) نے کھالیا اور کچھ نے کھانے سے انکار کردیا جب وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے تو اس کے متعلق سوال کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ کھانا تو اللہ ہی نے تمہیں کھلایا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس کا گوشت بچا ہے ؟

【47】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال نبی کریم ﷺ عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے اس سفر میں ابو قتادہ (رض) نے احرام باندھا تھا اور نبی کریم ﷺ کو پہلے ہی بتادیا گیا تھا کہ " غیقہ " نامی جگہ میں دشمن سے آمنا سامنا ہوسکتا ہے پھر نبی کریم ﷺ روانہ ہوگئے میں بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ چلا جا رہا تھا کہ اچانک وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے میں نے جب غور کیا تو مجھے ایک جنگلی گدھا نظر آیا میں نے ان سے مدد کی درخواست کی لیکن انہوں نے محرم ہونے کی وجہ سے میری مدد کرنے سے انکار کردیا۔

【48】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قراءت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قراءت فرماتے تھے۔

【49】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیع وشراء میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچا کرو کیونکہ اس سے سودا تو بک جاتا ہے لیکن اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے۔

【50】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو کیونکہ اس پر کسی کا قرض ہے اس پر حضرت ابو قتادہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اس کا قرض میرے ذمے ہے نبی کریم ﷺ نے پوچھا مکمل ؟ انہوں نے عرض کیا جی مکمل چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اور اس پر اٹھارہ انیس درہم کا قرض تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا پورے قرض کے ضامن بنتے ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں !

【51】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے میں نے ایک گورخر دیکھا توجلدی سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور اپنا نیزہ پکڑا اور اسے شکار کرلیا جسے کچھ صحابہ (رض) نے جو حالت احرام میں تھے " کھالیا بعد میں وہ خوف کا شکار ہوگئے میں نے یا کسی اور نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اشارہ کیا تھا ؟ یا تعاون کیا تھا ؟ یا گھات لگائی تھی ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا نہیں تو نبی کریم ﷺ نے وہ کھانے کی اجازت دے دی۔

【52】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم پانی تک نہ پہنچے تو پیاسے رہ جاؤ گے چناچہ جلد باز لوگ پانی کی تلاش میں نکل گئے اور میں آپ ﷺ کے ساتھ ہی رہا اسی دوران رسول اللہ ﷺ اونگنے لگے آپ ﷺ اپنی سواری سے جھکے تو میں نے آپ ﷺ کو جگائے بغیر سہارا دے دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنی سواری پر سیدھے ہوگئے پھر اپنی سواری پر جھکے تو میں نے آپ کو جگائے بغیر سیدھا کیا یہاں تک کہ آپ اپنی سواری پر سیدھے ہوگئے پھر پہلے سے بھی زیادہ جھکے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ گرپڑیں میں پھر آیا اور آپ ﷺ کو سہارا دیا تو آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا ابو قتادہ، آپ ﷺ نے فرمایا تم کب سے اس طرح میرے ساتھ چل رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں ساری رات سے اسی طرح آپ کے ساتھ چل رہا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے جس طرح تم نے اللہ کے نبی ﷺ کی حفاظت کی ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ ہمیں پڑاؤ کرلینا چاہئے چناچہ نبی کریم ﷺ نے ایک درخت کے قریب پہنچ کر منزل کی پھر فرمایا تم کسی کو دیکھ رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا یہ ایک سوار ہے یہاں تک کہ سات سوار جمع ہوگئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ہماری نماز کا خیال رکھنا چناچہ ہم لوگ سو گئے اور سورج کی تمازت نے ہی ہمیں جگایا ہم بیدار ہوئے نبی کریم ﷺ سوار ہو کر وہاں سے چل دیئے ہم بھی آہستہ آہستہ چل پڑے، ایک جگہ پہنچ کر نبی کریم ﷺ نے پڑاؤ کیا اور فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! میرے وضو کے برتن میں تھوڑا سا پانی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ لے آؤ میں وہ پانی لایا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس سے وضو کرو۔ چناچہ سب لوگوں نے وضو کیا اور اس میں سے کچھ پانی بچ گیا پھر آپ ﷺ نے ابو قتادہ (رض) سے فرمایا کہ اس وضو کے پانی کے برتن کی حفاظت کرو کیونکہ اس سے عنقریب ایک عجیب خبر ظاہر ہوگی پھر حضرت بلال (رض) نے اذان دی پھر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ (رض) نے دو رکعتیں پڑھیں (سنت) پھر صبح کی نماز پڑھی (اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ سوار ہوئے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ سوار ہوئے ہم میں سے ایک آدمی نے دوسرے سے کہا کہ ہماری اس غلطی کا کفارہ کیا ہوگا جو ہم نے نماز میں کی کہ ہم بیدار نہیں ہوئے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم لوگ کیا کہہ رہے ہو ؟ اگر کوئی دنیوی بات ہے تو ٹھیک ہے اور اگر کوئی دینی مسئلہ ہے تو مجھے بھی بتاؤ، ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ ہم سے نماز میں تفریط ہوگئی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سونے میں کوئی تفریط نہیں بلکہ تفریط تو جاگنے میں ہوتی ہے۔ اگر کسی سے اس طرح ہوجائے تو اسے چاہیے کہ جب وقت بھی وہ بیدار ہوجائے نماز پڑھ لے اور جب اگلا دن آجائے تو وہ نماز اس کے وقت پر پڑھے پھر فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ دوسرے لوگوں نے کیا کیا ہوگا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ کل آپ نے خود ہی فرمایا تھا کہ اگر تم کل پانی تک نہ پہنچے تو پیاسے رہ جاؤ گے چناچہ لوگ پانی کی تلاش میں ہوں گے آپ ﷺ نے خود ہی فرمایا کہ جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے اپنے نبی کریم ﷺ کو نہ پایا لوگوں میں موجود حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ تمہارے پیچھے ہوں گے آپ ﷺ کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ آپ ﷺ تمہیں پیچھے چھوڑ جائیں اور خود پانی کی طرف سبقت لے جائیں اگر وہ لوگ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کی بات مان لیں گے تو وہ ہدایت پاجائیں تین مرتبہ فرمایا پھر ہم لوگوں کی طرف اس وقت پہنچے جس وقت دن چڑھ چکا تھا اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا لوگ کہنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ ہمیں تو پیاس نے ہلاک کردیا اور گردنیں ٹوٹنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا تم ہلاک نہیں ہوئے پھر فرمایا اے ابو قتادہ میرا چھوٹا پیالہ لاؤ میں وہ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا منہ کھولو میں اسے کھول کر لایا تو رسول اللہ ﷺ پانی (اس برتن سے) انڈیلنے لگے لوگ اس پر ٹوٹ پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو ! سکون سے رہو سب کے سب سیراب ہوجاؤ گے پھر لوگ سکون و اطمینان سے پانی پینے لگے یہاں تک کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کوئی بھی باقی نہ رہا پھر رسول اللہ ﷺ نے پانی ڈالا اور مجھ سے فرمایا ابو قتادہ ! پیو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ پہلے آپ پئیں آپ ﷺ نے فرمایا قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پیتا ہے تو پھر میں نے پیا اور رسول اللہ ﷺ نے میرے بعد پیا اور وضو کے اس برتن میں جتنا پانی پہلے تھا اب بھی اتنا ہی موجود تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے ان کی تعداد پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ حضرات ابوبکر و عمر (رض) کے ساتھ اسی آدمی تھے اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہم بارہ آدمی تھے۔

【53】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے ایک جنازہ گذرا تو فرمایا یہ شخص آرام پانے والا ہے یا دوسرے کو اس سے آرام مل گیا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ آرام پانے والے کا کیا مطلب ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بندہ مؤمن دنیا کی تکالیف اور پریشانیوں سے نجات حاصل کر کے اللہ کی رحمت میں آرام پاتا ہے ہم نے پوچھا کہ " دوسروں کو اس سے آرام مل گیا " کا کیا مطلب ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا فاجر آدمی سے لوگ، شہر، درخت اور درندے تک راحت حاصل کرتے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【54】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں کو پلانے والا خود سب سے آخر میں پیتا ہے۔

【55】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (بطور تحیۃ المسجد) پڑھ لینی چاہئیں۔

【56】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ ﷺ نے حضرت زینب (رض) کی صاحبزادی امامہ کو اپنے کندھے پر اٹھا رکھا تھا نبی کریم ﷺ جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے۔

【57】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

کبشہ بنت کعب جو حضرت ابو قتادہ (رض) کے بیٹے کے نکاح میں تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو قتادہ (رض) ان کے یہاں آئے کبشہ نے ان کے لئے وضو کا پانی رکھا اسی دوران ایک بلی آئی اور اسی برتن میں سے پانی پینے لگی حضرت ابو قتادہ (رض) نے اس کے لئے برتن ٹیڑھا کردیا، یہاں تک کہ بلی سیراب ہوگئی انہوں نے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو فرمایا بھتیجی ! کیا تمہیں اس سے تعجب ہو رہا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ یہ تمہارے گھروں میں بار بار آنے والا جانور ہے۔

【58】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔ حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے ان کے روزے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ ناراض ہوئے یہ دیکھ کر حضرت عمر (رض) کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد ﷺ کو رسول مان کر راضی ہیں پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔

【59】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

ابو سلمہ (رح) کہتے ہیں کہ بعض اوقات مجھے ڈراؤنے خواب نظر آیا کرتے تھے جو مجھے بیمار کردیتے تھے ایک دن حضرت ابو قتادہ (رض) سے ملاقات ہوگئی میں نے ان سے یہ چیز ذکر کی تو انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات میں بھی ایسے خواب دیکھا کرتا تھا جو مجھے بیمار کردیتے تھے حتیٰ کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص اچھا خواب دیکھے تو صرف اسی سے بیان کرے جس سے وہ محبت کرتا ہو اور جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

【60】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے آپ ﷺ نے حضرت زینب (رض) کی صاحبزادی امامہ بنت العاص کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم ﷺ جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے۔

【61】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام (رض) کے درمیان کھڑے ہو کر جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ پر ایمان لانے کا تمام اعمال میں افضل ہونا ذکر فرمایا تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر نبی کریم ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہوجاؤں تو کیا اللہ اس کی برکت سے میرے سارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! اگر تم اللہ کے راستہ میں اس طرح شہید ہوئے ہو کہ تم ثواب کی نیت سے ثابت قدم رہے ہو آگے بڑھے ہو اور پیچھے نہ ہٹے ہو تو اللہ تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا کچھ دیرگذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا تھا ؟ اس نے دوبارہ یہی سوال دہرایا تو نبی کریم ﷺ نے یہی جواب دیا لیکن اس میں یہ استثناء کردیا کہ " قرض کے علاوہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے اسی طرح بتایا ہے۔

【62】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا اس نے اپنے پیچھے کوئی قرض چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں ! دو دینار نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو پھر اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو، اس پر حضرت قتادہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اس کا قرض میرے ذمے ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔

【63】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔

【64】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یوم عرفہ (نو ذی الحجہ) کا روزہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے اور یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔

【65】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ ﷺ نے حضرت زینب (رض) کی صاحبزادی امامہ کو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا نبی کریم ﷺ جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ تعین بھی ہے کہ یہ فجر کی نماز کا واقعہ ہے۔

【66】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال نبی کریم ﷺ عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے میں بھی ہمراہ تھا لیکن اس سفر میں میں نے احرام نہیں باندھا تھا البتہ میرے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا راستے میں مجھے ایک جنگلی گدھا نظر آیا میں نے خود ہی اس پر حملہ کیا اور اسے شکار کرلیا میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ میں نے ایک گورخر شکار کیا ہے اور یہ بھی کہ میں نے احرام نہیں باندھا تھا اور یہ کہ میں نے شکار آپ کے لئے کیا ہے نبی کریم ﷺ نے لوگوں سے فرمایا اسے کھاؤ جبکہ نبی کریم ﷺ نے اسے خود تناول نہیں فرمایا کیونکہ میں نے انہیں بتایا تھا کہ یہ شکار میں نے ان کے لئے کیا ہے۔

【67】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ (رض) مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں حضرت ابو قتادہ (رض) سے ملاقات ہوئی ؟ وہ کہنے لگے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے تم میرے بعد ترجیحات کا سامنا کرو گے حضرت معاویہ (رض) نے پوچھا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے آپ کو اس موقع کے لئے کیا حکم دیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں صبر کرنے کا حکم دیا تھا حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا کہ پھر آپ لوگ صبر کریں۔

【68】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو فرمایا یہ شخص آرام پانے والا ہے یا دوسرے کو اس سے آرام مل گیا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ ﷺ آرام پانے والے کا کیا مطلب ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بندہ مؤمن دنیا کی تکالیف اور پریشانیوں سے نجات حاصل کر کے اللہ کی رحمت میں آرام پاتا ہے ہم نے پوچھا کہ " دوسروں کو اس سے آرام مل گیا " کا کیا مطلب ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا فاجر آدمی سے لوگ شہر، درخت اور درندے تک راحت حاصل کرتے ہیں۔

【69】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

ابو سلمہ (رح) کہتے ہیں کہ بعض اوقات مجھے ڈراؤنے خواب نظر آیا کرتے تھے لیکن میں انہیں اپنے اوپر بوجھ نہیں بناتا تھا یہاں تک کہ ایک دن حضرت ابو قتادہ (رض) سے ملاقات ہوگئی میں نے ان سے یہ چیز ذکر کی تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

【70】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (بطور تحیۃ المسجد) پڑھ لینی چاہئیں۔

【71】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور کوئی سورت ملاتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے فجر کی نماز میں پہلی رکعت لمبی پڑھاتے تھے۔

【72】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور کوئی سورت ملاتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے فجر کی نماز میں پہلی رکعت لمبی پڑھاتے تھے۔ اور نبی کریم ﷺ فرماتے تھے کہ جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔

【73】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور کوئی سورت ملاتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے فجر کی نماز میں پہلی رکعت لمبی پڑھاتے تھے۔

【74】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

ابو سلمہ (رح) کہتے ہیں کہ " جو نبی کریم ﷺ کے صحابی اور شہسوار تھے " نے فرمایا حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

【75】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں کو پلانے والا خود سب سے آخر میں پیتا ہے۔

【76】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا نیند میں تفریط نہیں ہوتی، اس کا تعلق تو بیداری کے ساتھ ہوتا ہے۔

【77】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو نبی کریم ﷺ لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے میں بھی جاکر مجلس میں بیٹھ گیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے سے کس چیز نے روکا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو بیٹھے ہوئے دیکھا اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے نظر آئے اس لئے میں بھی بیٹھ گیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے۔

【78】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بعض اوقات میں نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور میرا ارادہ ہوتا ہے کہ لمبی نماز پڑھاؤں گا لیکن پھر کسی بچے کے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے تو اپنی نماز مختصر کردیتا ہوں تاکہ اس کی ماں کیلئے یہ چیز دشواری کا سبب نہ بن جائے۔

【79】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے چند صحابہ (رض) کے ہمراہ تھا ان میں ایک آدمی کے علاوہ باقی سب محرم تھے اس آدمی کو ایک شکار نظر آیا اس نے اپنا کوڑا پکڑ کر اس پر حملہ کیا اور اسے شکار کرلیا پھر اس نے بھی اسے کھایا اور ہم نے بھی کھایا اور ہم نے اس میں سے کچھ زاد راہ کے طور پر بچا بھی لیا جب ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے تو عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ فلاں آدمی احرام کی حالت میں نہیں تھا اس نے شکار کیا جسے اس نے بھی کھایا اور ہم نے بھی اور اب بھی ہمارے پاس اس میں سے تھوڑا سا گوشت موجود ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اسے کھا سکتے ہو۔ حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں اپنے کسی عمرے کے موقع پر " سیف البحر " کی طرف لشکر کے ساتھ روانہ فرمایا اور ہم سے یہ طے کرلیا کہ مقام " قدید " میں ملاقات ہوگی چناچہ ہم روانہ ہوگئے ہم میں سے کچھ لوگ محرم اور کچھ غیر محرم تھے غیر محرموں میں میں بھی شامل تھا پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا کہ اس میں سے یہ دستی بچی ہے جسے میں نے خوب اچھی طرح بھون کر پکایا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے لے کر آؤ میں وہ لے کر حاضر خدمت ہوا تو نبی کریم ﷺ اسے دانتوں سے نوچ کر کھانے لگے (کہ یہ زود ہضم ہوتا ہے) جبکہ نبی کریم ﷺ حالت احرام میں تھے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوگئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【80】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھ لے گا یا یہ کہ اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【81】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابوقتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے میدان جنگ میں ایک مسلمان اور ایک مشرک دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا پھر اچانک ایک مشرک پر نظر پڑی جو اپنے مشرک ساتھی کی مسلمان کے خلاف مدد کے لئے آگے بڑھ رہا تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس کے ہاتھ پر وار کیا جس سے اس کا ہاتھ کٹ گیا اس نے دوسرے ہاتھ سے میری گردن دبوچ لی اور بخدا ! اس نے مجھے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک مجھے موت کی دستک محسوس نہ ہوئی اور اگر اس کا خون اتنا زیادہ نہ بہتا تو وہ مجھے قتل کر کے ہی دم لیتا بہرحال وہ گرگیا اور میں نے اسے مار کر قتل کردیا اور خود بدحال ہوگیا ادھر اہل مکہ میں سے ایک آدمی اس کے پاس سے گذرا اور اس کا سارا سازوسامان لے کر چلتا بنا۔ جب ہم لوگ فارغ ہوئے اور جنگ کے شعلے بجھ گئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی کافر کو قتل کیا ہو اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے ایک شخص کو قتل کیا ہے جس کے پاس بہت زیادہ سازوسامان تھا لیکن میں اسے قتل کرنے کے بعد بہت بدحال ہوگیا تھا اس لئے مجھے پتہ نہیں چل سکا کہ اس کا سامان کون اتار کرلے گیا ایک آدمی " جو اہل مکہ میں سے تھا " کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ سچ کہتا ہے اس کا سامان میں لے گیا تھا اس لئے آپ اس کے سامان کے حوالے سے انہیں میری طرف سے کچھ اور دے کر خوش کر دیجئے ( اور یہ سامان میرے پاس ہی رہنے دیں) یہ سن کر حضرت صدیق اکبر (رض) نے فرمایا تم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر " اللہ کے راستہ میں قتال کرتا ہے " کا سامان تقسیم کرنا چاہتے ہو ؟ اسے اس کا سامان واپس کرو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابوبکر نے سچ کہا تم اس کے مقتول کا سامان واپس کردو، چناچہ میں نے اسے حاصل کر کے آگے فروخت کردیا اور اس کی قیمت سے میں نے مدینہ منورہ میں ایک باغ خرید لیا جو کہ سب سے پہلا مال تھا جسے میں نے خریدا تھا۔

【82】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ کچھ لوگوں کے دوڑنے کی آواز سنائی دی نبی کریم ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر انہیں بلایا اور پوچھا کہ کیا ماجرا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم جلدی جلدی نماز میں شریک ہونا چاہتے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایسا مت کیا کرو، جب نماز کے لئے آیا کرو تو اطمینان اور سکون کو اپنے اوپر لازم رکھا کرو جتنی نماز مل جائے اتنی پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔

【83】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو سعید (رض) سے مروی ہے کہ مجھ سے بہتر آدمی نے مجھ سے بیان کیا نبی کریم ﷺ جب خندق کھودنے لگے تو حضرت عمار (رض) کے سر کو جھاڑتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ ابن سمیہ ! افسوس کہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کر دے گا۔

【84】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمار (رض) سے فرمایا کہ ابن سمیہ ! تمہیں ایک باغی گروہ شہید کر دے گا۔

【85】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر پر روانہ ہوئے رات کے وقت ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر تھوڑی دیر کے لئے پڑاؤ کرلیں تو بہتر ہوگا نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ تم نماز کے وقت سوتے رہے تو ہمیں نماز کے لئے کون جگائے گا ؟ حضرت بلال (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں جگاؤں گا چناچہ نبی کریم ﷺ نے پڑاؤ کرلیا اور ہم سب لیٹ گئے حضرت بلال (رض) بھی اپنی سواری سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور ان کی آنکھ بھی لگ گئی نبی کریم ﷺ کی آنکھ اس وقت کھلی جب سورج طلوع ہوچکا تھا نبی کریم ﷺ نے حضرت بلال (رض) کو جگا کر فرمایا بلال ! وہ بات کہاں گئی جو تم نے ہم سے کہی تھی ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھ پر ایسی نیند کبھی طاری نہیں ہوئی نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا اپنے قبضے میں رکھا اور جب چاہا واپس لوٹا دیا پھر لوگوں کو حکم دیا تو وہ قضا حاجت کے لئے منتشر ہوگئے وضو کیا اور جب سورج بلند ہوگیا تو نبی کریم ﷺ نے انہیں نماز فجر پڑھا دی۔

【86】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دستے کو غیقہ اور ودان کی طرف بھیجا نبی کریم ﷺ محرم تھے لیکن ابو قتادہ (رض) نے احرام نہیں باندھا تھا اچانک مجھے ایک جنگلی گدھا نظر آیا میں نے ان سے کوڑا پکڑانے کی درخواست کی لیکن انہوں نے محرم ہونے کی وجہ سے میری مدد کرنے سے انکار کردیا ابو قتادہ (رض) نے اچک کر ان میں سے کسی کا کوڑا پکڑا اور اس گورخر کو شکار کرلیا لوگوں نے اسے کھایا اور جب مقام ابواء میں نبی کریم ﷺ سے ملاقات ہوئی تو عرض کیا کہ ہم نے ایسا کام کیا ہے جس کی حقیقت ہمیں معلوم نہیں ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہمیں بھی اس میں سے کھلاؤ۔

【87】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔

【88】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک کافر کو قتل کیا تو نبی کریم ﷺ نے اس کا سازوسامان اور زرہ انہیں دے دی جسے انہوں نے پانچ اوقیہ کے عوض بیچ دیا۔

【89】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو برسر منبر انصار کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یاد رکھو ! لوگ میرے لئے اوپر کا کپڑا ہیں اور انصار میرے لئے نیچے کا کپڑا ہیں (جو جسم سے ملا ہوتا ہے) اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کے راستے پر چلوں گا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، اس لئے جو شخص انصار کے معاملات کا ذمہ دار بنے اسے چاہئے کہ ان نیکو کاروں سے اچھا سلوک کرے اور ان کے گنہگاروں سے تجاوز کرے اور جو شخص خوفزدہ کرتا ہے وہ اس شخص کو خوفزدہ کرتا ہے جو ان دو ستونوں کے درمیان ہے یعنی خود نبی کریم ﷺ کی ذات کو۔

【90】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس کے مشابہہ کوئی کلمہ فرمایا کہ عرفہ کا روزہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے اور یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔

【91】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور کوئی سورت ملاتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے فجر کی نماز میں پہلی رکعت لمبی پڑھاتے تھے۔

【92】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کچی اور پکی کھجور کشمش اور کجھور سرخ کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【93】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے کسی کی نماز جنازہ پڑھائی میں بھی موجود تھا، میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ موجود اور غیر موجود چھوٹوں اور بڑوں اور مرد و عورت کو معاف فرما۔ ابو سلمہ نے اس میں یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ اے اللہ ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت عطاء فرما۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【94】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ انصاری (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گذشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے سائل نے یوم عاشورہ کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔

【95】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔

【96】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) کا ایک آدمی پر قرض تھا وہ اس سے تقاضا کرنے کے لئے جاتے تو وہ چھپ جاتا ایک دن وہ اس کے گھر پہنچے تو ایک بچہ وہاں سے نکلا انہوں نے اس بچے سے اس کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ ہاں ! وہ گھر میں ہیں اور کھانا کھا رہے ہیں حضرت ابو قتادہ (رض) نے اس کا نام لے کر اسے آواز دی کہ باہر آؤ، مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم اندر ہی ہو وہ باہر آیا تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم مجھ سے کیوں چھپتے پھر رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں تنگدست ہوں اور میرے پاس کچھ نہیں ہے انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم کھا کر کہو کہ تمہارے پاس کچھ نہیں ہے ؟ اس نے کہا کہ واقعی ایسا ہی ہے اس پر حضرت ابو قتادہ (رض) رو پڑے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے مقروض کو مہلت دے دے یا اس کا قرض معاف کر دے تو وہ قیامت کے دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوگا۔

【97】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک گورخر کا شکار کیا جب وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے تو اس کے متعلق سوال کیا نبی کریم ﷺ حالت احرام تھے انہوں نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ بچا ہے ؟ پھر نبی کریم ﷺ نے اسے تناول فرمایا یا لوگوں کو کھانے کی اجازت دے دی۔

【98】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں سے پوچھا کیا تم میرے پیچھے نماز میں قرأت کرتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں ! نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایسا مت کیا کرو الاّ یہ کہ سورت فاتحہ پڑھ لو۔

【99】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کی راہ میں حال ہی میں شہید ہوجاؤں کہ میں ثواب کی نیت سے ثابت قدم رہاہوں آگے بڑھا ہوں پیچھے نہ ہٹا ہوں تو کیا اللہ اس کی برکت سے میرے سارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! اگر تم اسی طرح شہید ہوئے ہو تو اللہ تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا کچھ دیر گذرنے کے بعد اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو نبی کریم ﷺ نے یہی جواب دیا لیکن اس میں یہ استثناء کردیا کہ " قرض کے علاوہ " اور فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ابھی ابھی مجھے اسی طرح بتایا ہے۔

【100】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قرأت فرماتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【101】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کچی اور پکی کھجور کشمش اور کجھور سرخ کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【102】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور حرہ میں پانی کے گھاٹ کے قریب حضرت سعد (رض) کی زمین میں نماز پڑھی، پھر فرمایا اے اللہ ! تیرے خلیل، بندے اور نبی ابراہیم (علیہ السلام) نے تجھ سے اہل مکہ کے لئے دعاء مانگی تھی اور میں تیرے بندہ، نبی اور رسول محمد ﷺ تجھ سے اہل مدینہ کے لئے اس طرح دعاء مانگ رہا ہوں کہ تو ان کے صاع مد اور پھلوں میں برکت عطاء فرما، اے اللہ ! ہماری نظروں میں مدینہ کو بھی اس طرح محبوب بنا جیسے مکہ مکرمہ کی محبت ہمیں عطاء فرمائی ہے اور یہاں کی وباؤں کو " خم " کی طرف منتقل فرما اے اللہ میں مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں جیسے تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی زبانی مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا۔

【103】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اور دیگر صحابہ کرام (رض) نماز کے لئے کھڑے ہوئے نماز پڑھی اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کل بھی اس نماز کو اس وقت پڑھنا۔

【104】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کبھی رات کے وقت کہیں پڑاؤ ڈالتے تو دائیں پہلو پر لیٹا کرتے تھے اور اگر صبح صادق سے تھوڑی ہی دیرپہلے پڑاؤ کیا ہوتا تو اپنی کہنیوں کو زمین پر ٹکا کر اپنا سر دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھ لیتے تھے (تاکہ نیند نہ آئے )

【105】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔

【106】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے۔

【107】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابوقتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

【108】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

کبشہ بنت کعب جو حضرت ابو قتادہ (رض) کے بیٹے کے نکاح میں تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو قتادہ (رض) ان کے یہاں آئے کبشہ نے ان کے لئے وضو کا پانی رکھا اسی دوران ایک بلی آئی اور اسی برتن میں سے پانی پینے لگی حضرت ابو قتادہ (رض) نے اس کے لئے برتن ٹیڑھا کردیا، یہاں تک کہ بلی سیراب ہوگئی انہوں نے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو فرمایا بھتیجی ! کیا تمہیں اس سے تعجب ہو رہا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ یہ تمہارے گھروں میں بار بار آنے والا جانور ہے۔

【109】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

کبشہ بنت کعب جو حضرت ابو قتادہ (رض) کے بیٹے کے نکاح میں تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو قتادہ (رض) ان کے یہاں آئے کبشہ نے ان کے لئے وضو کا پانی رکھا اسی دوران ایک بلی آئی اور اسی برتن میں سے پانی پینے لگی حضرت ابو قتادہ (رض) نے اس کے لئے برتن ٹیڑھا کردیا، یہاں تک کہ بلی سیراب ہوگئی انہوں نے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو فرمایا بھتیجی ! کیا تمہیں اس سے تعجب ہو رہا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ یہ تمہارے گھروں میں بار بار آنے والا جانور ہے۔

【110】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور جب پیشاب کرے تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے۔

【111】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو ! میرے حوالے سے کثرت کے ساتھ حدیث بیان کرنے سے بچو اور جو میری طرف نسبت کر کے کوئی بات کہے تو وہ صرف صحیح بات کہے اس لئے کہ جو شخص میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【112】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔

【113】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سب سے بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ انسان نماز میں کس طرح چوری کرسکتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس طرح کہ رکوع و سجود اچھی طرح مکمل نہ کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【114】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

【115】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ ﷺ نے حضرت زینب (رض) کی صاحبزادی امامہ یا امیمہ بنت ابی العاص کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم ﷺ جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے یہاں تک کہ اسی طرح نماز سے فارغ ہوگئے۔

【116】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (کھجور کی مختلف اقسام کو) ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ علیحدہ علیحدہ ان کی نبیذ بنائی جاسکتی ہے۔

【117】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور جب پیشاب کرے تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے۔

【118】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قرأت فرماتے تھے۔

【119】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو اور اپنے اوپر سکون و اطمینان کو لازم کرلو۔

【120】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ انصاری (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! اگر کوئی آدمی ہمیشہ روزے رکھے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا روزہ رکھنا اور نہ رکھنا دونوں برابر ہیں سائل نے پوچھا دو دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا کیسا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کی طاقت کس میں ہے سائل نے پوچھا کہ دو دن ناغہ کرنا اور ایک دن روزہ رکھنا کیسا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی نظروں میں یہ قابل تعریف ہو، سائل نے پوچھا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا کیسا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ تو میرے بھائی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا طریقہ ہے سائل نے پیر اور جمعرات کے روزے کے حوالے سے پوچھا ؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی، ہر مہینے میں تین روزے رکھ لینا اور پورے ماہ رمضان کے روزے رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے سائل نے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس سے گذشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے سائل نے یوم عاشورہ کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا اس سے گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔

【121】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ ﷺ نے حضرت زینب (رض) کی صاحبزادی امامہ یا امیمہ بنت ابی العاص کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم ﷺ جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے یہاں تک کہ اسی طرح نماز سے فارغ ہوگئے۔

【122】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (بطور تحیۃ المسجد) پڑھ لینی چاہئیں۔

【123】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہا کرو، کیونکہ اللہ ہی زمانے کا خالق ہے۔

【124】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قرأت فرماتے تھے۔

【125】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور جب پیشاب کرے تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے۔

【126】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

عبداللہ بن ابی طلحہ (رح) سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ بائیں ہاتھ سے نہ کھائے جب پیئے تو بائیں ہاتھ سے نہ پیئے جب کوئی چیز پکڑے تو بائیں ہاتھ سے نہ پکڑے اور جب کوئی چیز دے تو بائیں ہاتھ سے نہ دے۔

【127】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی فوت ہوگیا ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ وہ اس کا جنازہ پڑھا دیں نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے کہا واللہ اس نے کچھ نہیں چھوڑا نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا اس نے اپنے اوپر کوئی قرض چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں اٹھارہ درہم نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لئے بھی کچھ چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے کہا واللہ اس نے کچھ نہیں چھوڑا نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر تم خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو، حضرت ابو قتادہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر میں اس کا قرض ادا کر دوں تو کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں گے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم اس کا پورا قرض ادا کردو تو میں اس کا جنازہ پڑھا دوں گا چناچہ حضرت ابو قتادہ (رض) نے جا کر اس کا قرض ادا کردیا نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا سارا قرض ادا کردیا ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ! تو نبی کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔

【128】

حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) کی مرویات

حضرت ابو قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قرأت فرماتے تھے۔